0
Wednesday 23 Oct 2019 12:19
چوری کے الزام میں ملوث ماڈل گرل وزیراعظم آفس میں

ماڈل گرل وزیراعظم آفس میں عمران خان کی کرسی پہ بیٹھ گئی

حریم شاہ بغیر کسی خوف کے وزیراعظم آفس میں گھومتی پھرتی رہی
ماڈل گرل وزیراعظم آفس میں عمران خان کی کرسی پہ بیٹھ گئی
اسلام ٹائمز۔ پاکستان کی معروف ماڈل اور سوشل میڈیا سٹار حریم شاہ وزیراعظم پاکستان عمران خان کی کرسی پہ بیٹھ گئیں۔ سوشل میڈیا پہ اپ لوڈ کی گئی وڈیو میں باآسانی دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک ماڈل گرل وزیراعظم پاکستان کے دفتر میں آزادی سے گھوم پھر رہی ہیں، وڈیو میں حریم شاہ کو وزیراعظم کی کرسی پہ بھی بیٹھے ہوئے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ یہ بات بھی ہمیشہ سے قابل غور رہی کہ آخر ماڈل گرلز کو کو ان سیاستدانوں تک باآسانی رسائی کیسے مل جاتی ہے۔ سوشل میڈیا پر حریم شاہ کی اس ویڈیو پر سخت ردِعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی کرسی پر تو کوئی وزیر بھی نہیں بیٹھ سکتا پھر ایک ماڈل کو وزیراعظم کی کرسی پر کیسے بیٹھنے دیا گیا۔ صارفین نے وزیراعظم آفس کی سکیورٹی پر بھی سخت سوالات اٹھائے ہیں اور کہا کہ جب یہ ماڈل وزیراعظم آفس میں گھوم پھر رہی تھی اور عمران خان کی کرسی پر بیٹھ کر ویڈیوز بنوا رہی تھی تب وزیراعظم آفس کا عملہ اور سکیورٹی کہاں تھی؟۔

حریم شاہ کی اس ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ حریم شاہ اس جگہ موجود ہیں جہاں کابینہ کی میٹنگز ہوتی ہیں اور جس کرسی پر بیٹھ کر وزیراعظم اجلاسوں کی صدارت کرتے ہیں، اُسی کرسی پر حریم شاہ براجمان ہیں۔ یاد رہے کہ اس سے قبل سینئیر صحافی مبشر لقمان کی جانب سے ٹک ٹاک ویڈیوز بنانے والی دو لڑکیوں بشمول حریم شاہ کے خلاف مقدمے کی درخواست ماڈل ٹاؤن لاہور کے تھانہ نصیر آباد میں بھیجی گئی تھی۔ ایس پی ماڈل ٹاؤن پولیس اسٹیشن کا کہنا تھا کہ انکوائری کے بعد مقدمہ درج کیا جائے گا۔ تفتیش کے دوران اس پہلو پر بھی تحقیقات کی جائیں گی کہ دونوں لڑکیاں لاہور ائیر پورٹ کی حدود کے اندر کیسے داخل ہوئیں۔ مبشر لقمان نے ان لڑکیوں کی جانب سے کی جانے والی چوری کے پیچھے صوبائی وزیر برائے جنگلات وائلڈ لائف اینڈ فشری فیاض الحسن چوہان کا ہاتھ ہونے کا دعویٰ کیوں کیا تھا۔درخواست میں مبشر لقمان نےمؤقف اختیار کیاتھا کہ فیاض الحسن چوہان کی ایماء پر دونوں لڑکیاں میرے جہاز میں گُھسیں اور لاکھوں روپے مالیت کی کیمروں سمیت دیگر سامان لے اُڑیں۔ یہاں پر صارفین نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ اگر یہ صحافی کے ہیلی کاپٹر میں سے چوری کر سکتی ہیں تو وزیراعظم آفس سے بھی کچھ نہ کچھ چرا سکتی ہیں۔
خبر کا کوڈ : 823558
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب