0
Thursday 24 Oct 2019 06:29
کسی قیمت پر استعفیٰ نہیں دونگا

اسرائیل ایران اور سعودیہ کے درمیان جنگ اور ہم صلح چاہتے ہیں، عمران خان

مولانا فضل الرحمان اور بھارت کا ایک ایجنڈا ہے
اسرائیل ایران اور سعودیہ کے درمیان جنگ اور ہم صلح چاہتے ہیں، عمران خان
ترتیب و تنظیم: ٹی ایچ بلوچ

وزیراعظم عمران خان نے اپوزیشن کے مطالبے پر کسی بھی قیمت پر  استعفیٰ نہ دینے کا اعلان کیا ہے۔ سینئر صحافیوں، تجزیہ کاروں اور اینکر پرسنز سے پونے 2 گھنٹے طویل ملاقات میں وزیراعظم عمران خان نے ملکی سیاسی اور معاشی صورتحال پر گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ استعفے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، کسی بھی قیمت پر استعفیٰ نہیں دوں گا اور اس طرح ملک کو چھوڑ کر نہیں جاؤں گا۔ وزیراعظم نے دعویٰ کیا کہ وہ ملک کو مشکلات سے نکال کر دکھائیں گے، منہگائی اور بیروزگاری بڑے مسائل ہیں اور یہ کہ وہ اس پر کام کر رہے ہیں۔ خیال رہے کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) نے حکومت کے خلاف 27 اکتوبر کو آزادی مارچ کا اعلان کر رکھا ہے جس کی جماعت اسلامی کے علاوہ تمام سیاسی جماعتوں نے حمایت کر رکھی ہے جب کہ جے یو آئی ف اور رہبر کمیٹی کی جانب سے حکومت سے مذاکرات کے لیے سب سے پہلے وزیراعظم عمران خان کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ 

سینئر صحافیوں سے ملاقات میں وزیراعظم  نے مزید کہا کہ اپوزیشن کی ہر جماعت مختلف بات کر رہی ہے نہیں معلوم اُن کا ایجنڈا کیا ہے؟ نواز شریف کچھ اورکہتے ہیں، مولانا صاحب کچھ جب کہ بلاول بھٹو اور  شہباز شریف کچھ اور کہتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان کے حوالے سے عمران خان کا کہنا تھا کہ مولانا کے احتجاج کا ایک مخصوص ایجنڈہ ہے، بھارتی میڈیا دیکھیں مولانا فضل الرحمان کے دھرنے پر خوشیاں منائی جارہی ہیں، بھارت پہلے مولانا حضرات کے خلاف تھا لیکن آج دھرنے پر خوشیاں منا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا کے انٹرویو اور خبر چلانے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مولانا ہر سیاسی جماعت کو الگ الگ ایجنڈا بتاتے ہیں، حکومتی کمیٹی اپوزیشن کی رہبر کمیٹی سے مذاکرات کرے گی تاکہ ان کا ایجنڈا جان سکیں۔ وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ اشارے ایسے مل رہے ہیں کہ مولانا فضل الرحمان کو باہر سے سپورٹ حاصل ہے۔

انہوں نے کہا کہ اِس دھرنے کا وقت بہت اہم ہے، دھرنے کی وجہ سے کشمیر کے ایشو سے ساری توجہ ہٹ چکی ہے، فی الحال مولانا فضل الرحمان کی یہ خواہش ہے کہ مائنس وزیراعظم ہوجائے اور ان  کی یہ خواہش اس لیے ہےکہ وزیراعظم کرپشن کےخاتمے کے پیچھے ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل چاہتا ہے کہ سعودی عرب اور ایران میں جنگ ہو لیکن پاکستان کی کوشش ہے کہ سعودی عرب اور ایران میں مصالحت کرائی جائے، خواہش ہے ایران اور سعودی وزرائے خارجہ کی پاکستان میں ملاقات کراؤں۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اور ایران کی لڑائی ہمارے لیے بھی خطرناک ہوسکتی ہے۔ یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے مشروط طور پر اپوزیشن کو آزادی مارچ کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ دوسری جانب وفاقی حکومت نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے آزادی مارچ کو روکنے کی تیاریاں شروع کردی ہیں اور دریائے سندھ پر پنجاب اور خیبرپختونخوا کو ملانے والے اٹک پل پر کنٹینرز پہنچادیے ہیںْ

اٹک پُل کو بند کرنے کیلئے وزارت داخلہ کے فیصلے کا انتظار کیا جارہا ہے، پل پر کنٹینرز لگانے کا کام جاری ہے تاہم ٹریفک کے لیے ابھی ایک لین کھلی ہے۔ پولیس حکام کے مطابق وزارت داخلہ کا حکم ملتے ہی اٹک پل کو مکمل بند کردیا جائے گا جبکہ ذرائع کا کہنا ہے کہ آزادی مارچ کے پیش نظر پشاور سے لاہور جی ٹی روڈ بھی بند کیے جانے کا امکان ہے۔ اُدھر وفاقی دارالحکومت میں آزاد کشمیر، پنجاب اور بلوچستان سے اضافی پولیس نفری طلب کرلی گئی ہے جنہیں ٹھہرانے کیلئے اسلام آباد کی سرکاری عمارتیں خالی کرانے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ اسلام آباد اور کراچی میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے کارکنوں کو گرفتار بھی کیا گیا ہے جن پر مختلف مقدمات بنائے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وفاقی حکومت نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کی ذیلی تنظیم انصار الاسلام کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔

کشمیر کے معاملے پر بات کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر سے توجہ ہٹانے کے لیے پلواما جیسا ڈرامہ کرسکتا ہے، آرمی چیف کو ہدایت دی ہے کہ فوج مکمل تیار رہے اور جارحیت کی گئی تو بھرپور جواب دیں، تحریک انصاف کی حکومت نے مسئلہ کشمیر کو بین الاقومی سطح پر اٹھایا ہے، مسئلہ کشمیر سے متعلق میڈیا سینٹر بھی بنا رہے ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ گرفتار رہنماؤں کو آج باہر جانے کی اجازت دوں تو زندگی آسان ہو جائے گی،پہلے بھی کہا تھا اپوزیشن کا ایک ہی مسئلہ ہے، وہ ہے این آر او۔ وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ چار حلقوں کے ثبوت لیکر میں پھرتا رہا۔ ہم اپوزیشن کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات کرینگے۔ عمران خان نے کہا کہ مہنگائی اور بے روزگاری ایک سنجیدہ مسئلہ ہے اس پر کام کررہے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ آرمی چیف مجھ سے پوچھ کر بزنس مینوں سے ملے تھے۔سول ملٹری تعلقات تاریخ کے بہترین موڑ پر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کشمیر میں بری طرح پھنس چکاہے، امریکی کانگریس کمیٹی نے کشمیر معاملےپر ہونے والی پیش رفت تاریخ ساز ہے۔خدشہ ہے بھارت آزاد کشمیر پر حملہ کرسکتاہے۔ آرمی چیف کو کہہ دیاہے کہ مکمل طور پر تیار رہیں۔ عمران خان نے کہا کہ  کشمیر پر دنیا کی طرف سے تاریخی ردعمل آرہاہے،بھارت نے کوئی بھی جارحیت کی تو بھرپور جواب دیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ  پنجاب کو کو ہدایت کی ہے نوازشریف کوبہترین سہولیات فراہم کریں،شہبازشریف کہتےہیں نوازشریف کو کچھ ہوا تو ذمہ دار عمران خان ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں کوئی عدالت یا ڈاکٹر نہیں ہوں،نوازشریف کی بیرون ملک علاج کا فیصلہ عدالت نے کرناہے۔ اگر مریم نوازنے ملاقات کرنی ہےتو وہ فیصلہ بھی عدالت کرے گی۔ وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ ملک کو شفاف حکومت دینے کی بھرپور کوشش جاری ہے،ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال کے پیچھے پرائیوٹ اسپتال مافیا ہے۔

خیال رہے کہ جمعیت العلمائے اسلام (ف) نے 27 اکتوبر کو آزادی مارچ کا اعلان کررکھا ہے جو ملک کے مختلف شہروں اور علاقوں سے بیک وقت شروع ہوگا اور طے شدہ پروگرام کے تحت 31 اکتوبر کو اسلام آباد میں داخل ہوگا۔ امیر جے یو آئی (ف) مولانا فضل الرحمان کو پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلزپارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اورجمعیت العلمائے پاکستان سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں نے آزادی مارچ کے حوالے سے اپنی حمایت کی یقین دہانی کرارکھی ہے۔ قبل ازیں حکومت نے جمیعت علمائے اسلام کیساتھ بات چیت کے لیے پرویزخٹک کی سربراہی میں کمیٹی بھی تشکیل دی تھی۔ حکومت کی سات رکنی کمیٹی کا مقصد جے یو آئی کو آزادی مارچ نہ کرنے پر قائل کرنا تھا۔ جمیعت علمائے اسلام کی رہبر کمیٹی نے آزادی مارچ کے حوالے سے حکومت کیساتھ بات چیت سے انکار کر دیا تھا۔ دوسری جانب جے یو آئی نے اسلام آباد کے ڈی چوک میں آزادی مارچ کی اجازت کے لیے وفاقی دارالحکومت کی ضلعی انتظامیہ کو درخواست دے رکھی ہے جس پر تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
خبر کا کوڈ : 823703
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے