0
Friday 1 Nov 2019 12:48

آزادی کے بعد گلگت بلتستان کو کیا ملا؟

آزادی کے بعد گلگت بلتستان کو کیا ملا؟
تحریر: لیاقت علی انجم

بہتر سال پہلے یعنی آج ہی کے دن یکم نومبر1947ء کو گلگت بلتستان کے عوام نے ڈوگروں کو بھگا کر آزادی حاصل کی اور سولہ دن تک آزاد حیثیت میں ایک الگ ریاست کے طور پر قائم رہنے کے بعد اس نوزائیدہ ریاست کے سربراہ نے پاکستان کو خط لکھ کر باقاعدہ الحاق کا اعلان کر دیا، پاکستان سے جذباتی لگاؤ کے نتیجے میں لکھے جانے والے الحاق کے خط کا جواب بھیانک ہی نہیں انتہائی افسوس ناک رہا، یہ گلگت بلتستان کے بہتر سالہ المیہ کی ایک دردناک داستان ہے، جس کا اختتام ابھی تک نہیں ہوا۔ خط کے نتیجے میں حکومت پاکستان نے ایک تحصیلدار سردار عالم کو گلگت بھیج کر سیاہ و سفید کا مالک بنا دیا، یہاں ایف سی آر کا کالا قانون بھی نافذ کر دیا، پھر اس آزاد خطے کو مسئلہ کشمیر کے ساتھ جوڑ کر متنازعہ بنا دیا گیا، یہاں سے اس بدقسمت خطے کی بدقسمتی شروع ہوتی ہے۔

یہ خطہ کئی عشروں تک ایک پولیٹکل ایجنٹ کے رحم و کرم پر رہا، بعد میں وزارت امور کشمیر خطے کا بے تاج بادشاہ بن گئی، کشمیر افیئرز کی یہ بادشاہت اس وقت بھی قائم ہے، یہ وزارت حکومت سازی، ججوں، اعلیٰ سرکاری عہدوں پر تقرری سے لے کر ترقیاتی منصوبوں کی تقسیم تک کی کلی طور پر مالک ہے۔ یہاں یہ بات جاننا ضروری ہے کہ یکم نومبر 1947ء کو صرف گلگت آزاد ہوا، بلتستان بدستور ڈوگروں کے محاصرے میں تھا، گلگت کی آزادی کے بعد بلتستان کے عوام نے بھی بغاوت شروع کر دی اور اپنی مدد آپ کے تحت ٹھیک ایک سال بعد 14 اگست 1948ء کو بلتستان کو بھی ڈوگروں سے آزاد کروایا، بلتستان کے ساتھ لداخ اور کارگل تک کا علاقہ مقامی مجاہدین کے قبضے میں آگیا، لیکن یہاں بھی اس وقت کے پالیسی سازوں نے اس فتح کو اپنی ناعاقبت اندیشی کی بھینٹ چڑھاتے ہوئے کارگل اور لداخ کا مفتوحہ علاقہ واپس بھارت کے حوالے کر دیا۔ یہ اس خطے کے المیہ کی ایک الگ داستان ہے، جو ہنوز ایک راز ہی ہے۔

رائے شماری کی صورت میں ووٹوں کی تعداد بڑھانے کیلئے جی بی کو تنازعہ کشمیر کا حصہ بنانے کے بعد ضروری تھا کہ گلگت بلتستان کے ساتھ مسئلہ کشمیر کی دیگر اکائیوں کی طرح کا سلوک کیا جاتا، لیکن جو سلوک روا رکھا گیا، وہ ناانصافی اور ظلم کی ایک اور داستان ہے۔ آزاد کشمیر میں شروع سے ہی ایک انقلابی حکومت بنائی گئی، بعد میں 1974ء میں عبوری آئین کے ذریعے ایک خود مختار ریاست کا درجہ دیا گیا۔ مقبوضہ کشمیر میں 5 اگست 2019ء تک ایک مکمل خود مختار حکومت قائم تھی، قانون سازی اور اختیارات کے معاملے پر ایک مکمل بااختیار سیٹ اپ موجود تھا۔ لیکن اس دورانئے میں گلگت بلتستان کبھی تحصیلدار سردار عالم، کبھی پولیٹیکل ایجنٹوں، کبھی وزارت امور کشمیر اور کبھی آرڈروں کے درمیان فٹ بال بنتا رہا۔ آزادی کے بعد جی بی کو کیا ملا؟ قومی آئینی اداروں، پارلیمنٹ میں نمائندگی کا دروازہ بند ہے، لیکن مسئلہ کشمیر کی ایک اہم اکائی کی حثیت سے بھی متنازعہ حقوق سے بھی محروم ہیں۔ ہاں زمینیں، پہاڑ، معدنیات کو ضرور ''قومی دھارے'' میں شامل کیا گیا ہے۔ فٹبال کھیلنے کا یہ سلسلہ آخر کب تک جاری رہے گا، شاید کسی اور المیہ تک۔
خبر کا کوڈ : 825014
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب