0
Tuesday 15 Oct 2019 21:42
میرے خلاف جعلی مقدمہ درج کیا گیا، وزیراعلٰی انصاف فراہم کریں، خاتون ٹیچر

رحیم یار خان، کم عمر لڑکے کا خاتون ٹیچر پر ہراساں کرنیکا الزام، ایف آئی آر درج

رحیم یار خان، کم عمر لڑکے کا خاتون ٹیچر پر ہراساں کرنیکا الزام، ایف آئی آر درج
اسلام ٹائمز۔ پنجاب کے ضلع رحیم یار خان میں کم عمر لڑکے نے سرکاری اسکول کی ٹیچر پر نشہ آور چیز کھلا کر جنسی طور پر ہراساں کرنے اور ویڈیو بنا کر بلیک میل کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کرا دیا، جبکہ خاتون نے جوابی ایف آئی آر درج کراتے ہوئے ان الزامات کو مسترد کردیا۔ رحیم یار خان کے تھانہ سٹی بی ڈویژن میں جناح پارک کے رہائشی کی جانب سے فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) درج کراتے ہوئے الزام عائد کیا کہ میرے چھوٹے بھائی جن کی عمر 12 سے 13 سال ہے، کو سرکاری اسکول کی ٹیچر نے 2 اکتوبر 2019ء کو نشہ آور چیز کھلائی، جس سے وہ بے ہوش ہوگئے اور انہیں جنسی طور پر ہراساں کیا۔ پولیس نے سیکشن 376 کے تحت ایف آئی آر درج کر دی، جس کے بعد یہ خبر سوشل میڈیا میں وائرل ہوگئی۔

درخواست گزار نے خاتون ٹیچر پر مزید الزامات عائد کرتے ہوئے ایف آئی آر میں کہا کہ میرے بھائی کے ساتھ متعدد بار اس طرح کی حرکت کرچکی ہیں اور ویڈیو بنا کر بلیک میل کرتی رہی ہیں اور قتل کی دھمکیاں بھی دیں۔ ایف آئی آر کے مطابق انہوں نے کہا کہ میرے بھائی کو ایک خطرناک بیماری بھی لاحق ہو چکی ہے۔ پولیس نے کہا ہے کہ مقدمہ درج کرکے لڑکے کو طبی جائزے کے لئے شیخ زید ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ دوسری جانب سرکاری اسکول ٹیچر نے تعزیرات پاکستان کی دفعات 380 اور457 کے تحت ان پر الزام عائد کرنے والے شہری سمیت تین افراد کے خلاف چوری کے الزام میں ایف آئی آر درج کرادی ہے۔

خاتون نے 13 اکتوبر 2019ء کو درج ایف آئی آر میں الزام عائد کیا ہے کہ زوہیب احمد، شعیب احمد اور فیروز احمد نے یکم اکتوبر کو میرے گھر سے نقدی اور قیمتی اشیا چرائی ہیں۔ ایف آئی آر میں انہوں نے موقف اپنایا ہے کہ انہوں نے اپنے گھر کی پہلی منزل ملزمان کے والد کو کرائے پر دی تھی اور جب انہوں نے پولیس میں شکایت کی تو ان کے والد نے اپنے بیٹے کو چرائے گئے ایک لاکھ 10 ہزار روپے واپس کرنے کو کہا اور انہوں نے مجھے واپس بھی کردیئے۔ انہوں نے کہا کہ ملزمان اب انہیں جان سے مارنے اور بیٹی کو اغواء کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔

ویڈیو پیغام میں خاتون ٹیچر نے کہا کہ پولیس نے ان کے خلاف جعلی مقدمہ درج کردیا ہے کیونکہ پولیس ملزمان کی حمایت کررہی ہے اور انہیں گرفتار نہیں کر رہی، تھانے کے ایس ایچ اور دیگر اہلکار پولیس محکمے کی کالی بھیڑیں ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم، وزیراعلٰی پنجاب اور پولیس کے اعلٰی حکام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ساتھ انصاف کیا جائے۔ قبل ازیں گذشتہ ماہ ضلع قصور میں کم عمر لڑکوں کو اغوا کرکے انہیں جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے اور بعد ازاں قتل کرنے کے متعدد واقعات پیش آئے تھے، جس پر ملک بھر میں تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔ وزیراعلٰی پنجاب عثمان بزدار نے صوبائی وزراء کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا تھا کہ قصور واقعات کے ملزم کو گرفتار کیا گیا ہے اور ان کو منطقی انجام تک پہنچا دیا جائے گا۔
خبر کا کوڈ : 822247
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب