0
Monday 30 Sep 2019 08:13

میرے مواخذے سے امریکہ کا مستقبل داؤ پر لگایا جا رہا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ

میرے مواخذے سے امریکہ کا مستقبل داؤ پر لگایا جا رہا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ
اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جن کو اختیار کے مبینہ غلط استعمال پر مواخذے کی تحقیقات کا سامنا ہے، انہوں نے حامیوں کو خبردار کیا ہے کہ ہمارا ملک داؤ پر لگا ہوا ہے اور اس سے پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری ویڈیو بیان، ڈیموکریٹس کے قانون سازوں کی جانب سے ٹرمپ کے خلاف عائد الزامات کی تحقیقات کے ردعمل میں دیا گیا۔ واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ پر الزام تھا کہ انہوں نے اپنے ڈیموکریٹک حریف اور نائب صدر جو بائیڈن کو نقصان پہنچانے کے لیے یوکرین کے صدر سے مدد طلب کرکے اپنے حلف کی خلاف ورزی کی۔

ویڈیو بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ ڈیموکریٹس کی جانب سے امریکی حقوق کو خطرہ لاحق ہے، وہ آپ کے ہتھیار، آپ کی صحت، آپ کا ووٹ اور آزادی واپس لینا چاہتے ہیں۔ مختلف ٹوئٹس میں ٹرمپ نے خود پر عائد الزامات کو دہرایا اور کہا کہ مواخذے کی تحقیقات چڑیلوں کا شکار کرنے کے مترادف ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ڈیموکریٹک قانون ساز ایڈم اسکف، جو مواخذے کی تحقیقات کی سربراہی کررہے ہیں، انہوں نے مجھے بدنام کیا اور بہتان لگایا، انہیں کانگریس سے مستعفی ہونا چاہیے۔ امریکی صدر نے بعدازاں ری پبلکن سیاستدانوں اور میڈیا اتحادیوں کی درجنوں ویڈیو کلپس ری ٹوئٹ کیں جس میں یوکرین اسکینڈل میں ڈونلڈ ٹرمپ کا دفاع اور ڈیموکریٹس پر تنقید کررہے تھے۔

اس کا اختتام ٹرمپ کی جانب سے منظور شدہ اشتہار ری ٹوئٹ کرنے سے ہوا جس میں جو بائیڈن اور ان کے بیٹے ہنٹر کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا، جو یوکرین کی گیس کمپنی میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں جبکہ ان کے والد نائب صدر ہیں۔ اشتہار میں کہا گیا کہ جب صدر ٹرمپ نے یوکرین سے جو بائیڈن کے بیٹے کے خلاف کرپشن کی تحقیقات کا کہا تو ڈیموکریٹ ان کا مواخذہ کرنا چاہتے ہیں اور اس میں ان کا پالتو میڈیا بھی ساتھ کھڑا ہے۔ اس میں مزید کہا گیا کہ وہ (جو بائیڈن) الیکشن ہار گئے اور اب وہ یہ چوری کرنا چاہتے ہیں۔ خیال رہے کہ جو بائیڈن کے بیٹے ہنٹر بائیڈن کو باضابطہ طور پر بدعنوانی کا الزام عائد نہیں کیا گیا اور جو بائیڈن نے ہر طریقے سے پراسیکیوٹر کی برطرفی کی کوشش کی کیونکہ امریکا، مغربی یورپی ممالک اور آئی ایم ایف سب کا ماننا تھا کہ وہ کرپشن پر اتنے سخت نہیں تھے۔
خبر کا کوڈ : 819100
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب