0
Friday 8 Nov 2019 12:01

انسانی آبادی کیخلاف عالمی جنگ زوروں پر، 250 کروڑ افراد لقمۂ اجل بنا دئے گئے، تحقیقات

انسانی آبادی کیخلاف عالمی جنگ زوروں پر، 250 کروڑ افراد لقمۂ اجل بنا دئے گئے، تحقیقات
اسلام ٹائمز۔ دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے بعد جب اقوام متحدہ کا ادارہ تشکیل دیا گیا تو دنیا میں موجود انسانی آبادی کیخلاف خفیہ طور پر ایک عالمی جنگ چھیڑ دی گئی۔ انسانی بنیادی حقوق کو پائمال کرتے ہوئے آبادی کو کنٹرول کرنے کے پروگرام (Population Management Program) کے عنوان سے دھوکہ، فریب اور جبر کے ذریعے عالمی انسانیت کیخلاف شروع کی گئی اس جنگ میں عالمی سطح پر تاحال 50 کروڑ لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ہے جبکہ 200 کروڑ بچوں کو دنیا میں آنے سے قبل ہی قتل کر دیا گیا ہے۔

سال 1945ء میں دوسری جنگ عظیم کے اختتام اور اقوام متحدہ کے وجود میں آنے کے بعد عالمی انسانی آبادی کنٹرول پروگرام کے حمایتیوں کا دعوی تھا کہ عالمی سطح پر امن و امان اور استحکام دنیا بھر میں موجود انسانی آبادی کو کنٹرول کرنے سے ہی حاصل ہو سکتا ہے چاہے اس حوالے سے اٹھائے گئے اقدامات سے لوگوں کو بےخبر ہی کیوں نہ رکھنا پڑے جبکہ دنیا کی تمامتر حکومتوں کو اس پروگرام پر عملدرآمد کرنے پر مجبور کر دیا گیا۔ چند ایک عالمی طاقتوں کیطرف سے شروع کیا گیا انسانی آبادی کنٹرول کا یہ پروگرام ترقی پذیر اور بالخصوص افریقائی ممالک سمیت غریب اور گنجان آباد ممالک میں پورے زور و شور کیساتھ جاری ہے۔

کینیڈا کے رومانوی و جرمن نژاد انسانی حقوق کے سرگرم کارکن کیون میوگر گالالائی (Kevin Mugur Galalae) کی تحقیقی کتاب "ہمارا خاموش قتل" (Killing Us Softly) کے مطابق عالمی انسانی آبادی کنٹرول پروگرام کے تحت نہ صرف انسانی تولیدی نظام میں عالمی طاقتوں کی مداخلت سے اب تک کروڑوں انسانوں کو پیدا ہونے سے قبل ہی قتل کیا جا چکا ہے بلکہ دنیا کے بڑے نسل پرستوں کیطرف سے مختلف قسم کے عالمی پرگروامز کے ذریعے دنیا بھر کے لوگوں کی قوت مدافعت کو کمزور کر کے اور بیماریاں پھیلا کر انہیں موت کے گھاٹ بھی اتارا جا چکا ہے۔
 

 
کیون میوگر گالالائی جو اس کتاب کے مصنف ہیں، کو اسے تحریر کرنیکے دوران نہ صرف معتبر ثبوتوں کے حصول کے دوران بارہا سختیوں میں ڈالا گیا بلکہ اپنی اس کوشش کے دوران کینیڈین حکومت نے انہیں 9 ماہ کیلئے جیل بھی بھیج دیا۔ وہ اپنی قید کے شروع کے 75 دن آبادی کنٹرول کرنے کے مہلک پروگرام پر کینیڈین حکومت سمیت پوری دنیا کے ممالک کیطرف سے عملدرآمد رکوانے کیلئے بھوک ہڑتال پر تھے۔
 
Related image

کیون میوگر گالالائی کی تحقیقات کے مطابق اس بات سے ہٹ کر کہ انسانی آبادی کو کنٹرول کرنے کیلئے کیا کیا طریقۂ کار اختیار کئے گئے ہیں اور لوگوں کی مرضی کیخلاف انہیں جبری طور پر اس پروگرام میں شامل کر دیا گیا ہے، گزشتہ 68 سالوں کے دوران ایسے ہتھیاروں کیساتھ انسانی آبادی کیخلاف یہ جنگ لڑی گئی ہے جو انسانوں میں نہ صرف بےاولادی پیدا کرتے ہیں بلکہ انکی قوتِ مدافعت کو کمزور کر کے اور انہیں بیماریوں کے منہ میں دھکیل کر فورا موت کے گھاٹ بھی اتار دیتے ہیں۔ اسکے ساتھ ساتھ لوگوں کو دھوکہ دہی کے ذریعے اس پروگرام میں شامل کرنے اور پورا پروگرام انتہائی خفیہ رکھنے کی پالیسی، عالمی سطح پر انسانی آبادی کیخلاف جنگ لڑنے والی طاقتوں کا پہلا اصول ہے جسکی وجہ سے پوری دنیا کے لوگ تاحال اس انتہائی مہلک پروگرام سے بخوبی باخبر نہیں ہو پائے۔

اس کتاب کے مصنف کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر انسانی آبادی کنٹرول کرنے کے پروگرامز میں اٹھائے گئے اقدامات کو بآسانی انسانی حقوق کیخلاف انسانی تاریخ کے سنگین ترین اور وسیع ترین جرائم قرار دیا جا سکتا ہے۔ مصنف کی تحقیق کے مطابق اس حوالے سے اٹھائے گئے اقدامات کے ذریعے نہ صرف 50 کروڑ لوگوں کو تاحال موت کے گھاٹ اتارا جا چکا ہے بلکہ 200 کروڑ انسانوں کو دنیا میں آنے سے قبل ہی قتل بھی کر دیا گیا ہے جبکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام کو اس حوالے سے باخبر کیا جائے اور حکومتی سطح پر ان پروگرامز پر تحقیقات بروئے کار لائی جائیں۔
خبر کا کوڈ : 826200
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب