0
Monday 21 Oct 2019 12:28

شام سے نکل کر عراق میں کرد اتحادیوں کے ساتھ داعش کیخلاف جنگ لڑیں گے، امریکہ

شام سے نکل کر عراق میں کرد اتحادیوں کے ساتھ داعش کیخلاف جنگ لڑیں گے، امریکہ
اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شام سے فوج کو واپس گھر بلانے کے دعوے کے بر خلاف پینٹاگون کے صدر کا کہنا ہے کہ فوج شام سے نکل کر عراق جائے گی اور داعش کے خلاف فوجی آپریشن جاری رہے گا۔ خبر ایجنسی اے پی کی رپورٹ کے مطابق امریکا کے سیکریٹری دفاع مارک ایسپر نے افغانستان پہنچنے سے قبل کہا تھا کہ ہماری فوج گھر نہیں آرہی اور امریکا مشکلات کے شکار مشرق وسطیٰ کو نہیں چھوڑ رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ منصوبوں کے مطابق داعش کے خلاف کرد اتحادیوں کے ساتھ شام میں امریکا کی جنگ کو اب امریکی فورسز پڑوسی ملک عراق سے جاری رکھیں گے۔ ان کے ساتھ سفر کرنے والے صحافیوں کی جانب سے امریکی فوج کا عراق سے شام میں انسداد دہشت گردی کے آپریشنز کے حوالے سے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں وقت کے ساتھ فیصلہ کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے امریکی صدر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی سپاہی اب میدان جنگ یا جنگ بندی کے زونز میں نہیں ہیں، ہم نے تیل کو محفوظ بنادیا ہے، اپنے سپاہیوں کو گھر واپس لارہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اب ہمارے گھر آنے کا وقت آگیا ہے۔ مارک ایسپر کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے عراقی ہم منصب سے ایک ہزار فوجیوں کو شام سے مغربی عراق منتقل کرنے کے حوالے سے بات کی ہے۔ دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی اور نگراں چیف آف اسٹاف مک ملوانے نے امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ امریکی فوج گھر واپس آئے گی، فی الوقت انہیں خطرے سے نکالنے کا فوری حل عراق بھیجنا تھا۔ واضح رہے کہ ترکی نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اپنی فوج کو وہاں سے بے دخل کرنے کے اچانک فیصلے کے فوری بعد شمالی شام میں کردوں، جسے وہ دہشت گرد قرار دیتا ہے، کے خلاف فوجی آپریشن کا آغاز کردیا تھا۔

کرد جنگجو شام میں امریکی اتحادی تھے اسی لیے ٹرمپ کے اچانک فیصلے کو واشنگٹن میں اپنے اتحادیوں سے دھوکے سے تعبیر کیا گیا۔ ٹرمپ کے فیصلے کو کرد جنگجوؤں نے بھی پیٹھ میں چھرا گونپنے، کے مترادف قرار دیا تھا، تاہم امریکی صدر نے اس تاثر کو رد کردیا۔ ترکی کا کئی برسوں سے یہ موقف ہے کہ شام میں موجود کرد جنگجو دہشت گرد ہمارے ملک میں انتہا پسند کارروائیوں میں ملوث ہیں اور انہیں کسی قسم کا خطرہ بننے سے روکنا ہے۔ رواں ہفتے ترک صدر طیب اردوان ور امریکی نائب صدر مائیک پینس کے درمیان مذاکرات میں طے پایا تھا کہ شام کی شمال مشرقی سرحد پر ترکی کے سیف زون کی تعمیر کرنے کے منصوبے کے لیے کرد جنگجووں کی دستبرداری تک 5 روزہ جنگ بندی ہوگی۔ جنگ بندی معاہدے کے بعد سرحد میں حالات بہتر ہوئے تھے تاہم گزشتہ روز ایک مرتبہ جھڑپ ہوئی جس کے ترک وزارت دفاع نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ شمالی شام میں جنگ بندی کے باوجود کرد ملیشیا نے تل ابیض میں ترک فوج پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں ایک جوان جاں بحق اور دوسرا زخمی ہوگیا۔
خبر کا کوڈ : 823196
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب