0
Tuesday 12 Nov 2019 20:34

سپریم کورٹ، جی بی کی اعلٰی عدالت میں 48 غیر قانونی بھرتیوں کیخلاف درخواست پر فریقین کو نوٹس جاری

سپریم کورٹ، جی بی کی اعلٰی عدالت میں 48 غیر قانونی بھرتیوں کیخلاف درخواست پر فریقین کو نوٹس جاری
اسلام ٹائمز۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے گلگت بلتستان کی اعلٰی عدالت میں مبینہ طور پر 48 غیر قانونی بھرتیوں کیخلاف آئینی درخواست پر اٹارنی جنرل اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کر دیا۔ جسٹس گلزار احمد اور جسٹس مقبول باقر پر مشتمل سپریم کورٹ کے دو ججوں پر مشتمل بینچ نے درخواست کی سماعت کی۔ درخواست گزار سپریم اپیلیٹ کورٹ بار اور دیگر کی طرف سے معروف وکیل عارف چوہدری عدالت میں پیش ہوئے۔ مختصر سماعت کے بعد عدالت نے فریقین (مبینہ طور پر بھرتی ہونے والے 48 ملازمین اور اٹارنی جنرل آف پاکستان) کو نوٹسز جاری کر دیئے۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ جی بی کی اعلٰی عدالت سپریم اپیلیٹ کورٹ میں میرٹ اور قانون کی دھجیاں اڑاتے ہوئے اقرباء پروری کی بنیاد پر درجنوں افراد کو غیر قانونی طور پر بھرتی کیا گیا ہے۔ غیر قانونی بھرتیوں کی وجہ سے خطے میں احساس محرومی پیدا ہو رہا ہے اور حقداروں کی حق تلفی ہوئی ہے۔

درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ اس وقت سپریم اپیلیٹ کورٹ میں 177 مستقل ملازمین موجود ہیں، جبکہ منظور شدہ پوسٹیں صرف 112 تھیں، متعلقہ حکام نے پہلے عارضی پوسٹیں پیدا کیں، بعد میں مستقل کیا گیا۔ یہ بذات خود قومی خزانے پر بھی بہت بڑا بوجھ ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ قانون ساز اسمبلی نے کئی متفقہ قراردادوں کے ذریعے غیر قانونی بھرتیوں کو ختم کرنے اور عدالت میں مقامی لوگوں کو ہی بھرتی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ درخواست میں غیر قانونی تقرریوں کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ لیاقت حسین جو ایڈیشنل رجسٹرار کے عہدے پر فائز تھا انہیں رجسٹرار بنا دیا گیا، ان کی ریٹائرمنٹ 16 نومبر 2018ء کو ہونی تھی، لیکن سابقہ چیف جج رانا محمد شمیم نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اگست میں انہیں دوبارہ سے دو سال کی کنٹریکٹ پر رجسٹرار تعینات کیا۔ یاد رہے کہ لیاقت حسین 16 نومبر 2018ء کو ساٹھ سالہ عمر پوری کر چکے ہیں، اس کے باوجود انہیں دوبارہ تعینات کیا گیا جو کہ حج سکینڈل میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس فیصلے کے تحت ریٹائرمنٹ کے بعد کسی کو دوبارہ تعینات نہیں کیا جا سکتا۔

اسی طرح موجودہ سیکرٹری عثمان بشیر جنجوعہ (گریڈ 20) کی تقرری کو چیلنج کرتے ہوئے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ وہ ستمبر 2009ء تک فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی میں بطور سٹینوگرافر (سکیل 15) میں کام کر رہے تھے، بعد ازاں خلاف قانون وہ سپریم اپیلیٹ کورٹ میں سکیل سترہ میں سیکرٹری بن گئے۔ اب وہ گریڈ 20 میں پہنچ چکے ہیں۔ سابق وفاقی وزیر برجیس طاہر کے بھتیجے محمد نبیل ادریس کو بھی غیر قانونی طور پر پرنسپل سٹاف آفیسر (بی پی ایس گریڈ 18) مقرر کیا گیا۔ درخواست میں درجنوں غیر مقامی ملازمین کے بارے میں بھی بتایا گیا ہے کہ وہ تمام غیر قانونی طور پر ایسٹاکوڈ (اسٹیبلمشنٹ کوڈ) کی شق نمبر 38 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھرتی ہوئے۔ 9 غیر مقامی ملازمین کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ انہیں گریڈ ایک سے سات سکیل میں غیر قانونی طور پر بھرتی کیا گیا ہے۔ درخواست میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ 12 مارچ کو تین ایسے اہلکاروں کو بھرتی کیا گیا، جس وقت انہیں بھرتی کرنے کیلئے کوئی مجاز اتھارٹی ہی موجود نہیں تھی۔ درخواست میں سپریم اپیلیٹ کورٹ میں داخلی آڈٹ کرانے کے احکامات جاری کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

 درخواست میں وفاقی وزارت امور کشمیر، سپریم اپیلیٹ کورٹ، رجسٹرار سپریم اپیلیٹ کورٹ اور دیگر پرائیویٹ فریقین جن میں سپریم اپیلیٹ کورٹ میں مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر بھرتی ہونے والے ملازمین شامل ہیں کو فریق بنایا گیا ہے۔ انہیں نوٹسز جاری کر دیئے گئے ہیں۔ یاد رہے کہ سترہ جنوری 2019ء کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے سات رکنی بینچ نے ایک تاریخی فیصلہ دیتے ہوئے گلگت بلتستان کے عوام کو اپنے بنیادی حقوق کی فراہمی اور ان کے نفاذ کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ آف پاکستان تک رسائی دی تھی۔ اس فیصلے کے بعد گو کہ انتظامی اصلاحات کے فیصلے ہر ابھی تک عملدرآمد نہیں ہوا تاہم عوام کی جانب سے اپنے بنیادی حقوق کیلئے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانے کا سلسلہ شروع ہوا ہے، یہ درخواست بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ یہ درخواست سپریم اپیلیٹ کورٹ بار اور دیگر سینئر وکلاء کی جانب سے آئین پاکستان کے آرٹیکل (3) 184 کے تحت دائر کی گئی ہے۔
خبر کا کوڈ : 826974
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب