0
Thursday 21 Nov 2019 12:48

ڈی آئی خان، زنانہ ہسپتال کی سٹاف نرسز کی بھتہ خوری عروج پر پہنچ گئی

ڈی آئی خان، زنانہ ہسپتال کی سٹاف نرسز کی بھتہ خوری عروج پر پہنچ گئی
اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں ڈسٹرکٹ زنانہ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں سٹاف نرسز کی بھتہ خوری عروج پر پہنچ گئی ہے، سٹاف نرسز نے لڑکے و لڑکی کی پیدائش پر والدین سے مٹھائی کے نام پر الگ الگ ریٹ مقرر کر لئے۔ زنانہ ہسپتال کا لیبر روم سونے کی کان میں تبدیل ہوگیا ہے، عملہ زبردستی ہزاروں کی دیہاڑیاں لگانے میں مشغول ہے، جبکہ متعلقہ افسران کی خاموشی سوالیہ نشان ہے۔ تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ زنانہ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے شعبہ لیبر و گائنی وارڈ میں تعینات عملے نے کمال مہارت کے ساتھ بھتہ خوری کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے، بچے کی پیدائش پر والدین سے مٹھائی کے نام پر ہزاروں روپے بٹور لئے جاتے ہیں، جبکہ مطلوبہ رقم نہ ملنے تک نوزائیدہ بچے کو اپنی تحویل میں رکھا جاتا ہے۔

بچی پیدا ہونے کی صورت میں بھی مریض کے لواحقین کو کچھ نہ کچھ ادا کرنا پڑتا ہے، قابل ذکر امر یہ ہے کہ لیبر و گائنی وارڈ میں من پسند عملے کو تعینات کیا جاتا ہے جو متعلقہ ذمہ داران کی خواہشات کو مدنظر رکھ سکے۔ اس حوالے سے زنانہ ہسپتال میں داخل ہونے والے مریضوں اور ان کے لواحقین کا کہنا ہے کہ لیبر و گائنی وارڈ جہاں رشوت وصول کی جاتی ہے وہاں کسی پرائیویٹ شخص کی رسائی نہیں، عملہ انتہائی مہارت کے ساتھ مریضوں کے ساتھ آئے ہوئے لواحقین کی جیبیں خالی کرواتا ہے، شہری اور سماجی حلقوں کے عمائدین نے ڈپٹی کمشنر ڈیرہ اور ہسپتال انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ شعبہ لیبر و گائنی وارڈ میں ہونے والی مالی بدعنوانی کے خاتمے کیلئے نوٹس لیا جائے، تاکہ غریب سفید پوش طبقہ سے تعلق رکھنے والے شہری عملے کی لوٹ مار سے محفوظ رہ سکیں۔
خبر کا کوڈ : 828285
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے