0
Thursday 17 Oct 2019 16:54

یورپی یونین کے ساتھ نئی بریگزٹ ڈیل پر معاملات طے پا گئے ہیں، بورس جانسن

یورپی یونین کے ساتھ نئی بریگزٹ ڈیل پر معاملات طے پا گئے ہیں، بورس جانسن
اسلام ٹائمز۔ برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کے ساتھ نئی بریگزٹ ڈیل پر معاملات طے پا گئے ہیں۔ برطانوی میڈیا کے مطابق بورس جانسن کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کے ساتھ نئی شاندار بریگزٹ ڈیل سے ہمیں اختیارات واپس مل جائیں گے۔ وزیراعظم بورس جانسن یورپی یونین کی سمٹ میں شرکت کے لیے برسلز روانہ ہو گئے ہیں۔ برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ برطانیہ اور یورپی یونین کے درمیان بریگزٹ ڈیل پر معاملات طے پانے کے بعد فریقین ڈیل کے مسودے پر کام کر رہے ہیں، نئی ڈیل پر برطانونیہ اور یورپی یونین کی پارلیمنٹ سے منظوری درکار ہو گی۔ صدریورپین کمیشن جین کلاڈینکر کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ڈیل نئی ڈیل شفاف اور متوازن ہے جب کہ فرانسیسی صدر پرامید ہیں کہ برطانوی اراکین پارلیمنٹ بریگزٹ ڈیل منظورکر لیں گے۔

دوسری جانب شمالی آئرلینڈ سے تعلق رکھنے والی حکومت کی اتحادی جماعت ڈی یو پی نے ڈیل کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ڈی یو پی رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ ڈیل کی موجودہ شرائط کے ساتھ اس کی حمایت نہیں کر سکتے۔ برطانوی میڈیا کے مطابق ڈی یو پی کے ساتھ نہ دینے کی صورت میں حکومت کو پارلیمنٹ سے ڈیل منظور کرانے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ خیال رہے کہ وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالتے ہی بورس جانسن نے کہا تھا کہ اب چاہے کچھ بھی ہو برطانیہ 31 اکتوبر کو یورپی یونین سے علیحدہ ہوجائے گا۔ ڈیوڈ کیمرون کے استعفے کے بعد برطانیہ کی وزیراعظم بننے والی ٹریزا مے نے جولائی میں بریگزٹ ڈیل کی پارلیمنٹ سے منظوری میں ناکامی کے بعد مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا اور ان کے بعد بورس جانسن نے عہدہ سنبھالا تھا۔

برطانیہ میں یورپی یونین میں رہنے یا اس سے نکل جانے کے حوالے سے 23 جون 2017ء کو ریفرنڈم ہوا تھا جس میں بریگزٹ کے حق میں 52 جبکہ مخالفت میں 48 فیصد ووٹ پڑے جس کے بعد اس وقت کے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کو عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا، کیوں کہ وہ بریگزٹ کے مخالف تھے۔ واضح رہے کہ برطانیہ نے 1973ء میں یورپین اکنامک کمیونٹی میں شمولیت اختیار کی تھی تاہم برطانیہ میں بعض حلقے مسلسل اس بات کی شکایات کرتے رہے ہیں کہ آزادانہ تجارت کے لیے قائم ہونے والی کمیونٹی کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے رکن ممالک کی ملکی خودمختاری کو نقصان پہنچتا ہے۔
 
خبر کا کوڈ : 822678
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے