0
Wednesday 6 Nov 2019 22:24

عمران خان کی رعایت کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں، اگر دھرنا ہوا تو ڈی چوک پر ہوگا، عبدالغفور حیدری

عمران خان کی رعایت کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں، اگر دھرنا ہوا تو ڈی چوک پر ہوگا، عبدالغفور حیدری
اسلام ٹائمز۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنماء عبدالغفور حیدری نے کہا ہے کہ عمران خان کی رعایت کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں، دھرنا اگر ہوا تو ڈی چوک پر ہوگا۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما سینیٹر عبدالغفور حیدری نے سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کو جعلی انتخابات کے ذریعے قوم پر مسلط کیا گیا اور حزب اختلاف کا متفقہ مؤقف ہے کہ ملکی تاریخ میں ایسی بدترین دھاندلی کبھی نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ حزب اختلاف نے دھاندلی کے بیانیے پر ملک بھر میں 15 ملین مارچ کیے اور جب حکومت کو آئینہ دکھاتے ہیں تو حکومتی اراکین کو بُرا لگتا ہے۔ سینیٹر عبدالغفور حیدری نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے دھرنے میں ڈھول باجے لائے گئے تھے، جبکہ آزادی مارچ کے 11 دنوں میں ایک گملہ بھی نہیں ٹوٹا، پی ٹی آئی کا دھرنا سول نافرمانی، تعفن، گندگی، بدامنی سے بھرپور تھا۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے دھرنے میں وزیراعظم ہاؤس، پارلیمنٹ ہاؤس اور سرکاری ٹی وی چینل پر حملے کیے گئے تھے، پی ٹی آئی کے دھرنے میں شیخ رشید نے کھلے عام جلاؤ گھیراؤ اور مار دھاڑ کی بات کی تھی۔ رہنما جے یو آئی (ف) نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان سے کوئی رعایت نہیں چاہتے اور ان کی رعایت کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں، کشمیر ہائی وے پر آزادی مارچ ہے دھرنا نہیں اور اگر دھرنا ہوا تو نقشہ کچھ اور ہوگا، دھرنا ہوا تو ہوسکتا ہے کہ ڈی چوک پر ہو۔ انہوں ںے کہا کہ پی ٹی آئی کے دھرنے میں لٹھ بردار شامل تھے، جنہوں نے سرکاری عمارتوں پر حملے کیے، یہاں لاک ڈاؤن جے یو آئی نے نہیں بلکہ حکومت نے کیا ہے۔ عبدالغفور حیدری نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے سکیورٹی کے نام پر اسلام آباد کی شاہراہوں کو کنٹینرز لگا کر بند کر رکھا ہے، جبکہ لاہور میں ہمارے احتجاج کے دوران میٹرو بس سروس بھی چلتی رہی تھی۔
خبر کا کوڈ : 825975
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب