0
Tuesday 12 Nov 2019 14:34
مجرم پختونخوا حکومت سے 3 لاکھ تنخواہ لیتا ہے

انٹرنیشنل ڈارک ویب کا سرغنہ راولپنڈی سے گرفتار، ہولناک انکشافات

مجرم سہیل پاکستان میں 30 بچوں سے زیادتی کرنیکا اعتراف کرچکا ہے
انٹرنیشنل ڈارک ویب کا سرغنہ راولپنڈی سے گرفتار، ہولناک انکشافات
اسلام ٹائمز۔ راولپنڈی پولیس نے تھانہ روات کے علاقے میں کارروائی کرتے ہوئے بچوں سے زیادتی کی براہ راست ویڈیوز نشر کرنے والے بین الاقوامی ڈارک ویب کے سرغنہ کو گرفتار کر لیا ہے۔ سی پی او راولپنڈی فیصل رانا نے بتایا کہ بچوں سے زیادتی کی لائیو ویڈیو چلانے والا انٹرنیشنل ڈارک ویب کا سرغنہ گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ایک محنت کش کے بچے سے بدفعلی کی اطلاع پر اس کی گرفتاری عمل میں آئی، اور دوران تفتیش ہولناک انکشافات سامنے آئے کہ وہ اس مکروہ کام کا عادی مجرم ہے اور بیرون ملک سزا بھی کاٹ چکا ہے۔ پولیس کے مطابق سہیل ایاز خیبر پختونخوا کے سول سیکرٹریٹ محکمہ منصوبہ بندی کو کنسلٹینسی دے رہا تھا اور صوبائی حکومت سے ماہانہ 3 لاکھ روپے تنخواہ لیتا ہے، وہ برطانیہ میں بین الاقوامی شہرت کے حامل فلاحی ادارے میں بھی ملازمت کرچکا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق مجرم سہیل پاکستان میں 30 بچوں کو بدفعلی کا نشانہ بنانے کا اعتراف کرچکا ہے، اگر زیادتی کا شکار بچوں کے والدین خوف یا بدنامی کے ڈر سے مقدمے میں مدعی نہ بنیں، تو پولیس ان وارداتوں کی مدعی بنے گی، مجرم سے بچوں کی برہنہ ویڈیوز اور تصاویر برآمد کرنے کے لئے ایف آئی اے سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے فیصل رانا نے بتایا کہ سہیل ایاز کو برطانوی حکومت نے ڈی پورٹ کیا تھا اور وہ بچوں کو بدفعلی کا نشانہ بنانے کے جرم میں برطانوی جیل سے سزا کاٹ چکا ہے۔ اس نے برطانیہ میں بچوں کے تحفظ کے ادارے میں ملازمت کی اور وہاں یہ مکروہ دھندہ شروع کیا تھا۔ پولیس حکام کے مطابق مجرم سہیل اٹلی میں بھی بچوں کے ساتھ زیادتی کے مقدمات میں عدالتی مقدمہ بھگت چکا ہے اور اسے اٹلی سے بھی ڈی پورٹ کر دیا گیا تھا، پاکستان واپس آکر اس نے تھانہ روات کے علاقہ میں رہائش اختیار کی، جہاں اس نے متعدد بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا۔ حال ہی میں قہوہ بیچنے والے محنت کش کے بچے سے بدفعلی اور ویڈیو بنانے کے بعد اس کی گرفتاری عمل میں آئی۔ ایس پی صدر رائے مظہر اقبال نے بتایا کہ ملزم سہیل ایاز چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ہے، جو انتہائی ذہین اور ڈارک ویب کو استعمال کرنے کا ماہر ہے، اس کا تعلق اسلام آباد کے علاقے نیلور سے ہے۔ اس کی بیوی 9 سال قبل اس کو چھوڑ کر چلی گئی تھی جبکہ اس کی ان حرکتوں کی وجہ سے اس کے والدین اور بہن بھائی بھی اس سے لاتعلق ہوگئے، تاہم انہوں نے پولیس کو اس قبیح فعل کی اطلاع دینا ضروری نہ سمجھا۔
خبر کا کوڈ : 826958
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے