0
Thursday 21 Nov 2019 20:47

عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان نے حکومت کو چھ نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کر دیا

عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان نے حکومت کو چھ نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کر دیا
اسلام ٹائم۔ عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان نے حکومت کو چھ نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ مطالبات پر عمل نہ ہونے کی صورت میں پورے جی بی میں احتجاج کیا جائے گا۔ سکردو میں اے اے سی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے عوامی ایکشن کمیٹی نے رہنماؤں مولانا سلطان رئیس، آغا سید علی رضوی، فدا حسین، مسعود الرحمن، شہزاد آغا، غلام حسین اطہر، آصف ناجی ایڈووکیٹ، محمد علی دلشاد، نجف علی، بشارت شاہ جی، عبد اللہ حیدری، آغا سید محمد تقی سبزواری و دیگر نے کہا کہ چھ نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ میں سب سے پہلا مطالبہ یہ ہے کہ گلگت بلتستان کی زمینوں کو عوامی ملکیت قرار دے کر انہیں عوام میں ہی تقسیم کیا جائے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد جی بی متنازعہ خطہ ہے، لہٰذا اس خطے کی متنازعہ حیثیت کو تسلیم کرتے ہوئے تمام زمینوں کو عوام میں ہی تقسیم کیا جائے۔

رہنمائوں کا کہنا تھا کہ یہاں کوئی خالصہ سرکار نہیں ہے، اداروں کو کسی مقصد کیلئے زمین درکار ہے تو وہ عوام کو معاوضے دے کر یا انہیں اعتماد میں لے کر حاصل کریں، لینڈ ریفارمز کمیشن کی سفارشات کو اسمبلی میں پیش کئے جانے سے قبل مندرجات سامنے لا کر عوام کو ان پر بحث کا موقع دیا جائے۔ دوسرا مطالبہ یہ ہے کہ گلگت بلتستان کے تمام تاریخی راستے خصوصاً سکردو کرگل روڈ اور شونٹر پاس کو فوری طورپر کھولا جائے اور ان دونوں تاریخی راستوں کے متاثرین کو معاوضے ادا کئے جائیں، متبادل راستہ نہ ہونے کے باعث ہم سال بھر شاہراہ قراقرم کے محتاج رہتے ہیں، یہ شاہراہ کسی وجہ سے بند ہونے پر خطے میں قحط جیسی صورت حال پیدا ہوتی ہے، اس لئے ہمارا حکومت سے مطالبہ ہے کہ پانی سر سے گزرنے سے قبل تمام تاریخی راستوں کو وسیع تر علاقائی مفاد میں کھولا جائے۔ تیسرا مطالبہ یہ ہے کہ سکردو روڈ کو اس کے اصل ڈیزائن کے مطابق بنایا جائے، پہلے کہا گیا تھا کہ پانچ ٹنلز بنائی جائیں گی، کوئی چڑھائی اترائی نہیں ہوگی مگر اب سارے وعدے اور دعوے ہوا میں تحلیل ہو رہے ہیں، روڈ کو ڈیزائن اور معیار کے مطابق نہیں بنایا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے عوام میں بڑی تشویش پیدا ہو رہی ہے۔

چوتھا مطالبہ یہ ہے کہ گلگت بلتستان کے تمام سیاسی قیدیوں کو ریلیف دیتے ہوئے باعزت رہا کیا جائے، ہم اسیران کی رہائی تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے، جو بھی قدم اٹھانا پڑے اٹھائیں گے۔ چارٹر آف ڈیمانڈ کا پانچواں مطالبہ یہ ہے کہ بلتستان یونیورسٹی  کو خود کفیل اور خود مختار یونیورسٹی بنائی جائے، اس بڑی درسگاہ کو قراقرم یونیورسٹی کے ماتحت نہ چلایا جائے، بلتستان یونیورسٹی میں ہونے والی میرٹ کی پامالی کو روکتے ہوئے میرٹ کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے، بصورت دیگر عوامی ایکشن کمیٹی ہر گزخاموش نہیں رہے گی۔ ہمارا چھٹا مطالبہ یہ ہے کہ سپریم اپیلیٹ کورٹ، نیٹکو، گلگت بلتستان سکریٹریٹ اور جی بی ہاوس میں غیر مقامی افراد کی بھرتی پر پابندی لگائی جائے، تمام اداروں میں غیر مقامی افراد کو گریڈ ون سے لیکر گریڈ 20 تک کی پوسٹوں پر بھرتی کر کے مقامی افراد کا معاشی قتل کیا جا رہا ہے، اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی آسامیاں کئی عرصے سے خالی پڑی ہیں اور ججز کی تقرریاں نہیں کی جارہی ہیں، ججز کی تعداد کو فی الفور پورا کیا جائے تاکہ سستے انصاف کی فراہمی میں حال تمام رکاوٹیں دور ہو سکیں۔
خبر کا کوڈ : 828344
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے