0
Thursday 26 Sep 2019 01:37
ایرانی صدر کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب

پابندیوں کے سائے میں مذاکرات قبول نہیں، ڈاکٹر حسن روحانی

سعودی عرب کی سلامتی یمن پر مسلط کردہ جنگ کے خاتمے کیساتھ مربوط ہے
پابندیوں کے سائے میں مذاکرات قبول نہیں، ڈاکٹر حسن روحانی
اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب کے شروع میں سیدالشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کے لازوال قیام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اپنی تقریر کے آغاز میں چاہتا ہوں کہ حسینؑ بن علیؑ کی تحریکِ حرّیت کو یاد کرتے ہوئے یمن، شام، مقبوضہ فلسطین، افغانستان، عراق اور دوسرے ممالک میں آج اپنے حقوق کے حصول کی جدوجہد میں سختیاں برداشت کرنے والوں اور بمباریوں اور دہشتگردانہ اقدامات میں شہید ہو جانیوالوں کو سلام پیش کروں۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے مشرق وسطیٰ کی تازہ ترین صورتحال کیطرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ جنگ، خونریزی، جارحیت، قبضہ، فرقہ وارانہ جنگوں اور شدت پسندی کی آگ میں جل رہا ہے جبکہ اس تمامتر صورتحال سے سب سے زیادہ مظلوم فلسطینی قوم متاثر ہوئی ہے، جس کے خلاف تبعیض، زمینوں کا چھین لیا جانا، یہودی بستیوں کی تعمیر اور قتل و غارت اپنے عروج پر ہے، جبکہ صدی کی ڈیل، بیت المقدس کو صیہونی رژیم کا دارالحکومت قرار دینا اور شام کی گولان ہائیٹس کو غاصب صیہونی رژیم اسرائیل کے ساتھ ملحق کرنے جیسے مذموم امریکی-صیہونی منصوبوں کا انجام شکست ہے، جس کے برعکس خطے کی سلامتی اور دہشتگردی سے مقابلے کیلئے علاقائی و عالمی سطح پر اسلامی جمہوریہ ایران کا تعاون اور اقوامِ عالم کی مدد فیصلہ کن ثابت ہوئی ہے۔

ایرانی صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے ایران پر عائد امریکی پابندیوں کیطرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ میں ایک ایسے ملک سے آرہا ہوں، جس نے پچھلے ڈیڑھ سال سے زیادہ عرصے سے بےرحمانہ اور بدترین اقتصادی دہشتگردی کا مقابلہ کرنے کیساتھ ساتھ اپنے حق خود مختاری اور علمی و تکنیکی ترقی کا بھی بھرپور دفاع کیا ہے جبکہ امریکی حکومت نے اپنی سرحدی حدود سے باہر کی پابندیاں عائد کرنے اور دوسرے ممالک کیطرف سے ایران کو دھمکانے کے ذریعے ایران کو عالمی اقتصادی منڈیوں سے نکال باہر کرنے اور اپنے بینکی نظام کے ذریعے (ایرانی مال و دولت پر) بین الاقوامی ڈاکہ ڈالنے کی مذموم کوشش کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم ایسے فریق کیطرف سے گفتگو کی دعوت کے سچ ہونے پر یقین نہیں کرسکتے، جو اس بات پر فخر کرتا ہے کہ اس نے ایرانی قوم کے وقار اور معیشت پر تاریخ کی سخت ترین پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین اور بچوں سمیت 8 کروڑ 30 لاکھ سے زائد ایرانی شہریوں کی زندگی کیخلاف (اقتصادی دہشتگردی جیسے) جرائم کا ارتکاب اور زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کا عمل کیسے امریکی حکام کیلئے احسن اور قابل فخر ہوسکتا ہے؟ ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا کہ امریکی حکومت کیطرف سے جوہری معاہدے (JCPOA) سے یکطرفہ خروج نہ صرف اقوام متحدہ کی قرارداد نمبر 2231 کی خلاف ورزی ہے بلکہ تمامتر ممالک کی سیاسی و اقتصادی خود مختاری کیخلاف بھی کھلی جارحیت ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے امریکہ کیطرف سے جوہری معاہدے سے یکطرفہ خروج کے بعد دوبارہ مذاکرات کے نئے مطالبے کیطرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں دوبارہ گفتگو کی میز کیطرف بلایا جا رہا ہے، درحالیکہ وہ خود اپنے کئے ہوئے معاہدے سے دستبردار ہوچکے ہیں! ہم نے امریکہ کی اسی حالیہ حکومت کیساتھ 5+1 مذاکرات مکمل کئے جبکہ وہ اپنے کئے ہوئے معاہدوں سے پھر گئی۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنی قوم کی نمائندگی میں یہ کہتا ہوں کہ پابندیوں کے سائے میں ملنے والی مذاکرات کی دعوت پر ہمارا جواب "انکار" ہے جبکہ ایرانی قوم و حکومت ڈیڑھ سال سے شدید ترین پابندیوں کے سامنے قیام کئے ہوئے ہے اور ایک ایسے دشمن کیساتھ جو بھوک، دباؤ اور پابندیوں کے ذریعے ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا چاہتا ہے، ہرگز مذاکرات نہیں کریں گی۔

ایرانی صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے خلیج فارس میں ناامنی کی صورتحال کیطرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ میرا ملک خلیج فارس کی حفاظت پر مشتمل اپنی تاریخی ذمہ داری کی بناء پر ان تمام ممالک کو جو خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں امن و امان اور استحکام میں آنیوالی تبدیلیوں سے براہ راست متاثر ہوتے ہیں، "امید اتحاد" HOPE (Hormoz Peace Endeavor) میں شمولیت کی دعوت دیتا ہے، تاکہ امن و امان، استحکام، ترقی اور پیشرفت میں اضافے کیساتھ ساتھ آبنائے ہرمز کے اردگرد موجود تمام ممالک آپس میں صلح آمیز اور دوستانہ تعلقات بھی استوار کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں باہر کی قوتوں کی کمان میں کسی بھی عنوان سے بننے والا اتحاد خطے کے امور میں بیرونی مداخلت کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس خطے کا امن و امان امریکی فوجوں کے وہاں سے نکل جانے سے برقرار ہوتا ہے، نہ کہ امریکی اسلحے اور مداخلت کے ذریعے، کیونکہ امریکہ 18 سالہ جنگ کے باوجود خطے میں کسی قسم کے دہشتگردانہ اقدامات میں کمی نہ لا سکا، لیکن اسلامی جمہوریہ ایران نے اپنی ہمسایہ اقوام کی مدد سے داعش کے فتنے پر قابو پا کر اُسے نیست و نابود کر دیا ہے۔

صدر اسلامی جمہوریہ ایران ڈاکٹر حسن روحانی نے خطے میں کھلی امریکی مداخلت کیطرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ یہاں موجود ہے، نہ کہ مشرق وسطیٰ میں۔ امریکہ کسی دوسری قوم کا وکیل یا کسی دوسرے ملک کی حکومت کا کفیل نہیں ہے۔ کوئی حکومت کسی دوسرے ملک کو اپنی وکالت یا اپنی کفالت کا حق نہیں دیتی۔ اگر آج جنگ کی آگ کے شعلے یمن سے لیکر حجاز تک پھیل گئے ہیں تو اس آگ کو بجھانا چاہیئے، نہ یہ کہ اس کی آڑ میں بےگناہ فریقوں پر تہمت لگا کر اپنے کینے کی آگ کو بجھانا شروع کر دیا جائے۔ سعودی عرب کی سلامتی اس کیطرف سے یمن پر مسلط کردہ جنگ کے خاتمے میں ہے، نہ غیر ملکیوں کو اپنے ملک میں دعوت دینے میں۔ ہم صلح کیلئے اپنی تمامتر صلاحیتیں بروئے کار لانے کو تیار ہیں۔

جزیرۃ العرب میں صلح، خلیج فارس میں امن و امان اور مشرق وسطیٰ میں استحکام کے راہِ حل کی تلاش ہمیں خود مشرق وسطیٰ کے اندر ہی کرنی چاہیئے، نہ کہ بیرونی عوامل میں۔ خطے کے مسائل اس بات سے زیادہ بڑے اور اہم ہیں کہ امریکہ (جیسا نااہل ملک) اُنہیں حل کرے، کیونکہ وہ ایک ایسا ملک ہے جو افغانستان، عراق اور شام میں شدت پسندی، طالبان اور داعش کا تحفہ دینے علاوہ کسی مسئلے کا حل نہیں دے سکا۔ انہوں نے اپنے خطاب کے آخر میں کہا کہ ہم غیر ملکی قوتوں کی اشتعال انگیز مداخلت کو ہرگز قبول نہیں کریں گے اور اپنی سرزمین کی جغرافیائی سلامتی کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحیت کا فیصلہ کن جواب دیں گے، لہذا ایرانی قوم کا پیغام یہ ہے کہ آئیں جنگوں اور قتل و غارتگری پر سرمایہ گذاری کرنیکے بجائے ایک بہتر مستقبل کی امید پر اپنا سرمایہ لگائیں، عدالت کیطرف واپس لوٹ آئیں اور آئیں صلح، قانون، عہدوپیمان کی حفاظت اور گفتگو کی طرف واپس پلٹیں۔
خبر کا کوڈ : 818409
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب