0
Friday 20 Sep 2019 11:15

کشمیریوں کے بغیر بھارت کے ساتھ مذاکرات نہ کیے جائیں، راجہ فاروق

کشمیریوں کے بغیر بھارت کے ساتھ مذاکرات نہ کیے جائیں، راجہ فاروق
اسلام ٹائمز۔ وزیراعظم آزادکشمیر نے آزادی کشمیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب تک آزادکشمیر حکومت اور حریت کانفرنس پر مشتمل چھتری نہیں بنائی جاتی جو بیرون ملک جا کر اپنا مقدمہ پیش کرے اس وقت تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہو سکتا، کشمیری کبھی پاکستان کو دھوکہ نہیں دے گا۔ کشمیریوں کے بغیر بھارت کے ساتھ مذاکرات نہ کیے جائیں، کشمیریوں کو حق حاصل ہے کہ وہ غاصب کے خلاف آزادی کی جدوجہد کسی بھی طریقے سے کریں۔ وزیراعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدرنے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پانچ اگست کو مودی نے جو اقدامات کیے، دفعہ 370 جواہرلعل نہرو نے شیخ عبداللہ کی فیس سیونگ کے لیے آئین میں شامل کی، یہ عجب ستم ظریفی ہے کہ ان میں ترامیم کا حق ہندوستان کے صدر کے پاس تھا کسی اور کے پاس نہیں  اس دفعہ میں اتنی ترامیم کی گئی کہ یہ غیر اہم ہو گئی تھی۔35۔اے 1927ء میں مہاراجہ ہری سنگھ کو اس کی قوم نے مجبورکیا کہ وہ ایسا قانون بنائے کہ اس کے لوگ محفوظ ہو سکیں، انہیں خدشہ تھا کہ دہلی کے بنیا ریاست کشمیر کی اراضی پر قابو ہو جائیں گے، چال یہ تھی کہ چھ لاکھ غیرمسلم 1947ء میں جموں میں جا کر بس گئے اگرچہ انہیں ریاستی اسمبلی میں ووٹ ڈالنے کا حق نہیں تھا اب وہ چھ لاکھ ریاست جموں و کشمیر کے باشندے بن جائیں گے۔ چھ نومبر1947ء کو پندرہ دن میں ڈھائی لاکھ مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا اور ساڑھے تین لاکھ افراد نے پاکستان کی طرف ہجرت کی۔

انہوں نے کہا کہ مودی کی یہ چال ہے کہ کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرے۔ کشمیر کا غیر ریاستی باشندہ اس وقت گورنر ہے جس کے پاس قانون سازی کے تمام تر اختیارات ہیں وہ جموں میں ہندو اکثریت دلا کر کشمیر کا چیف ایگزیکٹو بنانا چاہتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سنٹرل ریزرو پولیس بدترین پولیس کی نشانی ہے۔ کشمیریوں کو حق حاصل ہے کہ وہ غاصب کے خلاف آزادی کی جدوجہد کسی بھی طریقے سے شروع کریں، آزادی سے قبل ریاست جموں و کشمیر میں ہندو مسلم اکٹھے رہتے تھے۔ اس وقت کشمیر میں فوج اور نیم فوجی دستے نو لاکھ ہیں آج کشمیر میں لاک ڈائون اور کرفیو کا 46 واں دن ہے، کشمیری نوجوان نے بتایا کہ پانچ اگست کے بعد ہمیں ذلت کی زندگی گزارنے پر مجبور کیاجا رہا ہے وہ کشمیریوں کے اندر سے جذبہ حریت ختم کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کشمیری مائیں، بہنیں اپنا دروازہ کھول کر پوچھتی ہیں کہ پاک فوج آ گئی ہے کہ ہماری عزتوں کو بچائیں؟ مملکت پاکستان کی ذمے داری ہے کہ وہ کشمیریوں کی مدد کرے۔

راجہ فاروق نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ آسام میں اٹھارہ انیس لاکھ مسلمانوں کو بے وطن کر دیاگیا ہے، مقبوضہ کشمیرمیں نوے لاکھ لوگوں کو مقیدکر دیا گیا ہے یہ دنیا کی سب سے بڑی جیل ہے۔ کشمیر کا تنازعہ ہندوستان پاکستان کے درمیان زمین کاتنازعہ نہیں ہے یہ ریاست کشمیریوں کا معاملہ ہے ہمارا بنیادی حق رائے شماری ہے ہمیں ابھی کسی نظریاتی بحث میں الجھنا نہیں ہے اس سے ہمیں نقصان ہو گا، ہندوستان کو مجبور کیا جائے کہ وہ کشمیریوں کا حق دے، شملہ معاہدے کے بعد یہ مسئلہ دو طرفہ بن گیا ہے یہ کشمیریوں کے ساتھ زیادتی ہو گی کہ وہ کشمیریوں کے بغیر بھارت کے ساتھ مذاکرات کرے، وفاقی حکومت نے یقین دہانی کروائی ہے کہ ایسا نہیں ہو گا۔
خبر کا کوڈ : 817249
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے