0
Saturday 19 Oct 2019 19:38

وفاقی اردو یونیورسٹی کی انتظامیہ میں کالعدم تنظیموں کے آلہ کار ہیں، محمد عباس

وفاقی اردو یونیورسٹی کی انتظامیہ میں کالعدم تنظیموں کے آلہ کار ہیں، محمد عباس
اسلام ٹائمز۔ وفاقی اردو یونیورسٹی میں ایک مخصوص طبقہ جس میں ایسے افراد شامل ہیں جو نہ صرف کرپشن کیس میں نیب کو مطلوب ہیں بلکہ ایسے افراد بھی شامل ہیں، جو کالعدم تنظیموں کے آلہ کار ہیں اور معلومات فراہم کرتے ہیں، ایسے افراد جامعہ میں اہم عہدوں پر فائز ہیں، رجسٹرار ڈاکٹر محمد صارم (نیب کو مطلوب)، ڈین کلیہ سائنس سمیت ایک خاص لابی قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانے کے لئے مسلکی بنیادوں پر بھیانک کھیل کھیلنے میں مصروف ہیں اور اسی سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے اس سال جامعہ کی انتظامیہ کی جانب سے یومِ حسین (ع) کے انعقاد پر بھی پابندی عائد کردی گئی، ہم وائس چانسلر جامعہ اردو الطاف حسین کی جانب سے طلبہ پر لگائے جانے والے من گھڑت الزامات اور اس کی بنیاد پر پرُامن طلبہ کو گرفتار کرنے، ان پرتشدد کرنے  اور ان کے خلاف جھوٹ پر مبنی FIR  کی بھرپور مذمت کرتے ہیں اور ایف آئی آر کو فوری ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار آئی ایس او پاکستان کراچی ڈویژن کے صدر محمد عباس نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر انجمن طلباء اسلام کراچی کے جنرل سیکرٹری محمد حسان الرحمنٰ، ناظمِ اعلیٰ آل سندھ کالجز اور یونیورسٹی محمد خرم خان، جنرل سیکرٹری آئی ایس او کراچی ریحان اکبر، صدر آئی ایس او کراچی وفاقی اردو یونیورسٹی یونٹ محمد فاضل بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ محمد عباس کا کہنا تھا کہ وفاقی اردو یونیورسٹی کی انتظامیہ کا تعصبانہ رویہ اور وفاقی اردو یونیورسٹی کے ڈپٹی رجسٹرار کی جانب سے یومِ حسین (ع) کے منتظمین کو فون کال پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دینا، اس عمل کو بغض کے علاوہ اور کیا سمجھا جائے؟۔

اس موقع پر انجمن طلباء اسلام کے ناظم ِ اعلیٰ آل سندھ کالجز اور یونیورسٹی محمد خرم خان کا کہنا تھا کہ وائس چانسلر ڈاکٹر الطاف حسین رقص و سرور کی محفلوں کا انعقاد کو بڑے جذبے سے کرتے ہیں لیکن یوم مصطفی (ص) اور یوم حسین (ع) پر پابندی عائد کرتے ہیں جو ان کے یزیدی آلہ کار ہونے کا واضح ثبوت ہے۔ محمد خرم خان کا مزید کہنا تھا کہ تعلیمی اداروں میں فرقہ واریت کو فروغ دیا جائے گا، تعصبانہ رویہ اختیار کیا جائے گا تو ملک کا نظام کیسے بڑھے گا ملک ترقی کیسے کرے گا۔ مقررین نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جامعہ کی انتظامیہ طلبہ و طالبات اور تدریسی و غیر تدریسی عملے کے بارے میں اپنا مؤقف واضح کرے، جامعہ میں میرٹ کی پامالی کو بند کیا جائے اور مسلکی بنیادوں پر ملازمتوں غیر اعلانیہ پابندی کو ختم کیا جائے اور متعصب، فرقہ پرست رجسٹرار جو کہ کرپشن کے کیس میں نیب کو مطلوب ہیں فوری برطرف کرکے کسی اہل شخص کو رجسٹرار تعینات کیا جائے۔
خبر کا کوڈ : 822968
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے