0
Wednesday 6 Nov 2019 00:49
سڑکوں پر کھڑے کنٹینرز کو اڑا کر رکھ دینگے

ہمیں اشتعال مت دلاؤ ورنہ 24 گھنٹے میں شکست دے دینگے، مولانا فضل الرحمان

ہمیں اشتعال مت دلاؤ ورنہ 24 گھنٹے میں شکست دے دینگے، مولانا فضل الرحمان
اسلام ٹائمز۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ احتساب کے نام پر انتقام کا ڈرامہ اب مزید نہیں چلے گا، ہمیں اشتعال نہ دلایا جائے، ورنہ 24 گھنٹے میں شکست دے دیں گے۔ آزادی مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ آج آزادی مارچ کے ڈی چوک جانے پر اعتراض کیا جا رہا ہے، 2014ء میں ڈی چوک پر 126 دن کے دھرنے پر اعتراض کیوں نہیں کیا گیا؟ 126 دن دھرنے کی تصویر دنیا کے لیے دلکش تھی، لیکن اس کی بدبو آج بھی محسوس کی جاتی ہے، جبکہ آزادی مارچ نے عوام کی مایوسی کو امید میں بدل دیا ہے، مارچ سے اسرائیل اور اس کے ہمنوا پریشان ہیں۔

سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ ہم دھاندلی کے انتخابات کو نہیں مانتے، الیکشن کمیشن کی رپورٹ کے مطابق 95 فیصد پولنگ اسٹیشنز پر بغیر دستخط کے نتائج دیئے گئے، جب الیکشن کمیشن خود کہہ رہا ہے تو ہم سے نتائج زبردستی کیوں منوائے جا رہے ہیں، دوسروں کو چور کہنا اور میڈیا پر رسوا کرنا آسان ہوتا ہے، لیکن حقائق چھپائے نہیں جا سکتے، ہم نے لاک ڈاوٴن نہیں کیا، حکومت نے کنٹینر رکھ کر خود لاک ڈاوٴن کر دیا، ہم لوگ خطرناک نہیں بلکہ خطرہ راستہ روکنے والے ہیں، ہمیں اشتعال مت دلاوٴ، اگر اشتعال دلاوٴ گے تو شکست دے دیں گے۔ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ جب آپ اپوزیشن میں تھے تو تنہا تھے اور آج حکومت میں بھی کوئی ساتھ نہیں، آج ہم داخلی محاذ پر غیر مستحکم اور خارجہ محاذ پر بھی تنہائی کا شکار ہیں، افغانستان، ایران سمیت خطے کے ممالک آپ سے ناراض ہیں، موجودہ حکومت نے سی پیک کے تحت کی گئی چینی سرمایہ کاری کو بھی غارت کیا، چین بھی آپ پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں اور پاکستان میں مزید سرمایہ کاری نہیں کرنا چاہتا۔

سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ حکومت کی ناکام پالیسیوں کے باعث آج لاکھوں لوگ بے روزگار ہوگئے، آج بھی بجلی 2 روپے مہنگی کر دی گئی، گیس اور پٹرول کی قیمتیں بھی آسمانوں پر پہنچ گئیں، یومیہ بنیاد پر قرضوں میں اضافہ ہو رہا ہے، بلوچستان وسائل سے مالامال ہے، لیکن وہاں کے لوگوں کو اس پر اختیار نہیں، تھر میں کوئلے کے وسیع ذخائر ہیں، لیکن تھری بھوک سے مر رہے ہیں، زراعت کا دارومدار پنجاب کی سرزمین پر ہے، لیکن آج دریاؤں پر بھارت نے قبضہ کر رکھا ہے۔ فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نے کشمیر کو بیچا اور آنسو بھی بہا رہی ہے، ملک کے اندر اپنے دشمن بننے سے کشمیر کاز پیچھے چلا گیا، جب تک کشمیر کمیٹی میرے ہاتھ میں تھی، کوئی مائی کا لعل کچھ نہیں بگاڑ سکا، آج پاکستان میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں، کب تک حقائق چھپاوَ گے؟ جس چیز کو آپ احتساب کہتے ہیں، اس سے ہر شخص خوف محسوس کر رہا ہے، نیب احتساب کی وجہ سے کوئی بیورو کریٹ فائلوں پر دستخط  کرنے کے لیے تیار نہیں، لیکن اب انتقام کے نام پر احتساب کا ڈرامہ مزید نہیں چلے گا۔
خبر کا کوڈ : 825826
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب