0
Sunday 17 Nov 2019 21:32
ہمیں سب سے بڑا خطرہ منافقین سے ہے، انہیں شناخت کرنا ہوگا

ایک امت بن کر ہی ہم کامیاب امت بن سکتے ہیں، وحدت کانفرنس

ایک امت بن کر ہی ہم کامیاب امت بن سکتے ہیں، وحدت کانفرنس
اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے زیراہتمام ایوان اقبالؒ لاہور میں ’’وحدت کانفرنس‘‘ کا اہتمام کیا گیا، جس میں تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں کے قائدین نے شرکت کی۔ اس موقع پر رہنماؤں سیرت النبی (ص) کی روشنی میں وحدت امت کی موجودہ دور میں ضرورت پر زور دیا۔ تحریک انصاف پنجاب کے رہنما اعجاز احمد چودھری نے کہا کہ آج بھی مسلمانوں کے مال و دولت امریکہ اور یورپ سے نکال لئے جائیں، تو ان غالب تہذیبوں میں اندھیرا چھا جائے، حضرت محمد (ص) ایسی ہستی ہیں جن کے گرد ہم جمع ہو سکتے ہیں، اس کے علاوہ کسی ہستی پر ہم جمع نہیں ہو سکتے۔ اس لئے ہمیں امت وحدہ بننا ہے۔ علامہ سید قاضی نیاز نقوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اتحاد کو واجبات میں قرار فرمایا ہے، وحدت، اتحاد اور اتفاق قرآن مجید کا متفقہ فیصلہ ہے، قرآن نے تفرقے کو حرام قرار دیا، اگر کوئی شخص وحدت کیخلاف عمل کرتا ہے قیامت والے دن وحدت سے انحراف اور لوگوں کو بھٹکانے والوں کو بھی سزا ملے گی، قرآن کریم کی کئی آیات میں وحدت کا ذکر کیا گیا ہے، سنت پیغمبر میں بھی وحدت پر ہمیشہ عمل کی ہدایت کی گئی ہے، حضرت علی ؑ نے وحدت کیلئے سب سے زیادہ قربانیاں دیں۔ انہوں نے کہا کہ وحدت مسلمین کیلئے ایسے پروگرامز کا انعقاد ہونا ضروری ہے۔

ڈاکٹر علامہ راغب حسین نعیمی نے اپنے خطاب میں کہا کہ وحدت کا پیغام ہر پاکستانی کی زبان پر ہونا چاہیئے، ڈاکٹر سرفراز نعیمی شہید نے نائن الیون کے بعد افغانستان پر امریکی یلغار کے موقع پر برملا کہا کرتے تھے کہ جو بم افغانستان کی سرزمین پر گر رہے ہیں، ان بموں پر نام مسلمانوں کا لکھا ہوا۔ کل دیگر اسلامی ممالک پر گرتے نظر آئیں گے، ان کا ہدف اسلام کو ماننے والے ہوں گے عقیدہ یا مسلک بم پر نہیں لکھا ہوگا، آج مسلمانوں کو نیست و نابود کرنے کیلئے طاقتیں اکٹھا ہو چکی ہیں، استعمار کی تمام سازشوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا ہمیں نظریاتی اختلافات کو ایک طرف رکھنا ہوگا، پاکستان میں آج اس قسم کے اقدامات کئے جا رہے ہیں، ریاستی سطح پر کہ کوئی کسی کیلئے تکفیر کا لفظ استعمال نہیں کرے گا اسلام کے دائرے سے باہر نہیں نکالے گا، کیونکہ پچھلے تیس سال سے ہم نے اپنے مسلک کے ذریعے اسلام کی خدمت کی بجائے لوگوں کو اسلام سے دور کیا، آج ہم پیغام پاکستان کے ذریعے وحدت کی لڑی میں پروے جا سکتے ہیں، اگر ہم کامیاب ہو گئے تو استعمار ہمیں کبھی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔

سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا نے کہا کہ وحدت اسلام کی اصل روح ہے، وہ لوگ جو اس پر یقین رکھتے ہیں اختلافات اپنی جگہ موجود لیکن تکفیر کے قائل نہیں ہیں۔ تکفیر پر یقین رکھنا اور اس کے بعد مختلف مقامات پر یہ بات کرنا کہ وحدت پر یقین رکھتے ہیں تو یہ منافق کی نشانی ہے ہمیں سب سے بڑا خطرہ منافقین سے ہے۔ ہمیں منافقین کی پہچان کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے ہاں کچھ ایسی قوتیں ہیں جو چاہتی ہیں کہ ہم سعودی عرب کی ہاں میں ہاں ملائیں، وہاں مقدس مقام پر بیت الخلا بنائے جا رہے ہیں جو کہ کسی صورت قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مذہب کو سیاست سے جدا نہیں کیا جا سکتا لیکن مذہب کو سیاست میں استعمال کرنے کے مخالف ہیں۔ مذہب کارڈ کو استعمال کرتے ہیں جو نہیں ہونا چاہیئے۔ صاحبزادہ حامد رضا نے کہا کہ وحدت کا مطلب ہی یہ ہے کہ دل سے ایک دوسرے کو تسلیم کریں، آج کے دور کے اندر ضرورت اس بات کی ہے جو حقیقی معنی میں وحدت کے حامی ہیں، ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیئے لیکن تکفیری قوتوں کی بھی نشاندہی کرنی چاہیئے۔

سردار مہندر پال سنگھ نے کہا کہ یہاں سب کا اکٹھا ہونا نبی کریم (ص) کی تعلیمات پر عمل کا ثبوت ہے، احادیث میں عمل سے دکھایا گیا ہے کہ تمام مذاہب کی عزت کرنی ہے انہیں تحفظ دینا ہے، تمام مذاہب اور مسالک کو یہاں دیکھ کر بہت خوشی ہو رہی ہے، اگر ہم اکٹھے ہو جائیں تو اسرائیل اور بھارت کچھ نہیں کر سکتے، یہ ہمارے اتفاق کی مار ہیں، ہم متحد ہو جائیں تو دنیا بھر کے تمام مظلوموں کو مظالم سے نجات مل جائیگی۔ وزیراعظم عمران خان ہر جگہ یہی بات کہتے ہیں کہ میرے نبیﷺ کا حکم ہے کہ ہم نے تمام مذاہب کو پوری آزادی دینی ہے، جب تک ہم نبیﷺ کی تعلیمات اور اللہ تعالٰی کے احکامات پر عمل نہیں کریں گے ہم آپس میں لڑتے رہیں گے۔ مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی رہنما آقائے غلام حرُ شبیری نے اپنے خطاب میں کہا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آپ ﷺ کو تمام جہانوں کیلئے رحمت بنا کر بھیجا اور فرمایا کہ تم میں ایک امت کا ہونا ضروری ہے جو امن کی دعوت دے، اس کا مصداق وحدت اسلامی ہے، جو اس امت کو امت بنانے کیلئے جدوجہد کرے، مشائخ اور علماء کا فریضہ ہے کہ وہ اپنے مکاتب اور مساجد میں اس فریضہ الٰہی کیلئے کوشش کریں، جو اختلاف اور فرقے کی بات کرے اسے روکا جائے، ایک امت بننے کیلئے مساجد کے دروازے دوسرے مسالک کیلئے کھولنا ہوں گے، مساجد مسلمانوں کے مورچے ہیں، ایک امت بن کر ہی ہم کامیاب امت بن سکتے ہیں۔

پیر سید حبیب عرفانی نے کہا کہ یہ کانفرنس وقت کی اہم ضرورت تھی، ہم ایک قوم کی بجائے مسالک اور فرقوں میں تقسیم ہیں، اگر ہم امت محمدی کے طور پر اپنے آپ کو لیں تو پھر ہم میں تفرقہ نہیں آ سکتا، پوری دنیا میں مسلمانوں پر مصائب کا پہاڑ ٹوٹا ہوا ہے، کشمیر میں کرفیو کو سو دن سے زائد گزر چکے ہیں لیکن ہمارا اتحاد نہ ہونے کی وجہ سے کوئی عالمی طاقت اس کا نوٹس نہیں لے رہی۔ جو محبت ہمیں نبی کریمﷺ کی ذات سے ہونی چاہئے آج شاید وہ محبت نہیں، جب تک ہم مسلمان کے طور پر رہے پوری دنیا پر حکومت کی لیکن آج تقسیم ہو کر پوری دنیا میں رسوا ہو رہے ہیں۔ آغا سید محمد رضا نے اپنے خطاب میں کہا کہ خالق کل کائنات نے حضورﷺ کو رحمت العالمین کا لقب دیا ہے، پچھلی کئی دہائیوں سے ہماری بطور مسلمان کوتاہی رہی کہ دشمن شناسی پر توجہ نہ دے سکے، پھر ایک مرد مجاہد نے امریکہ، اسرائیل اور آئی ایم سکس پر توجہ دلائی۔ دنیا کی بڑی جنگوں میں صیہونی ملوث رہے ہیں، امت مسلمہ کیلئے اس وقت متحد ہونا انتہائی ضروری ہے کیونکہ ہمارے دشمن متحد ہو چکا ہے۔

رکن پنجاب اسمبلی سیدہ زاہرہ نقوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ پروردگار نے ہمیں رحمت العالمین کا امتی بنایا، آج سب کا یہاں جمع ہونے کا مقصد یہ ہے کہ ہم جسد واحد ہیں، امت وحدہ ہیں اپنے مشترک دشمن کو پہچانتے ہوئے اپنی تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنا کردار ادا کرنا ہے، اگر آج ہم ایوانوں میں ہیں تو ہم اپنے ملک کو اس سطح پر لانا چاہتے ہیں جہاں پروردگار چاہتا ہے، وہ ملک جس کی بنیاد اسلام کے نام پر رکھی گئی تھی، صرف نعرہ ہی نہیں واقعی ریاست مدینہ کی طرح ہو۔ صاحبزادہ عبدالماجد نے کہا کہ امت میں وحدت کیلئے کاوشیں ہو رہی ہیں لیکن آج یہ منظر نظرآ رہا ہے آج پھول بھی ہیں، رنگ بھی ہیں، خوشبو بھی ہے،یہ امت کا گل دستہ ہے۔ پیر سید محمد معصوم نقوی نے کہا کہ آپ ﷺکی ذات مبارک تخلیق فرماتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے آپ کا میلاد منایا پھر فرشتوں، آدم، صحابہ کرام اور آج ساری امت سرکارﷺ کا میلاد منا رہی ہے۔ آج سے پہلے اہل تشیع اور اہلسنت میں اتنے گہرے روابط امت کو اکٹھا کرنے میں دیکھنے میں نظر نہیں آئے۔ راجہ ناصر عباس نے پاکستان میں امت مسلمہ کو جمع اور اکٹھا کرنے کی ہمیشہ کوشش کی، آج شیعہ اور سنی کی کوئی بات نظر نہیں آ رہی سب ایک ہی ہیں، ہم متحد ہو گئے تو یہی ہماری بخشش کا ذریعہ ہے۔

مفتی عاشق حسین نے کہا کہ مجلس وحدت مسلمین نے تمام مسالک کے علماء کو آج ایک چھت تلے اکٹھا کرکے ایک امت ہونے کاپوری دنیا کو پیغام دیا ہے کہ امت اپنے نبی ﷺکی ناموس پر کل بھی اکٹھی تھی آج بھی اکٹھی ہے، کل بھی اکٹھی رہے گی۔ جمعیت علماء پاکستان نیازی کے شفیق بٹ نے کہا کہ کشمیر کی بیٹیاں اوربیٹے پکار رہے ہیں، خدا ہماری امت میں صلاح الدین ایوبی جیسے رہنماء پیدا کرے جو انہیں مظالم سے نجات دلائیں۔ پیر اعجاز ہاشمی نے کہا کہ کل پاکستان ہم نے بنایا تھا آج ہم پاکستان کی بقاء کیلئے اکٹھے ہیں، پوری امت مسلمہ آقا کریمﷺ کی ناموس پر متحد ہے۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دیگر مذہبی شخصیات، مشائخ عظام کا کہنا تھا کہ دشمن کے عزائم ناکام بنانے کیلئے امت مسلمہ وحدت کا مظاہرہ کرے، تفرقوں میں ڈالنے والے دشمنوں کے سہولت کار ہیں، وطن عزیز کیلئے ہر قربانی دینے کیلئے تیار ہیں، امت مسلمہ دشمن کی چالوں کو ناکام بنانے کیلئے جسد واحد بن جائے۔
خبر کا کوڈ : 827854
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے