0
Monday 14 Oct 2019 19:11

گلگت میں سالانہ یوم حسینؑ کی عظیم الشان تقریب

گلگت میں سالانہ یوم حسینؑ کی عظیم الشان تقریب
رپورٹ: لیاقت علی انجم

گلگت میں سالانہ یوم حسین کا عظیم الشان پروگرام دادی جواری پارک میں منعقدہ ہوا، یوم حسینؑ کے اجتماع میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد، اکابرین، سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنمائوں کی کثیر تعداد شریک ہوئےا۔ دو پہر 2 بجے تقریب شروع ہوئی جس سے قائد ملت جعفریہ سید راحت حسین الحسینی، موتی مسجد گلگت کے خطیب مولانا خلیل قاسمی، اسماعیلی ریجنل کونسل کے الواعظ فدا علی ایثار، عوامی ایکشن کمیٹی کے چیئرمین مولانا سلطان رئیس، جماعت اسلامی گلگت بلتستان کے امیر مشتاق احمد ایڈووکیٹ، سابق نگراں صوبائی وزیر و معروف شاعر عنایت اللہ شمالی سمیت دیگر مقررین نے خطاب کیا۔ مقررین نے امام علی مقام کی حیات طیبہ اور فلسفہ شہادت پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے ظلم کیخلاف قیام کرنے اور مظلوم کا ساتھ دینے پر زور دیا۔

دادی جواری پارک میں منعقد ہونے والے یوم حسینؑ کے اجتماع میں اتحاد بین المسلمین کا عملی مظاہرہ کیا گیا، یوم حسین کے اجتماع میں مقامی انتظامیہ کے آفیسران سمیت اہلسنت اکابرین کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ پروگرام کے اول سے آخر تک شرکاء کی کثیر تعداد موجود رہی۔ سیکریٹری داخلہ جواد اکرم، کمشنر گلگت عثمان احمد، ڈپٹی کمشنر گلگت نوید احمد، ایس ایس پی مرزہ حسن، تینوں سب ڈویژنوں کے اسسٹنٹ کمشنرز، ضلع کونسل کے چیف آفیسر شاہ ولی خان سمیت دیگر حکام نے بھی یوم حسین کے پروگرام میں شرکت کی۔ جبکہ امن جرگہ کے راجہ نثار ولی، پی پی پی کے جمیل احمد، اقبال رسول، سلطان گولڈن سمیت دیگر افراد کثیر تعداد میں شریک تھے۔ یوم حسین کے موقع پر سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کئے گئے تھے۔

مولانا سلطان رئیس
یوم حسین کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین عوامی ایکشن کمیٹی مولانا سلطان رئیس نے کہا کہ کشمیر کی آزادی، گلگت بلتستان کے مسائل کے حل اور عالم اسلام کیخلاف بیرونی سازشوں سے مقابلے کیلئے محض ذکر حسین نہیں مشن حسین پر عمل کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ امام حسین ایک نظریے اور فلسفے کا نام ہے، جنہوں نے دین کی بقاء کیلئے جدوجہد کی، جن کی پوری زندگی امت کیلئے نمونہ اور انسانیت کیلئے مشعل راہ ہے۔ آج ہم چند ذکر کر کے اس پر اکتفا کریں تو یہ ناکافی ہے۔ کشمیر، یمن، فلسطین اور شام میں ہونے والی زیادتیوں کیخلاف آواز بلند کرنا شرعی و اخلاقی ذمہ داری ہے، اسی طرح گلگت بلتستان کے مسائل پر بات کرنا بھی قومی فریضہ ہے، جی بی میں محرومیوں کی حد تک مسائل میں اضافہ ہو چکا ہے۔

عوامی ایکشن کمیٹی نے جو تحریک چلائی ہے اس میں قومی مفادات کو مقدم رکھا ہے، لیکن ہر تحریک کو مختلف رنگ دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جی بی میں بعض ادارے مقامی ہیں، سپریم اپیلیٹ کورٹ، نیٹکو اور جی بی کونسل خطے کی ملکیت ہے، یہاں چپڑاسی سے گریڈ بائیس تک مقامی لوگوں کو ہی بھرتی ہونا چاہیے، ہم یہ بھی کہتے ہیں کہ پاور شیئرنگ فارمولے کے تحت وفاق سے جو نمائندے یا ملازم یہاں آتے ہیں ہم انہیں سر آنکھوں پر بٹھاتے ہیں، لیکن اگر اس پاور شیئرنگ فارمولے کو روندنے کی کوشش کرے گا تو اس کا راستہ روکنا ہم اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ مقامی ملازمین کے ساتھ ناانصافیوں، زمینوں پر جبری قبضے اور دیگر مسائل پر پچیس تاریخ سے احتجاجی تحریک کا آغاز کر رہے ہیں،خطے کے مسائل کے حل کیلئے عوامی ایکشن کمیٹی ہر حد تک جائے گی۔

وزیر مظفر عباس
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امامیہ کونسل گلگت کے صدر وزیر مظفر عباس نے کہا کہ امام حسینؑ کا پیغام یہ ہے کہ طاغوت سے نفرت کرے اور ظلم کیخلاف اٹھ کھڑے ہوں، حسینؑ نے یہ بھی پیغام دیا تھا کہ حق کا ساتھ دو، سچ کا ساتھ دو، آج جہاں جہاں بھی حسینؑ کے چاہنے والے ہیں، وہ سب ظلم سے نفرت کرتے ہیں، مظلوم کا ساتھ دیتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ آج دنیا میں جہاں کہیں بھی ظلم ہو رہا ہو، چاہے نائیجیریا ہو، یمن ہو، فلسطین یا چاہیے کشمیر، ہم ظلم کیخلاف آواز اٹھاتے ہیں، ہم مظلوم کا ساتھ دینے کیلئے اپنی آواز دنیا کے گوشے گوشے میں پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں، اگر ہم کشمیر کی بات کریں تو قائد اعظم نے فرمایا تھا کہ کشمیر ہماری شہ رگ ہے، ہم شہ رگ کو کٹتا ہوا نہیں دیکھ سکتے۔

اسی لیے ہم حکومت سے کہنا چاہتے ہیں کہ کشمیر کیلئے ہم ہر قربانی کیلئے پہلے بھی تیار تھے آج بھی تیار ہیں۔ ماضی میں ہماری ساری کامیابیاں اتحاد کی وجہ سے تھیں، اس وقت کوئی شیعہ سنی نہیں تھا، پرچم اسلام کے سامنے سب ایک تھے، آج بھی سب ایک ہو جائیں تو دشمن کو اسی طرح ذلت آمیز شکست دے سکتے ہیں، ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ جب بھی آپ امن و آشتی اور اتفاق کی طرف جاتے ہیں تو دشمن ہمیشہ سازشیں کر کے ہمیں لڑانے کی کوشش کرتا ہے، دنیا میں اس وقت دو طبقے سامراج کے ایجنٹ ہیں، سی آئی اے اور ایم آئی سکس نے دو طبقوں کو پروان چڑھایا ہے، ایک شیعہ اور ایک اہل سنت سے ٹولہ اپنایا گیا۔ رہبر معظم نے دو طبقوں ایم آئی سکس کے شیعوں اور سی آئی اے کے سنیوں سے ہوشیار رہنے کی ہدایت کی ہے، یہ لوگ استعماری ایجنٹ ہیں جو مسلمانوں میں تفرقہ پھیلاتے ہیں، انہوں نے کہا کہ بھارت میں حضرت عائشہ کی شان میں گستاخانہ فلم بنائی جا رہی ہے، حکومت سے مطالبہ ہے کہ اس پر آواز اٹھائے اور پابندی عائد کرے۔

مولانا خلیل قاسمی
اہلسنت کے معرو ف عالم دین مولانا خلیل قاسمی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی استعمار مسلمانوں کو توڑنے کی سازش کر رہا ہے، ہم اختلافات کو ہوا دے رہے ہیں، صحابہ و اہل بیت کے پروگرامز میں شرکت کو اپنے ایمان کا حصہ سمجھتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کی محرومیوں کا ازالہ ہونا چاہیے، کنٹریکٹ ملازمین کو ریگولر کیا جائے، ایئرپورٹ متاثرین گزشتہ ستر سال سے انصاف کے منتظر ہیں، وزیر اعظم عمران خان، آرمی چیف اور فورس کمانڈر ذاتی طور پر نوٹس لیں اور متاثرین کو انصاف فراہم کریں، وفاق کے احکامات کے بائوجود متاثرین کو ان کا حق فراہم کرنے میں صوبائی حکومت رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔

مشتاق احمد ایڈووکیٹ
جماعت اسلامی گلگت بلتستان کے امیر مشتاق احمد ایڈووکیٹ نے یوم حسین کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امام حسین اسلام کو سربلند کرنے کے کردار کا نام ہے، کربلا میں جس مقصد کیلئے عظیم تحریک برپا ہوئی اس پر سوچنے اور عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارا ملک کلمہ کی بنیاد پر بنا تھا لیکن اس ملک کا ہم نے کیا حشر کیا، ہم کلمہ کی بنیاد پر ملک کو حاصل کرنے کے بعد سو گئے، جس مقصد کیلئے ملک کو حاصل کیا گیا تھا وہ مقصد ابھی تک حاصل نہیں ہو سکا۔ استعماری طاقتوں نے یہاں وہ فتنے ڈالے کہ مسلمان آج پارہ پارہ ہے، یوم حسین کے موقع پر میں گزارش کروں گا کہ جس طرح آج یہاں اتحاد و یکجہتی کی فضا قائم ہوئی وہ پورے ملک اور اس خطے میں قائم کرنے کی ضرورت ہے، یہی امام حسین کا پیغام ہے۔

سید عاشق حسین الحسینی
یوم حسین کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے استور کے معروف عالم دین سید عاشق حسین الحسینی نے کہا کہ حسینؑ ہدایت کا چراغ اور نجات کی کشتی ہے، اگر ہم نجات چاہتے ہیں تو فلسفہ شہادت کو سمجھیں اور امام حسین کا شیوہ اختیار کریں، امام حسینؑ کی شہادت کے دو پہلو ہے، ایک پہلو اثر شہادت اور دوسرا پہلو مقصد شہادت۔ اثر شہادت آفاقی ہے، حضرت امام حسینؑ شہید ہو گئے تو پوری کائنات متاثر ہوئی، آسمان کے فرشتے روئے، پرندے، جانور روئے، انسانوں نے گریہ کیا، جنوں کے گریہ کرنے کی آوازیں بھی بلند ہو گئیں، یہ ہے اثر شہادت حسین۔ ایک مقصد شہادت حسین ہے، وہ مقصد کتنا عظیم ہو گا جس کیلئے اس عظیم حسینؑ نے قربانی دی ہے۔ امام حسینؑ خود فرماتے ہیں کہ اگر میرے نانا کا دین میری شہادت کے بغیر زندہ نہیں رہتا تو اے خون آشام تلوارو آجائو، ٹوٹ پڑو مجھ پر اور میری گردن کو کاٹو، بے شک میری گردن کٹ جائے اور دین مصطفی قائم ہو جائے۔ اسی لیے معین الدین چشتی نے فرمایا

شاہ است حسین، بادشاہ است حسین
دین است حسین، دین پناہ است حسین
سرداد نہ داد دست در دست یزید
حقا کہ بنائے لا الہ است حسین
حتی کہ بنائے لا الہ است حسین

سید عاشق حسین نے مزید کہا کہ 1932ء میں ایک انڈین مفکر نے ایک مقالہ لکھا جس کا سرنامہ The thirsty martyr of karbala یعنی کربلا کا پیاسا شہید، وہ کہتے ہیں کہ لوگوں کو غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے، میری مراد حسین کی وہ تین دن والی پیاس نہیں ہے، وہ پیاس بجھ گئی، حسین سیراب ہو چکے ہیں، اس کے علاوہ حسینؑ کی ایک روحانی اور معنوی پیاس تھی، وہ پیاس ابھی تک نہیں بجھی، حسین ابھی تک پیاسے ہیں۔ حسینؑ چاہتے تھے کہ دنیا سے ظلم، فسق و فجور، چوری ڈکیتی ہر قسم کی معصیت کاری ختم ہو جائے، امام اس بات کے پیاسے تھے کہ تمام لوگ سیدھے راستے پر آجائیں، کیا دنیا سے فسق و فجور، ظلم، جبر و استبداد ختم ہو گئے ہیں، اگر یہ چیزیں باقی ہیں تو سمجھو حسین پیاسے ہیں۔ امام کی پیاس کو ہم بجھا سکتے ہیں، ہمارا فرض بنتا ہے کہ ذکر حسین کے ساتھ مشن حسین بھی زندہ کریں۔ ہم اپنے اپنے گائوں میں اصلاحی سوسائٹیاں بنائیں اور دیکھیں کہ کہیں حسین کا نام لینے والا کوئی شرابی، راشی، ظالم تو نہیں، ہم سب مل کر ان تمام فسق و فجور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں تاکہ ہم امام حسینؑ کی اس پیاس کو بجھا سکیں۔

الواعظ فدا علی ایثار
اسماعیلی مسلک کے سکالر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالم اسلام کی وحدت و یکجہتی کا موثر ترین ذریعہ حسین ابن علیؑ ہیں، اس لئے کہ یہ حسین ہی تھے جس نے اپنے نانا کے دین کو اپنے خون سے اصلی حالت میں زندہ رکھا۔ اس لئے امام قیامت تک کیلئے ہم اور آپ کیلئے ایمان و عقیدت کا محور و مرکز ہے، عام طور پر مشاہدے میں یہ بات آتی ہے کہ لوگ عموماً مشکل سے آسانی کا راستہ اختیار کرتے ہیں لیکن امام حسین نے آسانی سے مشکل کا راستہ کیوں اختیار کیا، یہی وہ نکتہ ہے کہ جس پر ہمیں سوچنا ہے اور اسی کو اپنی زندگی کا مقصد بنانا ہے۔

عنایت اللہ شمالی
معروف شاعر و سابق نگران وزیر عنایت اللہ شمالی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اصل بات عمل کی ہے، اگر ہم عمل کریں تو یہ دھرتی گل و گلزار بن سکتی ہے، ہم اپنے اپنے مسلک کے غیر ضروری چیزوں کو چھوڑ کر مشترکات پر بات کریں اور اختلافات کو ختم کریں۔ عنایت اللہ شمالی نے امام علی مقام کی شان میں اپنا کلام پیش کیا۔

اے گلستان علیؑ کے پھول، اے فخر بتول
تجھ پہ نازاں ہے، جہاں لاریب سبط رسول

جرات بے مثل تیری، لازوال و بے مثال
مومنوں نے تجھ سے سیکھے سرفروشی کے اصول

ظالموں سے دین نانا کو بچانا تھا تجھے
جان دیدی، ظلم کی طاعت نہ لیکن قبول

ہے امانت جس زمین پر تیرا پاکیزہ لہو
آنکھ کا سرمہ بنالوں میں اسی کربل کی دھول


(اپنے اہل سنت برادران سے مخاطب کرتے ہوئے)
نہیں کیا تم علی کے چاہنے والے
تیرے بھائی ہیں ناداں، مرتضی کو چاہنے والے

کیوں کر لڑ پڑا، مسلماں یہ بھی ہیں تو بھی
ذرا سوچو تو ہفتاد گلستان یہ بھی ہیں تو بھی


دوسرا کلام

انس و جن، ارض و سما، سارے ہیں شیدائے حسین
ماہ تاباں سے حسین تر رخ زیبائے حسین
ہائے حسین ہائے حسین، ہائے حسین ہائے حسین

پل پڑے ٹوٹ کے مظلوم نبی زادوں پر
دوڑتے، بھونکتے فردوس کے شہزادوں پر
شمر ملعون ہو جیسے، سگ غو غائے حسین
ہائے حسین ہائے حسین، ہائے حسین ہائے حسین

ظالمو ترس نہ آیا علی اصغر پہ تمہیں
اور حسین ابن علی کے رخ انور پہ تمہیں
بدنصیبو نہ دکھائو! دل بابائے حسین
ہائے حسین ہائے حسین، ہائے حسین ہائے حسین

دل مومن سے کبھی غم زرا مٹتا ہی نہیں
بن تیری یاد کی ایک لمحہ بھی کٹتا ہی نہیں
کیا بھلا بھولنے والے بھی ہے غم ہائے حسین
ہائے حسین ہائے حسین، ہائے حسین ہائے حسین

اشک پرنم ہے شمالی، تیری کھلتی ہی نہیں
ہائے اب مدح کی مالا تجھے ملتی ہی نہیں
عمر دل سے کروں تحریر میں گلہائے حسین
ہائے حسین ہائے حسین، ہائے حسین ہائے حسین

خموش کیوں تھی مشیت، خدائے کن فیکون
اسی کے علم میں لاریب رازہائے دروں
بقائے دین کو لازم تھی انتہائے حسین
ہائے حسین ہائے حسین، ہائے حسین ہائے حسین


کانفرنس سے مولانا نیئر عباس مصطفوی، مولانا شکور نے بھی خطاب کیا، تقریب کے آخر میں قائد ملت جعفریہ آغا راحت حسین نے یوم حسین کانفرنس کے بہترین انتظامات پر انجمن امامیہ، امامیہ سکائونٹس، ڈی سی گلگت، پولیس، انتظامی حکام اور سکیورٹی اداروں کا شکریہ ادا کیا اور دعا کرائی۔
خبر کا کوڈ : 821966
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے