0
Saturday 9 Nov 2019 17:05

صوابی میں پولیس کا معذور شخص پر تشدد

صوابی میں پولیس کا معذور شخص پر تشدد
اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی میں پولیس نے شک کی بنیاد پر معذور شہری کو حوالات میں بند کرکے تشدد کا نشانہ بنا ڈالا جس کو تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ ضلع صوابی میں تھانہ کالوخان کی حدود میں چند روز قبل چوری کی واردات ہوئی تھی، جس پر پولیس نے شک کی بنیاد پر پڑوس میں رہنے والے معذور نوجوان کو اٹھایا اور حوالات میں بند کرکے تشدد کا نشانہ بنایا جس کے باعث اس کی حالت غیر ہوگئی۔ پولیس کے تشدد سے حالت غیر ہونے کے بعد معذور نوجوان کو ہسپتال منتقل کردیا گیا، جہاں اس کو طبی امداد دی جارہی ہے اور تاحال گھر منتقل نہیں کیا گیا۔

نوجوان کے اہلخانہ نے پولیس تشدد کو لاقانونیت قرار دیتے ہوئے ملوث اہلکاروں اور افسران کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ڈی پی او صوابی نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس افسر جاوید اقبال کو معطل کردیا، جبکہ معذوروں کی فلاح و بہبود کی تنظیم کے ضلعی صدر جان اکبر جان نے کہا ہے کہ پولیس کے خلاف کل صبح شیوہ اڈا بازار کے ختم نبوت چوک میں احتجاج کیا جائے گا۔ گذشتہ برس صوابی میں سی ٹی ڈی کے اہلکاروں نے ایک شہری کو گھر کے اندر گھس کر قتل کیا تھا، جس پر ضلع بھر میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ہوئے مگر ملوث اہلکاروں کے خلاف کسی قسم کی کارروائی نہیں کی گئی۔
خبر کا کوڈ : 826459
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب