0
Monday 21 Oct 2019 11:34

وائس چانسلر کی معطلی کافی نہیں، پوری ٹیم کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے، جان محمد بلیدی

وائس چانسلر کی معطلی کافی نہیں، پوری ٹیم کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے، جان محمد بلیدی
اسلام ٹائمز۔ نیشنل پارٹی کی مرکزی کال پر بلوچستان یونیورسٹی میں طالبات کو جنسی طور پر ہراساں کرنے اور بلیک میلنگ کے خلاف پریس کلب کوئٹہ، تربت، خضدار، حب لسبیلہ، نصیر آباد، کوہلو، پنجگور، نوشکی، خاران، چاغی، مستونگ، بولان، واشک، جعفر آباد، بارکھان سمیت پورے بلوچستان میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔ کوئٹہ پریس کلب کے باہر احتجاجی جلسے سے پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل جان محمد بلیدی، مرکزی سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر اسحاق بلوچ، ضلع کوئٹہ کے صدر حاجی عطاء محمد بنگلزئی، بلوچستان کے نائب صدر رحمت صالح بلوچ، خواتین صوبائی سیکرٹری ڈاکٹر شمع اسحاق بلوچ، ممبر سینٹرل کمیٹی نیاز بلوچ، صوبائی سیکرٹری اطلاعات علی احمد لانگو، ڈپٹی جنرل سیکرٹری حاجی عبدالصمد رند، بی ایس او کے وائس چیئرمین ملک زبیر بلوچ، صوبائی ورکنگ کمیٹی کے رکن مشکور بلوچ، صوبائی سیکرٹری میڈیا سعد دہوار صوبائی فنانس سیکرٹری سعید سمالانی نے خطاب کیا۔

احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی سیکرٹری جنرل جان محمد بلیدی نے کہا کہ بلوچستان یونیورسٹی میں اس گھناؤنے عمل میں سابقہ وائس چانسلر اسکی پوری انتظامی ٹیم ملوث ہے، صرف وائس چانسلر کی معطلی کافی نہیں اس دوران انکی پوری ٹیم کو برطرف کر کے ایف آئی اے کی تحقیقات اور ثبوتوں کی روشنی میں انکو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے پر صوبائی حکومت خاموش ہے۔ اسمبلی میں کمیٹی بنائی گئی کہ واقعہ کی تحقیقات کی جائیں گی اس قسم کی کمیٹی کا قیام اس سلگتے ہوئے اہم مسئلے کو سردخانے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ کمیٹی تو بنائی گئی لیکن کمیٹی کے اراکین چیئرمین کے انتخاب پر آپس میں الجھ گئے، یہ کمیٹی اتنے سنگین واقعہ کی کیا تحقیقات کریگی بلکہ اس مسئلے کو مزید پیچیدہ اور التواء میں ڈال دے گی۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان یونیورسٹی کی بدانتظامی اور نااہل وائس چانسلر کے اقدامات کے خلاف نیشنل پارٹی نے اسمبلی میں قرارداد پاس کی اور اس کے بعد ایف آئی اے نے تحقیقات کی اور سارے ثبوت موجود ہیں، انکی روشنی میں سابقہ وائس چانسلر اور اسکی پوری نااہل کرپٹ انتظامیہ کے خلاف مقدمہ قائم کر کے انہیں گرفتار کیا جائے، انہوں نے کہا کہ سابقہ وائس چانسلر نے 1992ء میں بھی ایک طالبہ کے ساتھ غیر اخلاقی حرکات کیں جسکی وجہ سے انہیں استعفیٰ دینا پڑا تھا۔ خفیہ کیمروں کی تنصیب بغیر وائس چانسلر کی منظوری کے ہو نہیں سکتی۔ انہوں نے کہا کہ اس قسم کے غیر اخلاقی اقدامات کا مقصد صرف یہ ہے کہ بلوچستان کے طلباء اور طالبات پر درس و تدریس کے دروازے بند کئے جائیں، جو بلوچستان کے لئے تعلیم دشمنی ہے، انہوں نے کہا کہ ایک طرف پورا بلوچستان اور ملک اس واقعہ کے خلاف سراپا احتجاج ہے، لیکن ایک قوم پرست جماعت کے رکن اسمبلی نے جا کر وائس چانسلر سے ملاقات کر کے اپنے کچھ لوگوں کی تعیناتی کروائی ہے، وائس چانسلر اور انکی انتظامی ٹیم کے خلاف تعیناتی سے لیکر آج تک تحقیقات کی جائیں، جس میں مالی بدعنوانی، ڈگریوں کی بندر بانٹ، اقرباء پروری اور غیر قانونی تعیناتیاں شامل ہونی چاہئیں۔
خبر کا کوڈ : 823176
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے