0
Saturday 9 Nov 2019 12:25

بھارت میں مسلمانوں کو اب آئین یا کوئی سرکاری ادارہ تحفظ فراہم نہیں کرسکتا، شیری رحمٰن

بھارت میں مسلمانوں کو اب آئین یا کوئی سرکاری ادارہ تحفظ فراہم نہیں کرسکتا، شیری رحمٰن
اسلام ٹائمز۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمٰن نے کہا کہ بابری مسجد سے متعلق بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ انتہاء پسند ہندوؤں (آر ایس ایس) کی نئی روش، نئے ہندوستان کا عکس ہے، جسے اچھی طرح سمجھ لینا چاہیئے۔ نجی ٹی وی سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ بھارت میں مسلمانوں سمیت دیگر اقلیوں کے لیے اب آئین یا کوئی سرکاری ادارہ انہیں تحفظ فراہم نہیں کر سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر بھارت ابھرتی ہوئی معیشت ہے، لیکن ان کی سرزمین پر غیر انسانی سلوک کا گراف بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ شیری رحمٰن نے کہا کہ بھارت کے ہندو کسی کے مذہب کا احترام نہیں کرتے، وہ پاکستان کے ساتھ خیر سگالی کا رویہ اپنانا نہیں چاہتے، وہ منطقی بات کو اہمیت نہیں دینا چاہتے اور نفرت کے خواہاں ہیں۔

علاوہ ازیں پیپلز پارٹی کی سینیٹر نے کہا کہ بھارت میں انتہاء پسند ہندو محض مفروضوں پر مسلمان کو قتل کر رہے ہیں، ایسے حالات میں اپنا تحفظ کرنا مشکل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مسلمان اجتماعی سطح پر بھارتی فیصلے کے خلاف کوشش کریں گے تو ان کی جان و مال سمیت املاک کو نقصان پہنچے گا۔ علاوہ ازیں پیپلز پارٹی کی سینیٹر نے کہا کہ بھارت کی جانب سے نیا سیاسی نقشہ جاری کرنے پر حکومت کی جانب سے کوئی جوائنٹ سیشن نہیں بلایا گیا۔
خبر کا کوڈ : 826393
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے