0
Saturday 2 Nov 2019 21:15
اجتماعی استعفے اور ملک گیر شٹر داون ہڑتال بھی زیرغور ہے

ہمارے جلسہ میں طالبان کا جھنڈا سازش کے تحت لہرایا گیا، مولانا فضل الرحمان

ہمارے جلسہ میں طالبان کا جھنڈا سازش کے تحت لہرایا گیا، مولانا فضل الرحمان
اسلام ٹائمز۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ہم حالات بگاڑنا نہیں چاہتے لیکن دو روز بعد حکومت کے خلاف سخت فیصلے کریں گے۔ دھرنے کے دوسرے دن شرکا سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 126 کا دھرنا ہمارے لیے آئیڈیل نہیں، ہماری تحریک بڑی ہے، ہمیں کل فیصلہ کرنا ہے کہ آئندہ دنوں میں کیا لائحہ عمل اختیار کیا جائے اور اس حکومت کے خلاف تحریک کا تسلسل برقرار رہے، دو روز بعد اس سے بھی سخت فیصلے کریں گے، ہم حالات کو بگاڑنا نہیں چاہتے یہ پرامن اور منظم مارچ اس گواہی کے لیے کافی ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ہم نے خواتین کو جلسے میں آنے سے نہیں روکا، ہماری خواتین گھروں میں بیٹھ کر جلسے میں شریک ہیں، ہماری کامیابی کے لیے روزے رکھ رہی ہیں، دعائیں کر رہی ہیں اور اللہ کے سامنے گڑ گڑا رہیں ہیں، ہماری خواتین قومی و صوبائی اسمبلیوں میں ہماری نمائندگی کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومتی ارکان 1947ء میں گھوم رہے ہیں لیکن ہم 72 سال آگے جاچکے ہیں، ہم سے آج کے پاکستان کی بات کی جائے، ہم اقبال و قائد اعظم کے نظریے کے مطابق پاکستان کو استوار کرنا چاہتے ہیں لیکن حکومت کی حماقتوں اور کمزور خارجہ پالیسی کی وجہ سے پاکستان تنہا ہو چکا، پڑوسی ممالک آپ سے ناراض ہیں، کشمیر پر ممالک آپ کا ساتھ نہیں دے رہے کس منہ سے آپ کشمیر کی نمائندگی کی بات کرتے ہیں؟ کشمیر کے نمائندے آپ نہیں ہم ہیں۔ قائد جے یو آئی نے کہا کہ حکومت جلسے کے خلاف پروپیگنڈے کے لیے کچھ چیزیں ڈھونڈ رہی ہے، انتظامیہ یہاں بگاڑ پیدا کرنا چاہتی ہے لیکن ہم انہیں موقع نہیں دے رہے۔ انہوں نے شرکا کو مخاطب کیا کہ جے یو آئی کی قیادت آپ کو جو حکم دے گی آپ اس پر لبیک کہیں، ہمیں مل کر آگے بڑھنا ہے شرکا ہمارے آئندہ کے لائحہ عمل کا انتظار کریں اور اس وقت تک مارچ کے شرکا یہیں پر قیام کریں۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ یہاں پر کسی نے طالبان کا جھنڈا لہرایا تو بڑی بات ہو گئی، یہ بھی ہمارے جلسے کے خلاف سازش ہے، انتظامیہ فساد کی کوشش کر رہی ہے لیکن ہم ایسا کوئی موقع نہیں دیں گے۔ مولانا نے مزید کہا کہ انہی طالبان کو امریکا اور روس نے بلاکر پروٹوکول دیا، پاکستان میں بھی انہیں صدارتی پروٹوکول دیا گیا۔
خبر کا کوڈ : 825304
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب