1
Tuesday 12 Nov 2019 12:12

گلگت بلتستان، آئینی اصلاحات میں تاخیر کا ذمہ دار کون؟ اہم انکشافات سامنے آگئے

گلگت بلتستان، آئینی اصلاحات میں تاخیر کا ذمہ دار کون؟ اہم انکشافات سامنے آگئے
رپورٹ: لیاقت علی انجم

سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق گلگت بلتستان میں آئینی اصلاحات میں تاخیر کی ذمہ دار خود صوبائی حکومت نکلی، مجوزہ اصلاحات کو جی بی کونسل و صوبائی اسمبلی میں پیش کرنے سے وزیراعلیٰ نے روکا۔ جی بی کونسل سیکرٹریٹ کی ایک تحریری بریفنگ میں اہم انکشافات سامنے آگئے۔ اسلام ٹائمز کو موصول دستاویز کے مطابق جی بی کونسل سیکرٹریٹ کی ایک تحریری بریفنگ میں بتایا گیا ہے کہ 23 جنوری 2019ء کو سپریم کورٹ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے جوڈیشل آرڈر کو وفاقی کابینہ میں منظوری کیلئے کابینہ ڈویژن کو بھیج دیا گیا تھا، اسی اثناء میں گلگت بلتستان حکومت اور بعض دیگر اداروں کی جانب سے بتایا گیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے علاقے میں عدم اطمینان پیدا ہوا ہے، ان کے خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے 6 فروری 2019ء کو تمام سٹیک ہولڈرز کی ایک میٹنگ منعقد ہوئی، جس میں مکمل بحث و مباحثے کے بعد یہ اتفاق ہوا کہ اس آرڈر کو ایکٹ آف پارلیمنٹ کے ذریعے نافذ کیا جائے گا۔

اسی حوالے سے جی بی گورننس ریفارمز آرڈر 2019ء کا مسودہ بل جی بی حکومت، وزارت قانون اور اٹارنی جنرل آف پاکستان کی مشاورت سے تیار کیا گیا تھا، اس مسودہ بل کو 13 فروری 2019ء کو وزارت قانون و انصاف کو جانچ کیلئے بھیج دیا گیا، وزارت قانون نے 21 فروری کو اس کی جانچ پڑتال مکمل کی تھی۔ 21 فروری 2019ء کو قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں گورننس ریفارمز آرڈر پر غور کیا گیا، جس میں فیصلہ کیا گیا کہ وزیراعلیٰ گلگت بلتستان، تمام فریقین بشمول سیاسی جماعتوں اور دیگر گروپوں سے تفصیلی مشاورت کی جائے گی، تاکہ مجوزہ اصلاحات پر اتفاق رائے پیدا کیا جا سکے، جس کیلئے دو ہفتے کی مدت مقرر کی گئی۔ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ دو ہفتے بعد اصلاحات کے مسودے کو جی بی اسمبلی و کونسل کے مشترکہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا، جس کی صدارت وزیراعظم پاکستان (چیئرمین جی بی کونسل) کرینگے۔

مشترکہ اجلاس کی توثیق کے بعد مسودہ کو ایکٹ آف پارلیمنٹ یا صدارتی آرڈیننس کے ذریعے نافذ کیا جائے گا۔ تحریری بریفنگ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلے کے بعد وزیراعلیٰ گلگت بلتستان نے ایک رپورٹ ارسال کی، جس میں بتایا گیا کہ اس مسودہ بل کی کونسل و اسمبلی کے مشترکہ اجلاس میں توثیق ممکن نہیں، انہوں نے ساتھ ہی کئی اور مطالبات بھی پیش کیے۔ اس طرح انہوں نے گورننس ریفارمز کو جی بی کونسل اور قانون ساز اسمبلی کے مشترکہ اجلاس میں توثیق کرنے سے روک دیا۔ جس کے بعد مسودہ بل کو 28 فروری کو وفاقی وزیر قانون کے مشورے پر واپس لیا گیا، وزارت امور کشمیر میں 5 اپریل 2019ء کو وزیراعلیٰ جی بی کی رپورٹ پر غور کیا گیا، جس کے بعد کشمیر افیئرز کی تجاویز کو پیرا وائز کمنٹس کے ساتھ قومی سلامتی کمیٹی کو بھیج دیا گیا، اب قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ بریفنگ میں مزید کہا گیا ہے کہ اس سے پہلے سپریم کورٹ آف پاکستان کے سترہ جنوری کے فیصلے میں یہ حکم دیا گیا تھا کہ اس فیصلے کو پندرہ دن کے اندر اندر نافذ کیا جائے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق آرڈر کے آرٹیکل 124 کے علاوہ کہیں اور کوئی بھی ترمیم نہیں کی جائے گی اور نہ ہی اس آرڈر کو منسوخ یا تبدیل کیا جائے گا، تاہم آرڈر میں کسی بھی ترمیم یا منسوخی کیلئے سپریم کورٹ کہ اجازت لازمی ہوگی۔ یہ تحریری بریفنگ ممکنہ طور پر سپریم کورٹ کی گذشتہ سماعت میں پیش کی گئی ہے۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے سترہ جنوری کے فیصلے کی ڈیڈلائن گزر جانے کے بعد وفاق کی جانب سے ایک درخواست دائر کی گئی تھی، جس میں گورننس ریفارمز آرڈر 2019ء میں بعض ترامیم تجویز کی گئیں، درخواست میں سپریم کورٹ کا دائرہ کار ختم کرنے، جوڈیشل کمیشن کی ہیت تبدیل کرنے اور آرڈر کی تمہید میں عبوری صوبے کی شق ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ وفاقی اور صوبائی حکومت کی مشترکہ تجویز ہے، وفاق کی طرح صوبائی حکومت خصوصاً وزیراعلیٰ جی بی بھی سپریم کورٹ کے دائرہ کار کو ختم کرنے اور جوڈیشل کمیشن میں تبدیلیوں کے حامی ہیں۔

وفاقی حکومت کی درخواست سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے، جس کی پچھلی سماعت 7 نومبر کو ہوئی تھی، آئینی حیثیت کیس کی سماعت سپریم کورٹ کا سات رکنی لارجر بنچ کر رہا ہے۔ گذشتہ سماعت کے دوران بنچ کے سربراہ جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے تھے کہ حالات تبدیل ہوچکے ہیں، وفاقی حکومت کو ہر حال میں آئینی حیثیت پر پیشرفت کرنی ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ عدالت نے فیصلہ دینا تھا دیدیا، اب معاملہ حکومت کے سپرد ہے، بات چیت ہونی چاہیئے، حکومت کو سوچنا چاہیئے کہ معاملے کا حل کیسے نکالا جائے۔ یاد رہے کہ عدالت میں جی بی بار کونسل کی جانب سے دائر درخواست کی بھی سماعت ہو رہی ہے، درخواست میں آئینی حقوق سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
خبر کا کوڈ : 826901
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے