0
Wednesday 13 Nov 2019 12:21
ہمیں جھپٹنا بھی آتا ہے اور حملہ کرنا بھی، مولانا فضل الرحمان

جے یو آئی کا پلان بی پہ عملدرآمد، وزارت داخلہ کا اہم اجلاس طلب

معاہدے کی خلاف ورزی ہوئی تو قانون حرکت میں آئیگا، وزیر داخلہ
جے یو آئی کا پلان بی پہ عملدرآمد، وزارت داخلہ کا اہم اجلاس طلب
اسلام ٹائمز۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے "پلان بی" پر عمل درآمد کے اعلان کے بعد وزارت داخلہ نے اہم اجلاس طلب کر لیا ہے۔ اجلاس میں آئی جی، چیف کمشنر، ڈی آئی جیز اور رینجرز حکام کو بھی طلب کیا گیا ہے۔ وزارت داخلہ کی جانب سے پولیس کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ اگر کسی نے معاہدے کی خلاف ورزی کرنے کی کوشش کی تو پھر قانون حرکت میں آئے گا۔ وزیر داخلہ نے خبردار کیا ہے کہ اسلام آباد کی شاہراہیں کو اگر بند کرنے کی کوشش کی گئی تو پھر قانون حرکت میں آئے گا۔ گذشتہ روز مولانا فضل الرحمان نے پلان بی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس پر عمل آج (بدھ) سے شروع کیا جائے گا۔

آزادی مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پلان اے ہے اور یہ باقی رہے گا، تاہم جب تک پلان بی پر عملدرآمد کا اعلان نہیں کیا جائے گا، سب یہیں رہیں گے۔ انہوں نے کہا تھا کہ پلان اے کے ہوتے ہوئے ہم پلان بی کی طرف جائیں گے اور جب اعلان ہوگا تو قافلے روانہ ہو جائیں گے۔ پلان بی میں اس حکومت کا سنبھلنا مشکل ہو جائے گا۔ ہم سیاسی لوگ ہیں، ہمیں جھپٹنا بھی آتا ہے اور پلٹ کر حملہ کرنا بھی۔ میڈیا ذرائع کے مطابق جے یو آئی (ف) کے اجلاس میں فیصلہ ہوا تھا کہ پلان بی کے تحت پاکستان کی تمام اہم تجارتی شاہراہیں بدھ کے دن سے مکمل طور پر بند کی جائیں گی۔ میڈیا ذرائع کے مطابق آزادی مارچ کے لیے طے کردہ پلان اے کے تحت پشاور موڑ پر دھرنا جاری رہے گا۔

جے یو آئی (ف) کے اجلاس میں طے کیا گیا کہ پلان بی پر کامیاب عمل درآمد کے بعد پشاور موڑ پر جاری آزادی مارچ مؤخر کیا جائے گا۔ پلان بی کے فیز ایک کے تحت ملک کی تمام اہم تجارتی شاہراہیں بند کی جائیں گی، جبکہ پلان بی کے فیز ٹو کے تحت تمام ضلعی ہیڈ کوارٹرز بھی بند کر دیئے جائیں گے۔ اس ضمن میں تمام صوبائی عہدیداران کو پلان بی پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے نہ صرف ہدایات جاری کر دی گئی ہیں، بلکہ اہم ٹاسک بھی تفویض کر دیئے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ جے یو آئی نے آج صبح سے قومی شاہراہیں بند کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ کوئٹہ چمن شاہراہ سید حمید کے مقام پہ ٹریفک کیلئے بند کر دی گئی ہے جبکہ سندھ بلوچستان بارڈر کو بند کرنے کی تیاری جاری ہے۔
خبر کا کوڈ : 827096
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے