0
Sunday 8 Dec 2019 11:59

برطانیہ بدعنوانی کے خلاف کارروائی میں شفافیت اور احتساب کے عمل کا احترام کرے، ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل

برطانیہ بدعنوانی کے خلاف کارروائی میں شفافیت اور احتساب کے عمل کا احترام کرے،  ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل
اسلام ٹائمز۔ انسداد کرپشن کے ادارے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل (ٹی آئی) نے برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) کی جانب سے ریئل اسٹیٹ ٹائیکون ملک ریاض کے اہلِ خانہ سے 19 کروڑ پاؤنڈ کی برآمدگی کے معاملے میں محدود معلومات فراہم کرنے پر لندن سے مطالبہ کیا کہ وہ بدعنوانی کے خلاف کارروائی میں شفافیت اور احتساب کے عمل کا احترام کرے۔ تفصیلات کے مطابق ٹی آئی کے برطانیہ میں آفس کے عہدیدار نے کہا کہ وہ اس خبر کا خیرمقدم کرتے ہیں جس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پاکستانی عوام کو رقم واپس کی۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ اقدام پچھلی کوششوں سے جو برطانیہ کے فوجداری فنانس ایکٹ 2017ء کے ذریعہ پیش کی گئی مثبت تبدیلیوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اس ضمن میں ٹی آئی کے ڈائریکٹر برائے پالیسی ڈنکن ہیمس کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ اگرچہ اس معاملے کی تفصیلات بہت محدود ہیں لیکن جیسا کہ تجویز کیا گیا کہ اصل ملک کو ضبط شدہ رقوم کی واپسی دراصل اقوام متحدہ کے کنونشن کے تحت ایک ذمہ داری ہے۔
 
انہوں نے برطانوی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ بدعنوانی کے خلاف کارروائی میں مکمل شفافیت اور احتساب کے دائرے کار کا احترام کرے۔ ڈائریکٹر برائے پالیسی ڈنکن ہیمس نے کہا کہ یہ جان کر حیرت ہوئی کہ برطانیہ کے ورجن آئی لینڈ میں ایک کمپنی رجسٹرڈ ہے جو اس کیس سے منسلک ہے۔ انہوں نے کہ تحقیق سے معلوم ہوا کہ برٹش ورجن آئی لینڈ اثاثوں کو مخفی رکھنے والوں کے لیے اہم جگہ ہے۔ ٹی آئی نے مطالبہ کیا کہ برٹش ورجن آئی لینڈ کو کیمین آئی لینڈز اور جبرالٹر کی طرح مثال قائم کرتے ہوئے کمپنیوں کے حقیقی مالکان کا نام ظاہر کرنے چاہیے۔ واضح رہے کہ 3 دسمبر کو برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض کے خاندان کے ساتھ 19 کروڑ پاؤنڈ کی رقم یا اثاثوں کی فراہمی کے عوض تصفیہ کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔ این سی اے نے 19 کروڑ پاؤنڈ کے تصفیے کی پیشکش قبول کی جس میں برطانیہ کی جائیداد میں لندن کے ون ہائیڈ پارک پلیس نامی عمارت کا ایک اپارٹمنٹ ڈبلیو 2 2 ایل ایچ شامل ہے جس کی مالیت تقریباً 5 کروڑ پاؤنڈز ہیں، جبکہ منجمد اکاؤنٹس میں موجود تمام فنڈز شامل ہیں۔

ایجنسی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ 19 کروڑ پاؤنڈ کی رقم یا اثاثوں کی فراہمی کے عوض تصفیہ پاکستانی شہری ملک ریاض حسین کے حوالے سے این سی اے کی تحقیقات کے نتیجے میں کیا جائے گا، جو پاکستان کے نجی شعبے کی اہم ترین کاروباری شخصیت ہیں۔ اس ضمن میں جب وزیراعظم کے معاون خصوسی شہزاد اکبر سے رابطہ کیا گیا تو تصفیے کی شرط کے باعث تفصیلات فراہم کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار نظر آئے۔ نیشنل کرائم ایجنسی کے بیان میں کہا گیا کہ اگست 2019ء میں لگ بھگ 12 کروڑ پاؤنڈز فنڈز کے حوالے سے ویسٹ منسٹر مجسٹریٹ کی عدالت سے 8 اکاؤنٹس منجمد کرنے کے احکامات حاصل کیے گئے تھے۔ بیان کے مطابق اکاؤنٹس منجمد کرنے کے یہ احکامات دسمبر 2018ء میں 2 کروڑ پاؤنڈز کے حوالے سے اسی تحقیقات سے منسلک احکامات کے بعد حاصل کیے گئے تھے، جبکہ اکاؤنٹس منجمد کرنے کے تمام احکامات برطانوی بینک اکاؤنٹس میں موجود رقم سے متعلق تھے۔

یاد رہے کہ رواں سال مارچ میں پاکستانی سپریم کورٹ نے 460 ارب روپے کے عوض ملیر یا کراچی سپر ہائی وے سے متعلق کیسز میں ملک ریاض کی ملکیتی کمپنی بحریہ ٹاؤن پرائیوٹ لمیٹڈ کی جانب سے تصفیے کی پیشکش قبول کی تھی۔ جسٹس شیخ عظمت سعید نے 4 مئی 2018ء کے عدالتی حکم پر عملدرآمد کے حوالے سے مختصر سماعت کے بعد کہا تھا کہ پیشکش قبول کی جاتی ہے۔ عدالت کے حکم میں کہا گیا تھا کہ سندھ حکومت کی جانب سے ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایم ڈی اے) کو زمین کے لیے گرانٹ، زمین کی نجی ڈیولپر (بحریہ ٹاؤن) کی زمین سے تبدیلی اور سرکاری زمین کی نوآبادیات سے متعلق قانون 1912 کی دفعات کے تحت صوبائی حکومت کی طرف سے جو کچھ بھی کیا گیا وہ غیر قانونی تھا۔
خبر کا کوڈ : 831473
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش