0
Monday 25 Nov 2019 18:43

اسلام، قرآن اور رسول اللہ کی توہین برداشت نہیں کی جا سکتی، اعجاز ہاشمی

اسلام، قرآن اور رسول اللہ کی توہین برداشت نہیں کی جا سکتی، اعجاز ہاشمی
اسلام ٹائمز۔ جمعیت علمائے پاکستان کے مرکزی صدر اور نائب صدر متحدہ مجلس عمل پیر اعجاز احمد ہاشمی نے کہا ہے کہ اسلام، قرآن اور رسول اللہ کی توہین برداشت نہیں کی جا سکتی، عالمی سطح پر احترام انبیا علیہم السلام کیلئے قانون سازی ہونی چاہیے تاکہ توہین مذہب کے مجرموں کو سخت سزائیں دی جا سکیں، اسلام تمام مذاہب کا احترام کرتا ہے اور کوئی ایسی مثال نہیں ملتی کہ کسی مسلمان نے بحیثیت مذہب مسیحیت، یہودیت یا کسی اور کی توہین کی ہو، اس لئے ہم بھی چاہتے ہیں کہ ہمارے جذبات اور مقدسات کا بھی احترام کیا جائے، اگر ایسا نہیں کیا جائے گا تو پھر مسلمان اپنے عقائد، قرآن اور نبی کی ناموس کا تحفظ کرنا جانتے ہیں۔ جے یو پی رہنماوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم اس بہادر نوجوان عمر الیاس کو سلام پیش کرتے ہیں، جس نے قرآن مجید کی توہین برداشت نہ کی اور توہین کے مرتکب بدبخت اور خبیث پر حملہ آور ہوا، اس نے بہادری کا مظاہرہ کیا ہے، جس پر ہمیں فخر ہے، لیکن ہمارا سوال اقوام عالم اور انسان حقوق کی عالمی تنظیموں سے ہے، جو انتہاپسند مسلمانوں پر تو دہشت گردی کا الزام لگا دیتے ہیں مگر یورپی ممالک میں موجود اسلام دشمن عناصر کی مذمت نہیں کرتے۔

پیر اعجاز ہاشمی نے کہ ناروے اور ڈنمارک میں پہلے بھی توہین آمیز کارٹون بنائے جاتے رہے ہیں۔ اب پھر ان ممالک میں واقعات رونما ہورہے ہیں اور آزادی اظہار رائے کے نام پر ایسی سرگرمیوں کو روکا نہیں جا رہا جس کی وجہ سے واقعات بار بار ہوتے رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کی توہین کرنیوالے شخص کی طرح کے پہلے بھی کئی ایسے لوگ موجود ہیں جو اس طرح کی توہین آمیز اور شیطانی سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں مگر افسوس ان کیخلاف کارروائی نہیں ہوئی، اگر ماضی میں قرار واقعی سزا دی جاتی تو یہ اقدامات دہرائے نہ جاتے، لیکن عمر الیاس نے حملہ کرکے دنیا کو پیغام دے دیا ہے کہ اسلامی مقدسات کی توہین کی جائے گی تو ہم خاموش نہیں رہیں گے اور مسلمانوں کی دل آزاری پر ردعمل بھی ہوگا، چاہے جان ہی کیوں نہ چلی جائے۔ جے یو پی کے مرکزی صدر نے کہا کہ جب وہ 1998 میں مشیر وزیراعظم تھے تو نارویجن وزیر انسانی حقوق اسلام آباد آئے اور ان سے ناموس رسالت پر بحث ہوگئی تو اس نے جب استدلال کیا کہ وہ تو اپنے نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر بھی تنقید کرتے ہیں تو میں نے جواب دیا کہ تمام انبیا ؑپر ہم ایمان نہ لائیں تو ہم مسلمان نہیں کہلا سکتے، اگر آپ نے حضرت عیسی ٰ علیہ السلام کی یہاں توہین کریں گے اور ان پر تنقید کریں گے تو ہم آپ کیخلاف مقدمہ درج کرکے آپ کو سزا دیں گے، وہ اس پر حیران بھی ہوا اور معذرت کرلی۔

پیر اعجاز ہاشمی نے کہا کہ انبیا پر تنقید نہیں ہو سکتی کیوں کہ ان سے کوئی غلطی سرزد نہیں ہوتی۔ انہوں نے حکومت سے توہین رسالت اور توہین قرآن کے مسئلہ پر فوری ردعمل دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے زور دیا کہ او آئی سی کے رکن ممالک اقوام متحدہ میں احتجاج کریں تاکہ ایسی سرگرمیوں کو روکا جا سکے ورنہ مسلمانوں اپنے عقائد کا تحفظ جان قربان کرکے بھی کریں گے۔
خبر کا کوڈ : 828976
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش