0
Saturday 16 Nov 2019 23:45

 پاکستان کی خواہش ہے کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی دور ہو، شاہ محمود قریشی 

 پاکستان کی خواہش ہے کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی دور ہو، شاہ محمود قریشی 
اسلام ٹائمز۔ وفاقی وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ان ہاوس تبدیلی کا کوئی امکان نہیں، کچھ لوگوں کو خوش فہمی ہے اور خوش فہمی رہے گی، تحریک انصاف نے ہمیشہ عدلیہ کا احترام کیا، نواز شریف کے حوالے سے عدالت کے فیصلے پر وزیراعظم نے کور کمیٹی کا اجلاس طلب کیا ہے اور عدالتی فیصلے پر مشاورت کا آغاز کر دیا ہے، لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ جانے کے بارے میں پارٹی میں مشاورت کر رہے ہیں۔ہائیکورٹ کے فیصلے کی تفصیل کے بعد حکمت عملی طے کریں گے اورجلد ہی حکومتی لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا، نواز شریف کے فیصلے کے دو پہلو ہیں ایک قانونی اور دوسرا انسانی ہمدردی کا، انسانی پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے کابینہ نے نواز شریف کو باہر جانے کی اجازت دیدی، اس سلسلے میں عدالت نے دونوں ٹیموں کو سامنے رکھتے ہوئے ایک شرط عائد کی کہ وہ انڈرٹیکنگ دیں، جو شہباز شریف نے دیدی ہے اور نواز شریف نے اس کی حمایت کی ہے۔ شہباز شریف نے واضح کہا ہے کہ ہم چار ہفتوں کیلئے باہر لے جا رہے ہیں اور ہم واپس لانے کے پابند ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ملتان میں مرکزی انجمن تاجران کے زیراہتمام منعقدہ تاجر کنونشن سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر مرکزی انجمن تاجران کے چیئرمین خواجہ سلیمان صدیقی، صوبائی معاون خصوصی حاجی جاوید اختر انصاری، شاہد محمود انصاری اور تاجر رہنماوں کی ایک بہت بڑی تعداد اس موقع پر موجود تھی۔

انہوں نے کہا آصف زرداری اورمیاں نواز شریف کی بیماری کی نوعیت میں فرق ہے، اگر آصف زرداری کی صحت کے حوالے سے کچھ ہے تو بلاول بھٹو بیان بازی نہ کریں بلکہ قانونی حکمت عملی لائیں، انہوں نے کہا دھرنے کے دوران چودھری شجاعت اور پرویز الہی کا کردار مثبت تھا، ہم چودھری برادران کے کردار کو سراہتے ہیں، ق لیگ ہماری حکومتی حلیف ہے، ہمارا ان کے ساتھ اعتماد کا رشتہ ہے۔ انہوں نے کہا دھرنے والوں نے 13دن بعد خود پلان اے ختم کرے پلان بی شروع کیا، حکومت نے دھرنا والا مرحلہ خندہ پیشانی سے طے کیا ہم نے کسی کو گرفتار نہیں کیا کسی پر لاٹھی چارج نہیں کیا، ہم نے کسی کو تنگ نہیں کیا، دھرنا والوں کے لیے سہولتیں پیدا کیں، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے کارکنوں نے مختلف شہروں میں بندشیں پیدا کیں جس کو عوام نے مسترد کردیا۔ بھارت کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا بھارت کیساتھ اس وقت تعلقات کشیدہ ہیں، اس نے کشمیر پر انسانی حقوق پامال کر رکھے ہیں، ہم نے کررتارپور راہداری کھول کر اچھی مثال قائم کی ہے اور روادری کا مظاہرہ کیا جبکہ ہمارے برعکس بھارت بابری مسجد گرا رہا ہے، دنیا کو اس کا تقابلی جائزہ لینے چاہئے۔ انہوں نے کہا بھارت کے ساتھ ہمارے تعلقات کشیدہ ہیں بھارت سے مطالبہ کیا جاتا ہے کشمیرمیں فوری طور پر کرفیو ہٹائے۔ آج یورپی یونین بھی بھارت کو تنقید کا نشانہ بنا رہا ہے۔ ان حالات میں بھارت کے ساتھ تعلقات معمول پر آتے دکھائی نہیں دے رہے۔

 افغانستان کی جانب سے کراس بارڈر حملوں کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ افغان حکومت سے رابطے میں ہیں اور اس حوالے سے ہمارے وفود وہاں گئے ہیں اور افغان قیادت سے ملاقات کی جس کے نتیجے میں غلط فہمیاں دور ہوئیں ہیں۔ ایران اور سعودی عرب میں ثالثی کے حوالے سے ایک جواب میں وزیرخارجہ نے کہا پاکستان کے ایران اور سعودی عرب کے ساتھ برادارانہ تعلقات ہیں اور پاکستان کی خواہش ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی دور ہو۔ اس سلسلے میں وزیراعظم عمران خان نے دونوں ممالک کا دورہ کیا اور اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں۔ ہمارے دورہ کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم ہوئی ہے اور تناو ختم ہوتا نظر آر ہا ہے۔ انہوں نے کہا وزارت خارجہ اکنامک ڈپلومیسی کے ذریعے ملکی معیشت کی بہتری کیلئے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔ 27اور 28 نومبر کو افریقا خطے کے سفیروں کی 2 روزہ کانفرنس بلائی جا رہی ہے، جس کا مقصد ملکی معیشت کو مضبوط کرنا ہے۔ انہوں نے کہا اس کانفرنس میں مشیر تجارت عبدالرزاق داود اپنی ٹیم کے ساتھ شریک ہونگے، میں نے ان سے درخو است کی ہے کہ مختلف غیرملکی میشنز میں کامرس اتاشیز کو متحرک کیا جائے اور مختلف سفارت خانوں میں کامرس اتاشیز کی خالی آسامیوں کو فی الفور پر کیا جائے تاکہ ملک میں نہ صرف دوطرفہ تجارت میں اضافہ ہو بلکہ غیرملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہو سکے۔
خبر کا کوڈ : 827793
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے