0
Wednesday 23 Oct 2019 10:32

پاکستان میں شیعہ سنی فسادات کرانے کی بڑی سازش پکڑی گئی

پاکستان میں شیعہ سنی فسادات کرانے کی بڑی سازش پکڑی گئی
اسلام ٹائمز۔ ملک میں شیعہ سنی فسادات کرانے کی بڑی سازش پکڑی گئی، شیعہ علماء کونسل کے لیٹر پیڈ پر سنی دینی جماعت پاکستان علماء کونسل کیخلاف من گھڑت اور بے بنیاد الزامات عائد کر کے سکیورٹی اور انتظامی اداروں کو خطوط لکھنے والے افراد کا سراغ لگا لیا گیا۔ ایک رپورٹ کے مطابق سکیورٹی فورسز نے سازش کرنیوالے 3 افراد کیخلاف گھیرا تنگ کرتے ہوئے ثبوت اکٹھے کر لئے ہیں، سازش کرنیوالوں میں سابق وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ کا فرنٹ مین اور محکمہ اوقاف کا سابق کوآرڈی نیٹر بھی شامل ہے۔ ذرائع کے مطابق ملزمان کی کسی وقت بھی گرفتاریاں متوقع ہیں۔ شیعہ علماء کونسل نے حکومت اور سکیورٹی اداروں سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی جماعت کا جعلی لیٹر پیڈ بنانے اور ملک میں منافرت پھیلا کر فسادات کرنیوالےعناصر کو بے نقاب کرتے ہوئے سخت ترین سزا دی جائے۔

رپورٹ کے مطابق چند شرپسند عناصر نے ملک میں فرقہ وارانہ فسادات بھڑکانے کیلئے ایک سازش کے تحت متحدہ علما بورڈ  پنجاب کے چیئرمین حافظ طاہر اشرفی اور ان کی جماعت پاکستان علماء کونسل کیخلاف گذشتہ کچھ عرصہ سے سکیورٹی اداروں اور انتظامیہ کو مختلف ناموں اور دینی جماعتوں کے جعلی لیٹر پیڈز پر خطوط لکھ کر بے بنیاد، من گھڑت اور جھوٹے الزامات کا سلسلہ شروع کر رکھا تھا، جسے سکیورٹی اداروں نے ناکام بناتے ہوئے ملک میں فرقہ وارانہ فسادات کرانے کی بڑی کوشش کو ناکام بنا دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق چند روز قبل شیعہ علماء کونسل کے جعلی لیٹر پیڈ پر سکیورٹی اداروں اور حکومتی ذمہ داران کو حافظ طاہر اشرفی اور ان کی جماعت پاکستان علماء کونسل کیخلاف ایک ہی طرح کے بےبنیاد، جھوٹے اور من گھڑت الزامات پر مبنی خطوط بھیجنے کا سلسلہ شروع کیا گیا جس پر سکیورٹی اداروں نے مشکوک خطوط کی چھان پھٹک کی تو انکشاف ہوا کہ شیعہ علماء کونسل کی جانب سے ایسا کوئی خط بھی تحریر نہیں کیا گیا، جس پر  معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے سکیورٹی اداروں نے اپنی تفتیش کا دائرہ بڑھا دیا۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق اس سازش میں ملوث تین افراد کا سراغ لگا لیا گیا ہے جن کا تعلق فیصل آباد سے ہے، جبکہ سازش میں ملوث ایک شخص مسلم لیگ نون کے رہنما اور سابق وزیر قانون رانا ثناء اللہ کا فرنٹ مین اور محکمہ اوقاف کا سابق کوآرڈینیٹر ہے۔ سکیورٹی اداروں نے جس ڈاک خانے سے سکیورٹی اور حکومتی اداروں کو خطوط بھیجے گئے ہیں، اس کا سراغ لگاتے ہوئے ریکارڈ قبضے میں لے لیا ہے جبکہ سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کر لی ہے۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک میں فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے والے افراد کیخلاف گھیرا مزید تنگ کیا جا رہا ہے اور آنیوالے تین سے چار روز تک سازش میں ملوث افراد کیخلاف مقدمہ درج کرتے ہوئے گرفتاریاں بھی کی جائیں گی۔
خبر کا کوڈ : 823537
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب