0
Saturday 9 Nov 2019 19:41

بابری مسجد کے فیصلے نے ثابت کردیا کہ قائداعظم کا دو قومی نظریہ قطعاً درست ہے، حاجی حنیف طیب

بابری مسجد کے فیصلے نے ثابت کردیا کہ قائداعظم کا دو قومی نظریہ قطعاً درست ہے، حاجی حنیف طیب
اسلام ٹائمز۔ نظام مصطفی پارٹی کے سربراہ، سابق رکن اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان ڈاکٹر حاجی محمد حنیف طیب نے بھارتی اعلیٰ عدالت کے بابری مسجد کے حوالے سے دیئے گئے فیصلے پر شدید ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے نے ثابت کردیا کہ قائداعظم محمد علی جناح کا دو قومی نظریہ قطعاً درست اور بھارتی تقسیم اور پاکستان کا قیام حقیقی ہے، مذکورہ فیصلے سے ناصرف انتہاپسند ہندؤوں کو تقویت دی گئی ہے، بلکہ اس متنازع فیصلے کے ذریعے بھارتی مودی قصائی کو مسلمانوں کے قتل عام کا لائسنس جاری کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام رواداری کا مذہب ہے اور اس کا عالمی مظاہرہ کرتارپور راہداری کا افتتاح ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان میں تمام اقلیتیں محفوظ اور ان کے حقوق واضح ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہندو، سکھ، عیسائی، ہر قومیت کا فرد پاکستان میں امن و سکون سے رہ رہا ہے، لیکن اس کے برعکس بھارت میں عیسائی ریاستوں میں آزادی کی تحریک چل رہی ہے، وہ اپنے حقوق کے لئے کوشاں ہیں، مسلمان تمام حقوق سے محروم ہیں، آئے دن ان پر بدترین مظالم ڈھائے جارہے ہیں، سوال یہ ہے کہ کیا یہ ہی بھارتی جمہوریت، اہنساکا پرچار، گاندھی کا فلسفہ امن اور سیکولرازم ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کے ذریعے ناصرف بھارت میں بسنے والے کروڑوں، بلکہ دنیا بھر میں بسنے والے اربوں مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی ہے۔ انہوں نے عالمی اداروں، انسانی حقوق کی تنظیموں، بین المذاہب ہم آہنگی کے دعویداروں جو امن کے علم بردارہ یں اور دیگر عالمی شخصیات و ممالک سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی عدالت کے متنازع فیصلوں کے ذریعے اقلیتوں کے حقوق کو پامال کیا جارہا ہے، انتہاء پسندی کو فروغ اور مودی کو ہٹلر بناکر پیش کرنے کوشش کی جارہی ہے، اس رویہ کو روکنے کے لئے تمام ادارے اور افراد اپنا کردار ادا کریں، بالخصوص اسلامی ممالک کو اپنے رویوں پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے جو بھارت کی دوستی میں مسلمانوں کے قاتل مودی کو ہار پہناکر ہیروں بنا رہے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 826495
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے