0
Sunday 20 Oct 2019 16:05

ایم ڈبلیو ایم پاکستان شعبہ امور خارجہ کے زیر اہتمام سید الشہداء بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد

ایم ڈبلیو ایم پاکستان شعبہ امور خارجہ کے زیر اہتمام سید الشہداء بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد
اسلام ٹائمز۔  20 صفر 1441ھ کو عراق کے شہر کربلا مقدسہ میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے شعبہ امور خارجہ کے زیر اہتمام دوسری سالانہ بین الاقوامی سید الشہداء کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ ایم ڈبلیو ایم کے سربراہ جناب حجت الاسلام و المسلمین علامہ راجا ناصر عباس جعفری نے سید الشہداء کانفرنس میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ ان کے علاؤہ بزرگ عالم دین اور ایم ڈبلیو ایم پاکستان کے بانی رکن جناب حجت الاسلام و المسلمین غلام حر شبیری، انصاراللہ یمن کی سیاسی شورای کے رکن جناب شیخ محمد قبلی، کتائب سید الشہداء عراق کی ایگزیکٹو کونسل کے رکن جناب حجت الاسلام و المسلمین شیخ کاظم فرطوسی، اسلامک موومنٹ نائجیریا کے جناب شیخ انس شعیب آدم نے بطور مہمان مقرر شرکت کی۔ ایم ڈبلیو ایم پاکستان کے شعبہ امور خارجہ کے سربراہ جناب حجت الاسلام و المسلمین ڈاکٹر سید شفقت حسین شیرازی نے افتتاحی کلمات ادا کیے۔

انہوں نے کہا کہ اربعین کے اس عظیم اجتماع کے موقع پر شہدائے کربلا کے جوار میں کانفرنس منعقد کرنے کا ایک مقصد دنیا بھر سے تشریف لانے والے مومنین سے رابطہ اور ملاقات ہے۔ انہوں نے کہا اس اہم موقع پر سید الشہداء کانفرنس کے انعقاد کا مقصد اربعین حسینی کے عظیم اجتماع کی برکات اور پیغام کی تبلیغ اور تشہیر کی مہم میں اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ سید الشہداء کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یورپ سے تشریف لانے والے بزرگ عالم دین اور ایم ڈبلیو ایم پاکستان کے بانی رکن جناب حجت الاسلام و المسلمین غلام حر شبیری نے کہا کہ کربلا کا اصل پیغام ذلت کی زندگی سے دوری ہے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا اربعین حسینی نے ایک نیا سماجی نظام متعارف کروایا ہے جس میں تمام انسانی فضائل دیکھے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا استکبار ہمیشہ سے معاشروں پر جہالت مسلط کرکے انہیں گمراہ رکھنا اور انسانی فضائل سے دور رکھنا چاہتا ہے لیکن مکتب کربلا انسان کو علم کے زیور سے آراستہ کرتا اور معاشروں میں انسانی فضائل کو رائج کرنا چاہتا ہے اور اربعین حسینی انہی انسانی فضائل کا مظہر ہے۔

سید الشہداء کانفرنس میں کتائب سید الشہداء عراق کی ایگزیکٹو کونسل کے رکن حجت الاسلام و المسلمین شیخ کاظم فرطوسی نے کہا یہ اربعین حسینی کی برکات ہیں کہ آج ہم سب یہاں جمع ہیں۔ انہوں نے کہا ہم نے کربلا اور اربعین کی برکات کی بدولت داعش جیسے خبیث دشمن کو شکست دی ہے اور دنیا بھر میں مستضعفین جہاں بھی ظلم کے مقابلے میں کھڑے ہیں وہ کربلا کی بدولت ہے کیونکہ کربلا نے انسانیت کو عزت کے ساتھ جینے کا راستہ دکھا دیا ہے۔ انہوں نے کہا دشمنِ انسانیت یمن، کشمیر، عراق، شام، فلسطین اور لبنان میں ہر جگہ ظلم و ستم روا رکھے ہے جس کی وجہ صرف یہ ہے کہ ان خطوں کے مسلمان دشمن کے سامنے تسلیم نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا کشمیری مسلمانوں کا قصور بھی یہی ہے کہ وہ ظلم کے سامنے نہیں جھکے اور یہ استقامت صرف مکتب کربلا سیکھاتا ہے۔ انہوں نے کشمیر سمیت دنیا بھر کے مظلوموں کے ساتھ اظہار ہمدردی کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے جس خطے میں بھی مظلومین ظالموں اور مستکبرین کے مقابلے میں استقامت دکھا رہے ہیں ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہم ان کی حمایت کرتے ہیں۔

ایم ڈبلیو ایم پاکستان شعبہ امور خارجہ کے زیر اہتمام کربلا میں منعقدہ سید الشہداء کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انصار اللہ یمن کی سیاسی شورای کے رکن جناب شیخ محمد قبلی نے کہا کہ یمنی عوام نے امام حسین ع کے قیام سے سبق لیتے ہوئے ظلم کے مقابلے میں جو قیام کیا ہے اس اور امام حسین ع کے قیام میں کئی مماثلتیں ہیں۔ قیام امام حسین ع اور یمنی مزاحمت کے درمیان موجود مماثلتوں کا ذکر کرتے ہوئے جناب شیخ محمد قبلی نے کہا کہ جیسے امام حسین ع اصلاح امت کے لیے اٹھے ہم یمنی بھی ویسے ہی اصلاح حالِ امت یمن کی جدو جہد کے بانی ہیں۔ انہوں نے کہا امام حسین ع نے فرمایا میں نے دین میں کوئی تبدیلی نہیں کی جو تم مجھے قتل کرو اسی طرح ہم یمنیوں نے دین یا کسی بین الاقوامی عرف یا قانون کے خلاف کوئی بغاوت نہیں کی جو ہمیں قتل کیا جائے۔ انہوں نے مزید فرمایا امام حسین ع ذلت قبول نہیں کی اور یمنی قوم نے بھی ذلت کی زندگی قبول کرنے سے انکار کیا ہے۔ انہوں نے کہا امام حسین ع کے دشمن بھی رسوا ہوئے اور اللہ کے حکم سے انشااللہ یمنی قوم کے دشمن بھی رسوا اور ذلیل ہوں گے۔

سید الشہداء کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا جب مظلوم خاموش رہتا ہے تو ظالم کا حوصلہ بڑھتا اور اس کے ظلم کی شدت میں اضافہ ہوتا ہے لیکن جب ظلم کے مقابلے میں کھڑا ہو جایا جائے تو شکست ظالم کا مقدر ٹھہرتی ہے۔ انہوں نے پاکستانی شیعہ قوم اور قیادت کا شکریہ ادا کیا اور یمنی مزاحمتی قیادت خصوصاً انصار اللہ کی قیادت کا شکریہ اور نیک خواہشات ان تک پہنچائیں۔ دوسری سالانہ بین الاقوامی سید الشہداء کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسلامک موومنٹ نائجیریا کے رہنما جناب شیخ انس شعیب آدم نے کہا آیت اللہ شیخ ابراہیم زکزاکی کی تبلیغ سے دشمن نے خطرہ محسوس کیا تو ان کی فعالیت کو محدود کرنے کا فیصلہ کیا لیکن جب وہ اس میں ناکام رہے تو انہوں اسلامک موومنٹ کے کارکنوں پر ظلم و ستم کا راستہ لیا۔ انہوں نے کہا اسی دوران شیخ ابراہیم زاکزاکی کے تین بیٹے شہید کردئیے گئے بعدازاں شیخ کے گھر پر حملہ کرکے مزید تین بیٹے شہید اور شیخ ابراہیم اور ان کی اہلیہ کو زخمی کرکے گرفتار کرلیا گیا۔ انہوں نے کہا نائجیریا میں ہونے والا ظلم دنیا میں ڈھائے جانے والے مظالم کی ہی ایک کڑی ہے۔

انہوں نے کہا آیت اللہ شیخ ابراہیم زکزاکی کو جب ہندوستان جاکر علاج کروانے کی اجازت ملی تو امریکہ و ہندوستان جاسوسی اداروں اور کرائے کے قاتلوں کے ذریعے ان کی جان کے درپے ہوگئے۔ انہوں نے مزید کہا شیخ ابراہیم زکزاکی کو ہندوستان میں قتل کردیے جانے کا خطرہ محسوس ہوا تو انہوں نے واپس نائجیریا جانے کا فیصلہ کیا اور اب گزشتہ تین ماہ سے ہمارا ان سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا ہم نے نائجیریا میں مکتب سید الشہداء اختیار کیا ہے اور ہمارا عہد ہے کہ ہم سید الشہداء کی طرح استقامت دکھائیں اور ظلم کو سرنگوں کردیں گے۔ انہوں نے نائجیریا کی اسلامی تحریک کی قیادت کی جانب سے پاکستانی شیعہ قوم اور قیادت کا اس تحریک اور شیخ ابراہیم زکزاکی کی آزادی کی مہم کی حمایت پر خصوصی شکریہ ادا کیا۔ دوسری سالانہ سید الشہداء کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کانفرنس کے مہمان خصوصی ایم ڈبلیو ایم پاکستان کے سربراہ جناب حجت الاسلام و المسلمین علامہ راجا ناصر عباس جعفری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اربعین حسینی کا عظیم اجتماع مقاومت کا مرہون منت ہے۔ انہوں نے کہا اگر مقاومت نہ ہوتی تو اربعین حسینی کا یہ عظیم اجتماع بھی نہ ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ مقاومت کی کامیابیوں نے اربعین حسینی کے بے مثال اجتماع کا مقدمہ فراہم کیا ہے۔ انہوں نے مزید فرمایا قیام امام حسین ع کا مقصد اور مخاطب امت اسلامی ہے۔ انہوں نے زیارت عاشورا کے پرنور جملات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا جب ہم زیارت عاشورا میں قاتلین امام حسین ع کی مذمت کرتے ہیں تو ایک جگہ اس امت کی مذمت کرتے اور اس پر لعنت کرتے جس نے امام پر ظلم کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے کہا کہ غرض و غایت تشکیل و اصلاح امت محمدی ہے اور اربعین حسینی تشکیل امت کا مرحلہ ہے، ایک ایسی امت جس میں تمام انسانی فضائل بدرجہ اتم موجود ہوں جیسے اربعین حسینی کے اجتماع میں نظر آتے ہیں۔ انہوں نے حضرت زینب س کے اس پرنور اور بامعرفت جملے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جب سیدہ زینب س نے دربار یزید میں یزید کے جواب میں فرمایا تھا "میں نے سوائے جمال کے کچھ نہیں دیکھا" انہوں نے فرمایا سیدہ زینب س اس ہمارے دور کو دیکھ رہی تھیں اور ان کی اس معرفت بھری گفتگو میں ہمارے زمانے کے حالات کی پیشگوئی بھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج آپ دیکھتے ہیں کہ اربعین حسینی کا اجتماع سوائے جمال اور خوبصورتی کے یہاں کچھ نظر نہیں آتا۔ ہر طرف اعلی انسانی صفات اور فضائل ہی نظر آتے ہیں۔ انہوں نے مقاومت کی کامیابیوں کا ذکر کیا اور کہا کہ یہ دور تشکیل امت کا مرحلہ ہے انہوں نے کہا ہم تشکیل امت کے مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں۔ ایک ایسی امت جس میں ہر رنگ نسل قوم قبیلے اور دین و مذہب کے لوگ شامل ہوں گے یعنی ایک عظیم انسانی معاشرہ تشکیل پارہا ہے۔ انہوں نے اس عنوان سے کہا کہ ہمیں اس مرحلے پر اپنی ذمہ داریوں کی پہچان کرنی اور ان کی ادائیگی کا اہتمام کرنا ہے۔ دوسری سالانہ بین الاقوامی سید الشہداء کانفرنس کے اختتام پر ایم ڈبلیو ایم پاکستان کے شعبہ امور خارجہ کے سربراہ حجت الاسلام و المسلمین ڈاکٹر سید شفقت حسین شیرازی نے تمام معزز مہمانوں اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور کانفرنس کے اختتام کا باقاعدہ اعلان فرمایا۔
خبر کا کوڈ : 823072
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب