0
Sunday 13 Oct 2019 00:39
یمنی مسلمانوں کیخلاف خادم حرمین و قاتل المسلمین کا نیا ریکارڈ قائم؛

امیر ترین مسلم ملک کیطرف سے مسلط کردہ جنگ یمن کو عنقریب دنیا کا غریب ترین ملک بنا دے گی، اقوام متحدہ

امیر ترین مسلم ملک کیطرف سے مسلط کردہ جنگ یمن کو عنقریب دنیا کا غریب ترین ملک بنا دے گی، اقوام متحدہ
اسلام ٹائمز۔ عالم اسلام کی مقدس ترین سرزمین پر قابض امیر ترین مسلم بادشاہت کے ہاتھوں "غریب ترین عرب ملک" کے مقام سے ہٹ کر "دنیا کے غریب ترین ملک" کے مقام پر آن پہنچنے والے یمن کیخلاف جمہوریت کے نام پر غیر جمہوری ترین ملک کیطرف سے آج جو کچھ کیا جا رہا ہے؛ نہ صرف جنگی جرائم کی بدترین مثال ہے بلکہ انسانیت کے خلاف بھی انتہائی گھناؤنا جرم ہے جس پر خصوصا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل، عالمی برادری، عرب دنیا اور مسلمانوں کیطرف سے خاموشی اختیار کر لینا اُس سے بھی بڑا جرم ہے جبکہ عرب اخبار "رأی الیوم" نے اپنے اداریے میں یمن کی تازہ ترین صورتحال کیطرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ عرب ذاتی طور پر ریکارڈ قائم کرنے اور معروف کتاب "گینیز بُک آف ورلڈ ریکارڈز" میں اپنی جگہ بنانے پر مر مٹنے کیلئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ صرف ایک عرب ملک، متحدہ عرب امارات نے ہی تاحال 634 ورلڈ ریکارڈز قائم کئے ہیں جبکہ توقع یہ کی جا رہی ہے کہ اس مرتبہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات اپنے تمامتر سابقہ ریکارڈز کو توڑتے ہوئے اپنا نیا وحشتناک ترین ریکارڈ قائم کرنے جا رہے ہیں جو آئندہ 2 سالوں کے اندر اندر یمن کو دنیا کے غریب ترین ملک میں تبدیل کرنا ہے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹس کے مطابق سال 2014ء میں یمن پر جنگ مسلط کئے جانے کے بعد سے تاحال یمن میں غربت کا تناسب 47 فیصد سے بڑھتا ہوا اب سال 2019ء میں 75 فیصد پر آن پہنچا ہے۔ اقوام متحدہ کی اس رپورٹ کے مطابق اگر یمن پر مسلط کردہ جنگ یونہی 2022ء تک جاری رہی تو دنیا کے غریب ترین ممالک کی فہرست میں یمن کا شمار پہلے نمبر پر ہو گا کیونکہ تب تک وہاں کی 80 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے بہت نیچے دھکیل دی جا چکی ہو گی جن کی تعداد 2 کروڑ 40 لاکھ سے زیادہ بنتی ہے جبکہ تب یمن کی ایک تہائی آبادی کو شدید بحرانوں میں گھر کر قریب المرگ ہو جانے کی وجہ سے فوری امداد کی اشد ضرورت ہو گی۔ اس عرب اخبار کا لکھنا ہے کہ یہ بات درست ہے کہ قدرتی وسائل کے اعتبار سے یمن غریب ترین عرب ملک ہے جسے اب جارح عرب ممالک اور انکے یہود و نصاری اتحادیوں کیطرف سے کئے گئے انتہائی سخت اقتصادی محاصرے نے مادی اعتبار سے پہلے سے بھی زیادہ غریب بنا دیا ہے لیکن مزاحمت، قیام، بہادری اور اپنے وطن، عقیدے اور عزت کے دفاع کے اعتبار سے یمن اب بھی اپنے اوپر حملہ آور ممالک سے کہیں زیادہ امیر ہے۔

اقوام متحدہ کی اس رپورٹ میں یمن پر جنگ مسلط کرنے والے جارح ممالک کے فوجی اتحاد کی مذمت کرنے کیساتھ ساتھ اس بحران کے سیاسی حل کی تلاش کیلئے تمام ممالک سے بھرپور سیاسی و سفارتی کوششیں بروئے کار لانے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے تاکہ عام شہریوں کو اپنا لقمہ بنانے والی اس جنگ کو ختم کیا جا سکے کیونکہ جارح ممالک کیطرف سے گزشتہ پانچ سالوں سے مسلسل ہوائی و زمینی حملوں کے باعث اب یمن میں صحت، تعلیم، پینے کے پانی اور بجلی جیسی بنیادی ضروریات بھی مفقود ہوتی جا رہی ہیں جسکی وجہ سے یمن کی آبادی کا تقریبا ایک تہائی حصہ بنیادی خوراک اور بچوں کے دودھ جیسی بنیادی شہری ضروریات سے بھی محروم ہو چکا ہے جو مستقبل قریب میں وقوع پذیر ہونے والے ایک بہت بڑے انسانی بحران کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔
خبر کا کوڈ : 821745
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب