0
Wednesday 16 Oct 2019 23:13

حیدرآباد، قدم گاہ مولا علی (ع) کے نائب پیش امام مولانا نوشاد علی پر حملے کی تحقیقات کی جائیں، علماء امامیہ

حیدرآباد، قدم گاہ مولا علی (ع) کے نائب پیش امام مولانا نوشاد علی پر حملے کی تحقیقات کی جائیں، علماء امامیہ
اسلام ٹائمز۔ علماء امامیہ حیدرآباد کے مقامی رہنماؤں مولانا امداد علی نسیمی، مولانا سید محمد عباس زیدی، مولانا سید ذوالفقار علی کاظمی اور دیگر نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ مسجد ابوالفضل العباس کے نائب پیش امام مولانا نوشاد علی پر قاتلانہ حملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کراکے ملزمان کے خلاف سخت قانونی کاروائی کی جائے، روایتی انداز میں مقدمہ درج کرکے معاملے پر مٹی ڈالنے کی پولیس کی سازش کو روکا جائے۔ حیدرآباد پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رہنماؤں نے کہا کہ شیعہ علماء کرام نے ہمیشہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے سیکورٹی کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے لیکن اس پر حکام نے کوئی توجہ نہیں دی، جس کی وجہ سے ملک میں امن و امان کی فضا کو خراب کرنے والے عناصر کوئی نہ کوئی بڑا سانحہ برپا کرسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک روز قبل قدم گاہ میں واقع مسجد ابوالفضل عباس کے نائب پیش امام مولانا نوشاد علی پر حملہ سازش کا حصہ ہوسکتا ہے، متعلقہ پولیس نے ملزمان کے خلاف اپنی مرضی کی ایف آئی آر داخل کرکے ملزم کو از خود ذہنی مریض قرار دے کر جیل روانہ کردیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پولیس واقعے کی تحقیقات کرنے میں سنجیدہ نہیں اور اس اہم واقعے کو روایتی انداز میں نمٹا کر دبانا چاہتی ہے۔ انہوں نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا کہ معاملے کا فی الفور نوٹس لے کر متعلقہ پولیس اہلکاروں کے خلاف کاروائی کی جائے۔
خبر کا کوڈ : 822499
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب