0
Thursday 10 Oct 2019 23:42

عراق میں افراتفری پھیلا کر سعودیوں نے شام اور یمن میں ملنے والی شکست کا بدلہ لیا ہے، یمنی سفیر

عراق میں افراتفری پھیلا کر سعودیوں نے شام اور یمن میں ملنے والی شکست کا بدلہ لیا ہے، یمنی سفیر
اسلام ٹائمز۔ لبنانی اخبار "الاخبار" میں چھپنے والے اپنے کالم میں شام کیلئے یمنی سفیر نایف احمد القانص نے لکھا کہ یمن پر مسلط کردہ 5 سالہ جنگ کی اب تیزی کیساتھ بدلتی صورتحال نے ایک دلچسپ موڑ لیا ہے جس نے نہ صرف دشمن کو حیران و پریشان کر دیا ہے بلکہ اندرون ملک سے لیکر خطے کی سطح تک کے دفاعی توازن کو بھی یکسر بدل کر رکھ دیا ہے، خاص طور پر یمنی ڈرون طیاروں کے جنگ میں حصہ لینے اور عوامی فورسز کیطرف سے جارح سعودی عرب کی سرحدوں کے بہت اندر جوابی کارروائیوں کے بعد، جو امریکہ و برطانیہ کے براہِ راست حمایت یافتہ جارح سعودی و اماراتی فوجی اتحاد میں دراڑیں ڈالنے کا سبب بھی بنا۔ یہ تمام عوامل ملک کے اندر اور خطے کی سطح پر متعدد جنگی امور میں تبدیلی کا باعث بنے ہیں جن میں متحدہ عرب امارات کا اسلامی جمہوریہ ایران کیساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کرنا اور دونوں ممالک کے درمیان متعدد وفود کی آمد و رفت بھی شامل ہے جبکہ متحدہ عرب امارات کا یمن پر مسلط کردہ جنگ سے خارج ہو جانے کا عندیہ بھی انہی تبدیلیوں میں سے ایک ہے۔

شام میں یمنی سفیر نایف احمد القانص نے لکھا کہ دوسری طرف سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پر یمنی ڈرون طیاروں کی وسیع جوابی کارروائی اور اس کے نتیجے میں سعودی تیل کی تنصیبات آرامکو کی بدترین تباہی پر امریکہ اور سعودی عرب کے پاس اپنی ذلت چھپانے کا کوئی بہانہ بھی باقی نہ رہا کیونکہ سعودی عرب نے امریکہ سے متعدد میزائل ڈیفنس سسٹمز کی خریداری پر کئی بلین ڈالرز خرچ کئے ہیں جو یمنی جوابی کارروائی کو نہ صرف روکنے میں بری طرح ناکام رہے ہیں بلکہ کسی قسم کا الارم بھی نہیں دے پائے، لہذا انہیں ایران پر الزام تراشی کے علاوہ اپنی خفت مٹانے کا کوئی اور بہانہ نہیں ملا جس سے پوری دنیا میں انکی پہلے سے بھی بڑھ کر سُبکی ہوئی خاص طور پر تب جب سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے جنگ کے بھڑکتے شعلوں کو ایرانی سرزمین کے اندر تک لیجانے کی اور امریکہ نے اپنے مہنگے اور پیشرفتہ ترین ڈرون طیارے کی ایرانی اینٹی ایئرکرافٹ سسٹمز کے ہاتھوں تباہی کے بعد ایرانی سرزمین پر حملے کی دھمکی دے رکھی تھی اور پھر انہیں اپنی دھمکیوں کو خود ہی سمیٹ کر تہران سے مذاکرات کی درخواست کرنا پڑی، البتہ عالمی سطح پر غاصب صیہونی رژیم اسرائیل کے (حزب اللہِ لبنان کے ہاتھوں) بری طرح ذلیل ہونے کی داستان جدا ہے۔

نائف احمد القانص اپنے کالم کے آخری حصے میں لکھتے ہیں کہ کسی پر یہ بات ڈھکی چھپی نہیں کہ عراق میں افراتفری کا پھیلانا، یمن اور اس سے قبل شام میں سعودی عرب اور امریکہ کی کھلی شکست پر انکا انتقام تھا جبکہ انہوں نے اپنے اس اقدام سے دراصل اپنے B پلان پر عملدرآمد کیا ہے جس کے مطابق انہیں ایک ایسے عرب ملک (عراق) پر اسکے اندر سے حملہ کرنا تھا جس نے اسلامی جمہوریہ ایران کیساتھ اچھے تعلقات استوار کر رکھے ہیں کیونکہ عراق نے نہ صرف شام کیساتھ اپنی سرحد "بوکمال" کو کھول رکھا ہے بلکہ اُس نے شام کیطرف عرب لیگ کی واپسی، شامی آئین کی تشکیل اور غاصب صیہونی رژیم اسرائیل کے مقابلے میں حزب اللہ کی دفاعی قوت میں بےپناہ اضافے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ وہ چیز جسکی طرف اشارہ کرنا ناگزیر ہے یہ ہے کہ شام اور عراق کی سرحد پر واقع "بوکمال" انٹرچینج کا کُھلنا اس بات کا سبب بنا ہے کہ ایران، اپنے خلاف اقتصادی پابندیوں کے ذریعے لاگو ہونے والی امریکی سازش کو ناکام بناتے ہوئے بڑی آسانی کیساتھ اس رَستے سے اپنے تیل اور قدرتی گیس کو برآمد کرتا رہے گا۔

 
خبر کا کوڈ : 821338
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے