0
Saturday 19 Oct 2019 19:13
کچھ قوتیں خطہ کے امن کو پارہ پارہ کرنا چاہتی ہیں

خوشی ہے کہ سعودی عرب نے سفارتی کوششوں پر آمادگی ظاہر کی ہے، شاہ محمود قریشی

خوشی ہے کہ سعودی عرب نے سفارتی کوششوں پر آمادگی ظاہر کی ہے، شاہ محمود قریشی
اسلام ٹائمز۔ وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارت عالمی برادری کی کشمیر سے توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان میں شوشہ چھوڑنا چاہتا ہے، پاکستان میں سیاسی حالات خراب ہونے پر بھارت میں خوشی کی لہر ہے، دہلی سمجھتا ہے کہ پاکستان اگر اپنے اندرونی مسائل میں الجھتا ہے تو ان کی کشمیر پر سے توجہ اُٹھ جائے گی، ہماری گزارش ہوگی کہ مارچ والے بھی کوئی ایسا قدم نہ اٹھائیں جس سے پاکستان کے مخالفوں کو تقویت ملے، آزادی مارچ والوں سے ایسے نمٹیں گے جیسے جمہوریت میں نمٹا جاتا ہے، کوشش ہوگی کی کہ مارچ والے اپنا اظہار پرامن انداز میں کریں، لیکن ڈنڈا بردار فورسز کی آئین میں گنجائش نہیں، پاکستان میں جمہوریت کا مستقبل روشن ہے، پاکستان میں مارشل لاء کا کوئی چانس نہیں ہے، پاکستان کی سیاسی جماعتوں اور اپوزیشن کو ملکی و عالمی حالات کا مکمل ادراک ہے، سیاست میں ہمیشہ مذاکرات کی گنجائش ہوتی ہے وزیراعظم نے پرویز خٹک کی قیادت میں کمیٹی بنائی ہے۔ مولانا فضل الرحمان کی گرفتاری کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آزادی مارچ اور احتجاج اندرونی معاملات ہیں، میں زیادہ تجربہ خارجہ امور پر رکھتا ہوں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے این اے 156میں لوہا مارکیٹ کے تاجر حفیظ بندا کی اپنے ساتھیوں سمیت تحریک انصاف میں شمولیت کے موقع پر منعقدہ تقریب سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ چیف وہپ قومی اسمبلی ملک عامر ڈوگر، صوبائی پارلیمانی سیکرٹری اطلاعات ندیم قریشی، صوبائی معاون خصوصی حاجی جاوید اخترانصاری، میاں جمیل احمد، رانا عبدالجبار، منور قریشی، بابرشاہ، سیدہ شہربانوبخاری، سید اصغر نقوی سمیت معززین علاقہ کی ایک بہت بڑی تعداد اس موقع پر موجود تھی۔

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت کوششوں کے باوجود پاکستان کو بلیک لسٹ نہیں کروا سکا، بھارت نے پوری دنیا کے دورے کیے لیکن نتائج حاصل نہیں کرسکا، تمام ممالک سے پاکستان کو بلیک لسٹ کرنے کیلے حمایت مانگی لیکن بھارت ناکام رہا، بھارت نے سفارتی محاذ پر سرتوڑ کوششیں کیں مگر اے ٹی ایف کے پلیٹ فارم پر پاکستان کی کوششوں کا اعتراف کیا گیا۔ جس پر میں پوری قوم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، وزیراعظم 9 نومبر کو کرتارپور راہداری کا افتتاح کریں گے، مشرقی پنجاب میں قافلے تیار ہیں، میں نریندر مودی کو کہتا ہوں کہ روک سکو تو روک لو، کرتارپور راہداری کھل کر رہے گی۔ اندازہ کے مطابق روزانہ 5 ہزار سکھ یاتری پاکستان آسکیں گے، پاکستان نے سکھ یاتریوں کے لئے بھارت سے بہتر انتظامات کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے سابق بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ کو کرتارپور راہداری کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی دعوت دی ہے جس پر انہوں نے اپنے خط میں کہا ہے کہ وہ کرتارپور راہداری کی تقریب مہمان خاص نہیں عام آدمی کے طور پر آئیں گے۔ انہوں نے کہا بھارت کرتار پور راہداری کھولنا نہیں چاہتا تھا، عوامی دباو پر بھارت کو فیصلہ تسلیم کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ قوتیں خطہ کے امن کو پارہ پارہ کرنا چاہتی ہیں، وزیراعظم کی کوشش تھی اور ہے کہ کوئی نئی خلش پیدس نہ ہو، خطے کا امن خراب نہ ہو، امت کے اتحاد کے مشن پر وزیراعظم ایران اور سعودی عرب کے دورے پر گئے، تہران کے صدر اور ان کے سپریم لیڈر سے ملاقات کی بعد میں شاہ سلمان عبدالعزیز سے اور محمد بن سلمان سے بات چیت کی۔

شاہ محمود نے کہا کہ پاکستان کی کوشش اور اسکا جو لاجک ہے اس کو پیش کیا، خوشی ہے کہ سعودی عرب نے سفارتی کوششوں پر آمادگی ظاہر کی ہے، پاکستان کی کوششوں سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی ہوئی اور دونوں ممالک اس بات پر راضی ہوئے ہیں کہ معاملات کا حل صرف اور صرف مذاکرات ہیں۔ سندھ میں پیپلزپارٹی کے گڑھ لاڑکانہ میں ضمنی انتخاب میں پی پی کی بدترین شکست پر وزیرخارجہ نے کہا کہ بلاول کے حلقے سے معظم عباسی کا جیتنا تبدیلی کی طرف ایک اشارہ ہے، میں سمجھتا ہوں کہ پیپلزپارٹی کی صفوں میں کھلبلی مچی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت ہے بلاول بھٹو نے 5 دن پی ایس 11 الیکشن کی مہم چلائی اسی حلقے سے بلاول بھٹو رکن قومی اسمبلی ہیں، بلاول بھٹو الیکشن کے نیتجے پر اپنی قیادت سے نالاں ہیں۔ بلاول کی ناراضگی کے باعث سندھ کابینہ میں تبدیلی نظر آئے گی، پہلے ہی کہ دیا تھا سندھ میں آئندہ حکومت پی ٹی آئی اور اتحادیوں کی ہوگی۔ انہوں نے کہا پی ایس 11 کا نتیجہ پہلا قطرہ ہے، سندھ کی عوام باشعور ہوگئی ہے اور نتیجہ تبدیلی کا اشارہ ہے، پیپلزپارٹی مسلسل 11سال سے سندھ میں برسر اقتدار ہے، سندھ کے عوام پیپلزپارٹی کی بدانتظامی، نااہلی اورکرپشن پر نالاں ہیں۔
خبر کا کوڈ : 822966
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے