0
Tuesday 22 Oct 2019 17:36
حکمران اور ملا فضل الرحمٰن دونوں ہی اہل پاکستان کیلئے بہت بڑی آزمائش ہیں

طالبان اور فضل الرحمٰن ایک ہی سکّے کے دو رخ ہیں، اشرف جلالی

اس قبل کشمیر کی لڑائی اسلام آباد پہنچے، حکومت جہاد کا اعلان کرے
طالبان اور فضل الرحمٰن ایک ہی سکّے کے دو رخ ہیں، اشرف جلالی
اسلام ٹائمز۔ تحریک لبیک یا رسول (ص) کے زیراہتمام لاہور پریس کلب میں 79 روز سے محصور کشمیری مسلمانوں کی حمایت،جے یو آئی کے آزادی مارچ اور مدارس اصلاحات کے حوالے سے پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ تحریک لبیک یا رسول اللہ (ص) کے سربراہ ڈاکٹر اشرف آصف جلالی نے دیگر قائدین علامہ محمد عبد الرشید اویسی، پیر محمد امین اللہ نبیل سیالوی، مفتی محمد عابد جلالی، علامہ محمد فرمان علی حیدری، صاحبزادہ مرتضیٰ علی ہاشمی، مفتی محمد اسحاق جلالی، علامہ محمد صدیق مصحفی، مولانا محمد فیاض وٹو و دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ حکمران اور ملا فضل الرحمٰن دونوں ہی اہل پاکستان کیلئے بہت بڑی آزمائش ہیں۔ جیسے حکمرانوں سے ریاستِ مدینہ کے قیام کی توقع بہت بعید ہے ایسے ہی مولوی فضل الرحمٰن سے نظام اسلام کی توقع بہت بعید ہے۔ میڈیا کا یہ فرض ہے کہ وہ ملک میں موجود صرف دو طبقات حکومت اور مخصوص اپوزیشن ہی کی ترجمانی نہ کرے بلکہ ملک کی ایک بہت بڑی اکثریت جو عمران خان اور ملا فضل الرحمٰن دونوں کیساتھ ہی نہیں، میڈیا کو اس تیسرے طبقے کا بھی موقف اجاگر کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر پر عمران خان کی تقریر کو داد دینے والے بتائیں اتنے دن گزر جانے کے باوجود اس تقریر سے مظلوم کشمیریوں کو کیا کوئی ریلیف ملا؟ ہر گز نہیں، بلکہ ان پر پہلے سے بھی زیادہ مظالم شروع کر دیئے گئے۔ کیا حکومتِ پاکستان اقوامِ متحدہ میں کی گئی ایک تقریر سے مظلوم کشمیریوں کی امداد کے فریضہ سے سبکدوش ہو گئی ہے؟ ہرگز نہیں۔ عمران خان کشمیریوں کا کیسا سفیر ہے جسے اقوام متحدہ میں تقریر کے بعد بھی نہ تو 79 دن سے 85 لاکھ محصور کشمیریوں کی جیل نظر آ رہی ہے اور نہ ہی ایل۔ او۔ سی پر بھارتی گولہ باری کے نتیجے میں روازنہ اٹھتے جنازے نظر آ رہے ہیں۔ اب تو پورے حکمران ٹولے کے پاس مسئلہ کشمیر پر قوم کو تسلی دینے کیلئے بھی کوئی لفظ نہیں بچا۔ ہمارا حکومت سے برملا مطالبہ ہے قبل اس کے کہ سری نگر کی جنگ خدانخواستہ اسلام آباد میں لڑنی پڑے، کشمیر کی آزادی کیلئے اعلان جہاد کر دیا جائے اور جا کر دختران کشمیر کے دوپٹوں کی حفاظت کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ ایک طویل عرصے تک کشمیر کمیٹی کا سربراہ ہونے کے لحاظ سے مولوی فضل الرحمٰن نے کشمیریوں کے ساتھ اتنا ظلم نہیں کیا جتنا کہ آج اس نے کشمیریوں کی پشت میں چھرا گھونپا ہے۔ تحریک آزادی پاکستان میں مولوی فضل الرحمٰن کے آباؤ اجداد سے ان کی اکھنڈ بھارت والی سوچ کی بنیاد پر شاعر مشرق ڈاکٹر محمد اقبال کو جو شکوہ تھا آج پھر روح اقبال تڑپ رہی ہو گی۔ آج 71سال کے بعد جب کشمیر کی آزادی کا فیصلہ کن مرحلہ آیا تو فضل الرحمٰن نے جمعیت علمائے ہند کے راستے پر چلتے ہوئے پھر اپنے مفادات اور کرپشن بچاؤ مارچ کا نام آزادی مارچ رکھ کے زخمی کشمیریوں کے زخموں پر نمک چھڑکتے ہوئے ان سے آزادی کانعرہ تک چھین لیا ہے اور کشمیر کا وہ کاز جسے ہزاروں جانیں دے کر اجاگر کیا گیا تھا، وہ مولوی فضل الرحمٰن کے آزادی مارچ کی لپیٹ میں آ کر بالکل پس پردہ چلا گیا ہے اور آج ایک بار پھر جمعیت علمائے ہند کی پاکستانی برانچ نے اپنا وزن بھارت کے پلڑے میں ڈال دیا ہے۔ پاکستان کے مذہبی و سیاسی ماحول میں مولوی فضل الرحمٰن ایک عجیب و غریب مخلوق ہے۔ یہ مولوی فضل الرحمٰن کا ہی حصہ ہے کہ وہ مذہبی لوگوں کو خوش کرنے کیلئے اپنے اجتماع میں ہزاروں دستاریں اور داڑھیاں دکھا سکتا ہے اور اہل مغرب اور امریکہ کو خوش کرنے کے لیے ہزاروں داڑھیوں والوں کو اعلانیہ نصاریٰ کی صلیب کے نیچے بٹھا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک طرف اس کے مذہبی پس منظر کی وجہ سے بڑے بڑے شیوخ الحدیث اسے اپنا پیشوا سمجھتے ہیں۔ دوسری طرف ہولی کے جلسوں میں نواز شریف جیسے کلمات کفر بولنے والے اور بلاول جیسے دیوی کی پوجا پاٹ کرنے والے بھی اپنے گناہوں کو تحفظ دینے کے لیے اسی فضل الرحمٰن کا سہارا لیتے ہیں۔ اقتدار میں ہو تو حلف نامہ ختم نبوت پر حملہ ہو جانے اور رانا ثناء کی مبینہ قادیانیت نوازی پر بھی چھوٹی سی ریلی بھی نہ نکالے اور اقتدار سے باہر ہو تو پھر اپنی سیٹ کے لیے 15ملین مارچ بھی کر لے۔ چنانچہ مولوی فضل الرحمٰن اپنے وسیع تر تجربات کی وجہ سے ایسے حوض کی شکل اختیار کر چکا ہے جس میں دین بیزار ٹولہ اور مذہبی لوگ بیک وقت اپنے اپنے مقاصد کے لیے آواز بلند کرنے کے لیے غرارے کر سکتے ہیں۔ طویل وقت تک اقتدار میں رہنے والے فضل الرحمٰن کا اپنا کردار پاکستان کو اسلامی، فلاحی سلطنت بنانے سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اس کے ساتھ کھڑے ہوئے مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کے ناموس رسالت سے بے وفائی کرنے والے، کرپٹ اور امریکا نواز نام نہاد سیاستدان ملکی استحکام اور نظام اسلام کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان کے بارے میں قوم کے بہت زیادہ تحفظات ہیں اور درد دل رکھنے والوں کو اس سے  بہت سے خطرات ہیں مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مولوی فضل الرحمٰن اور اس کے ارد گرد کھڑے سیکولر جماعتوں کے لیڈر بھی ہر گز دودھ میں دھلے ہوئے نہیں بلکہ ان کے فضل الرحمٰن کے ساتھ گروپ فوٹو کو دیکھتے ہی خواہ مخواہ دماغ میں علی بابا اور چالیس چور کا تصور آ جاتا ہے۔

ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی نے کہا کہ پاکستان کے اداروں کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ طالبان اور فضل الرحمٰن ایک ہی مخصوص سکّے کے دو رخ ہیں۔ انصار الاسلام نامی عسکری تنظیم ”تحریک طالبان“ کا ہی ایک نیا گیٹ اپ ہے۔ چنانچہ آثار بتا رہے ہیں وہی”ملا فضل الرحمٰن“ جس نے 30سال تک جمہوریت سے مفادات حاصل کیے ہیں۔ اب ”ملا فضل اللہ“ بن کر نفاذ شریعت کے نام پر بھی اقتدار کا مزہ چکھنا چاہتا ہے۔ یاد رہے یہ وہی جمعیت علمائے اسلام ہے جس نے پرویز مشرف دور سے پہلے مینارِ پاکستان پر جلسہ کرتے ہوئے یہ نعرہ بلند کیا تھا،”مستقبل کے حکمران، طالبان طالبان“۔ ریاست کے اداروں کو مخاطب کرنے کے ملافضل الرحمٰن کے جارحانہ انداز سے مارچ کے پس پردہ عزائم کو سمجھنا مشکل نہیں۔ حکومت نے جس قدر ملا فضل الرحمٰن کو میڈیا کے ذریعے ابھرنے کی گنجائش دی ہے۔ اس سے یہ تاثر بھی پختہ ہو رہا ہے کہ مظلوم کشمیریوں کی عملی مدد سے گریزاں اور مقبوضہ کشمیر سے نظریں چراتی حکومت کو کشمیر کاز سے قوم کی توجہ ہٹانے کے لیے کسی ایسے ایشو کی ضرورت تھی کہ جس پر اتنے ٹاک شوز ہوں کہ قوم کو مظلوم کشمیریوں کا درد یاد ہی نہ رہے ملا فضل الرحمٰن نے آزادی مارچ کا اعلان کر کے حکومت کی اس مشکل کو حل کر دیا ہے۔
خبر کا کوڈ : 823471
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب