0
Friday 11 Oct 2019 21:04

شیعہ مسنگ پرسنز بازیابی کیلئے کراچی کے شیعہ علماء کا اجلاس

شیعہ مسنگ پرسنز بازیابی کیلئے کراچی کے شیعہ علماء کا اجلاس
رپورٹ: ایس ایم عابدی

ملک بھر میں شیعہ نوجوانوں کی جبری گمشدگیوں پر ملت جعفریہ پاکستان کے عمائدین نے شدید غم و غصہ کا اظہار کیا ہے۔ اس حوالے سے جوائنٹ ایکشن کمیٹی فار شیعہ مسنگ پرسنز کراچی کی جانب سے شیعہ عمائدین اور علمائے کرام سمیت ملی نمائندہ جماعتوں کے سربراہوں اور رہنماؤں اور آئمہ جمعہ و خطباء کا مشترکہ اجلاس کمیٹی رکن علامہ احمد اقبال رضوی کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس کے شرکاء نے متفقہ طور پر اعلان کیا کہ ریاستی اداروں کے ساتھ گفت و شنید کا عمل جاری ہے، تاہم شیعہ جبری گمشدگان کو رہا نہیں کیا گیا ہے، لہذا ہمارا احتجاج آخری مسنگ پرسن کی رہائی تک جاری رہے گا۔ علماء کا کہنا تھا کہ ریاستی ادارے چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کررہے ہیں، ریاستی اداروں کے اقدامات سے ایسا لگ رہا ہے کہ پاکستان میں جنگل کا قانون نافذ کردیا گیا ہے، راتوں کو بے گناہ نوجوانوں کے گھروں میں دروازوں کو توڑ کر اور معصوم بچوں کو ڈرا دھمکا کر ان کے پیاروں کو لاپتہ کیا جانا پاکستان کے آئین میں کس جگہ اجازت دی گئی ہے؟، ملت جعفریہ پاکستان ایک پر امن ملت ہے اور پاکستان کے قیام کے لئے بے بہا قربانیاں دینے کے بعد استحکام پاکستان کی خاطر ہزاروں جانوں کا نذرانہ دیا گیا ہے، لہذا ریاستی اداروں میں موجود کالی بھیڑیں ملت جعفریہ کو دیوار سے لگانے کی پالیسی پر عمل کر رہی ہیں۔

سرکردہ شیعہ علماء نے کہا کہ ملت جعفریہ ملک و قوم کی ترقی کے لئے ہمیشہ پیش پیش رہی ہے، تاہم ہمیں ملک کی ترقی کی راہ سے ہٹانے کی مذموم کوششیں نہ کی جائیں۔ شیعہ جبری گمشدہ افراد کے اہل خانہ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے رہنماؤں نے کہا کہ پاکستان میں دوہرا قانون نافذ کیا جا رہا ہے، ایک طرف ملک دشمن اور اسلام دشمن دہشت گرد قوتوں کو قومی دھارے میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے تو دوسری طرف پر امن شہریوں کو لاپتہ کیا جا رہا ہے، پاکستان میں دہرے قانون کو نہیں چلنے دیا جائے گا اور اس عنوان سے احتجاج کے تمام راستوں کو اختیار کیا جائے گا۔ ملت جعفریہ کے عمائدین اور ملی جماعتوں کے نمائندوں نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت، وزیراعظم پاکستان، چیف جسٹس آف پاکستان، ریاستی اداروں کے سربراہوں اور بالخصوص آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو مخاطب کرتے ہوئے آئین پاکستان کی شق نمبر 9 اور 10 کی طرف توجہ مبذول کرواتے ہوئے کہا کہ کیا اس ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی اسی طرح قائم ہو سکتی ہے کہ جب خود ریاست کے ادارے ہی آئین اور قانون کی دھجیاں بکھیر رہے ہوں، آئین پاکستان کی شق نمبر 9 اور 10 میں واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ اگر کسی کو کسی بھی جرم میں حراست میں لیا جائے تو چوبیس گھنٹے کے اندر عدالت میں پیش کیا جائے۔

شیعہ علماء کا کہنا تھا کہ یہاں تو قانون و آئین بنانے والے خود اس کی پامالی کا باعث بن رہے ہیں، نہ تو زیرِ حراست لیے ہوئے افراد کو ظاہر کرتے ہیں اور نہ عدالتوں میں پیش کرتے ہیں۔ اجلاس کے شرکاء اور شیعہ گمشدگان کے اہل خانہ نے شیعہ نوجوانوں کی جبری گمشدگیوں کے سلسلہ کو فی الفور روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اسیران کے خانوادوں کو ان سے ملنے نہیں دیا جا رہا اور زبردستی طاقت کے زور پر جبری گمشدگی کے اندھے قانون کو اپنے غیر ملکی آقاؤں کے اشارے پہ لاگو کیا جارہا ہے۔ علماء کا کہنا تھا کہ جبری طور پر لاپتہ کئے گئے افراد کی مائیں بہنیں اپنے پیاروں کی تلاش میں در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں، لیکن ان کی فریاد سننے والا کوئی نہیں ہے، ہم حکومتِ وقت کو متنبہ کرتے ہیں کہ ہمیں کسی انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور نہ کیا جائے ہمارے سامنے احتجاج سمیت تمام آپشنز موجود ہیں۔ اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ ملک بھر کے تمام جمعہ نماز کے اجتماعات میں شیعہ جبری گمشدگیوں کے حوالے سے بھرپور بات کی جائے گی اور احتجاج کا عمل جاری رہے گا اور اسی طرح ذاکرین عظام اور خطباء کا کہنا تھا کہ ایام عزاء کی تمام مجالس اور عزاداری کے اجتماعات میں شیعہ جبری گمشدہ نوجوانوں کے حق میں اور کی بازیابی تک احتجاج کیا جاتا رہے گا۔

اجلاس کے شرکاء کا کہنا تھا کہ آئمہ اطہار (ع) کے مزارات ہمارے لئے ریڈ لائن ہے، جب بھی ہمیں محسوس ہوگا کہ مزارات کے خلاف سازش ہورہی ہے تو ہم اپنی جان کا نذرانہ دے کر ان کی حفاظت کریں گے، ہم مقتدر قوتوں کو بتا دینا چاہتے ہیں کہ محمد و آلِ محمد (ع) کے روضوں کی حفاظت کرنا ہمارا بنیادی، دینی اور شرعی حق ہے، جس سے ہمیں کوئی نہیں روک سکتا۔ رہنماؤں نے مزید گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں دہشتگردوں اور محب وطن پاکستانیوں کے درمیان فرق ہونا چاہیئے، اسیرانِ ملت جعفریہ کے خانوادے کو اپنے پیاروں سے ملنے کی اجازت نہیں، جبکہ غیر ملکی جاسوس اور دہشتگرد کلبھوشن کی فیملی کو اس سے ملوایا جاسکتا ہے، ہمارے ادارے سن لیں کہ شیعانِ علی (ع) کو ان کے حقوق سے محروم نہ کیا جائے اور تکفیری دہشتگردوں اور محب وطن شیعوں کے درمیان واضح فرق رکھا جائے۔

اجلاس میں ملت جعفریہ کی تمام نمائندہ جماعتوں کے رہنماؤں سمیت شیعہ علمائے کرام اور عمائدین نے شرکت کی۔ اجلاس میں بزرگ عالم دین مولانا غلام حسین رئیسی، مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے سیکرٹری جنرل مولانا باقر زیدی، جوائنٹ ایکشن کمیٹی فار شیعہ مسنگ پرسنز کے ممبران مولانا حیدر عباس عابدی، مولانا عقیل موسیٰ، آئی ایس ا و کراچی کے صدر محمد عباس، مجلس ذاکرین امامیہ کے صدر علامہ نثار قلندری، شیعہ علماء کونسل کراچی کے صدر مولانا کامران حیدر عابدی، مجلس امامیہ پاکستان کے صدر سید الحسن نقوی، مولانا رضی حیدر زیدی، ہیئت آئمہ مساجد و علماء امامیہ کے مولانا محمد حسین رئیسی، مولانا نشان حیدر ساجدی، مولانا شمشیر حیدر، مولانا نعیم الحسن، علامہ مبشر حسن، مولانا سجاد مہدوی، مولانا مہدی رضا، مولانا سجاد رضوی، مولانا فدا حسین تفکری، مولانا محمد صادق حیدری، مولانا شہاب علی فیضی، مولانا اشرف حسین کاشفی، مولانا سید حمید حسین الحسینی، مولانا نوید احمد باقری، مولانا منظر حسین، مولانا سید عدنان زیدی، مولانا جاوید علی جعفری، مولانا سید علی غنی نقوی، مولانا انصاف علی حیدری، آغا سبط حیدر موسوی، مولانا عبد الرحیم، مولانا سید کاظم شاہ موسوی، سید مسلم رضا، مولانا محمد اسحاق شاکری اور دیگر نے شرکت کی۔
خبر کا کوڈ : 821491
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب