0
Thursday 17 Oct 2019 17:06

جب تک عمران خان استعفیٰ نہیں دیتے دھرنا ختم نہیں ہوگا، چور جیل میں ہو یا کابینہ میں اسے لٹکایا جائے، راشد سومرو

جب تک عمران خان استعفیٰ نہیں دیتے دھرنا ختم نہیں ہوگا، چور جیل میں ہو یا کابینہ میں اسے لٹکایا جائے، راشد سومرو
 اسلام ٹائمز۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) سندھ کے جنرل سیکرٹری علامہ راشد محمود سومرو نے کہا ہے کہ جب تک عمران خان استعفیٰ نہیں دیتے دھرنا ختم نہیں ہوگا، چور جیل میں ہو یا کابینہ میں اسے لٹکایا جائے، عمران خان جس کی سیاست ختم کرنے کے دعوے کرتے تھے آج اسی سے مذاکرات کرنے آرہے ہیں، نواز شریف کے دور میں ملک نے جو ترقی کی پاکستان کی تاریخ میں کبھی نہیں کی، حکومت کی چھٹی کروانے کیلئے پاکستانی عوام نے ہمیں کرائے پر لے لیا ہے، میں لکھ کر دیتا ہوں کہ اسلام آباد میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے پندرہ لاکھ سے زائد کارکن آکر حکومت کی چھٹی کروائیں گے، آزادی مارچ کراچی اور کوئٹہ سے شروع ہوگا، کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے 27 اکتوبر کو آزادی مارچ کا آغاز کررہے ہیں، یہ تجویز زیر غور ہے کہ مولانا فضل الرحمن کو کشمیر یا سکھر سے مارچ میں شامل ہونا چاہیئے، مدرسے کے بچے بھی پاکستان کے شہری اور ووٹرز ہیں، مدرسہ کے بچوں کو ووٹ دینے کا حق ہے تو اپنے ووٹ کی چوکیداری کیلئے احتجاج کا بھی حق ہے، جے یو آئی مولوی کے ہاتھ سے بندوق چھین کر ووٹ کی پرچی تھمائے اور پارلیمنٹ کا راستہ دکھائے تو ناجائز کیوں ہوجاتا ہے، جمعیت علمائے اسلام انڈوں، کٹوں، مرغیوں اور لنگر خانے سے یتیم خانے تک جانے والی قوم کو واپس لانے کیلئے آرہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

علامہ راشد محمود سومرو نے کہا کہ جے یو آئی (ف) کو طاہر القادری کی طرح کرائے پر آنے کی ضرورت نہیں ہے، طاہر القادری کو پی ٹی آئی نے بلایا تھا انہیں ضرورت تھی، جے یو آئی (ف) کے پاس تنہا فیصلے کرنے کی طاقت اور صلاحیت ہے، انتخابات کے بعد مولانا کا مؤقف تھا کہ آج تک دال میں کچھ کچھ کالا ہوتا تھا، 25 جولائی 2018ء کو ساری کالی دال بنائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہمارے مارچ میں ٹرانسپورٹ فراہم نہ کرنے کیلئے ٹرانسپورٹرز پر دباؤ ڈال رہی ہے، ہم اونٹ، کشتیوں، سائیکلوں اور پیدل اسلام آباد آرہے ہیں، اونٹوں کا قافلہ تو نوابشاہ سے آگے نکل چکا ہے، ہمارے رہنماؤں اور کارکنوں پر خودکش حملے تک ہوئے ہیں، ہم جنازے اٹھا اٹھا کر تھک گئے ہیں، اب جنازے اٹھانے کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے مولانا فضل الرحمن کی سیکیورٹی واپس لے لی ہے، ہمارے انصار الاسلام کے رضاکار اپنے قائد اور کارکنوں کی حفاظت کیلئے آرہے ہیں، ہم جلاؤ گھیراؤ تشدد یا سول نافرمانی کی بات نہیں کریں گے۔ راشد محمود سومرو نے کہا کہ سندھ سے چار لاکھ سے زائد لوگ آزادی مارچ میں آئیں گے، پندرہ لاکھ لوگ اسلام آباد نہیں آئے تو ہر جرمانہ دینے کو تیار ہوں، عمران خان جس کی سیاست ختم کرنے کے دعوے کرتے تھے آج اسی سے مذاکرات کرنے آرہے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 822679
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش