0
Sunday 20 Oct 2019 01:28
یمن پر مسلط کردہ سعودی جنگ میں گزشتہ ماہ 388 عام یمنی شہریوں کے شہید و زخمی ہو جانیکے حوالے سے،

یمنی شہریوں کیلئے ماہِ ستمبر، جاری سال کا مہلک ترین مہینہ ثابت ہوا ہے، اقوام متحدہ

یمنی شہریوں کیلئے ماہِ ستمبر، جاری سال کا مہلک ترین مہینہ ثابت ہوا ہے، اقوام متحدہ
اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹری جنرل مارک لوکوک نے اقوام متحدہ کے فوری انسانی امداد کے پروگرام کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماہِ ستمبر، سعودی عرب کیطرف سے یمن پر مسلط کردہ جنگ میں 388 عام شہریوں کے زخمی و شہید ہو جانے کے حوالے سے یمنی عام عوام کیلئے اس سال کا مہلک ترین مہینہ ثابت ہوا ہے۔ مارک لوکوک نے یمنی صورتحال کے حوالے سے منعقد ہونے والے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس کو وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ اقوام متحدہ نے یمن میں درپیش دنیا کے بدترین بحران کی وجہ سے اپنی انسانی امداد کو وسعت دیدی ہے اور 250 این جی اوز کیساتھ مل کر 1 کروڑ 20 لاکھ افراد کو امداد پہنچائی ہے لیکن یمن میں انسانی بحران لانے والے عوامل اب بھی جوں کے توں ہیں۔

اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹری مارک لوکوک نے کہا کہ درحقیقت یمن میں ہم جتنا زیادہ کام کرتے ہیں اتنا ہی ہمیں یہ احساس ہوتا ہے کہ وہاں صورتحال زیادہ پیچیدہ اور گھمبیر ہوتی جا رہی ہے۔ مارک لوکوک نے چند روز قبل ہی جارح ملک سعودی عرب کیطرف سے یمن پر توپخانے اور جنگی  طیاروں کے وسیع حملوں کے نتیجے میں وقوع پذیر ہونیوالے عام یمنی شہریوں کے وحشتناک قتل عام کیطرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جارح ملک کیطرف سے یمن پر ہونیوالے گزشتہ ہفتے کے ہوائی حملوں میں اقوام متحدہ کیطرف سے لگائے گئے واٹر سپلائی سسٹم کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے جو 12 ہزار لوگوں کو پینے کا پانی فراہم کرتا ہے۔ مارک لوکوک نے حال ہی میں ہونے والے سیز فائر پر اور عام شہریوں اور شہری انفرا اسٹرکچر کو نشانہ نہ بنانے کے بین الاقوامی قانون پر پابندی کیساتھ عملدرآمد کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یمن میں صرف 30 محاذوں پر جنگ جاری ہونے کی بناء پر یہ امید قائم کی جا سکتی ہے کہ حال ہی میں اٹھائے گئے اقدامات تناؤ کم کرنے میں مفید ثابت ہوں گے۔
خبر کا کوڈ : 822837
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے