0
Sunday 8 Dec 2019 19:56

حکومت خود پسندی کے مرض کا شکار ہے، اعجاز ہاشمی

حکومت خود پسندی کے مرض کا شکار ہے، اعجاز ہاشمی
اسلام ٹائمز۔ جمعیت علمائے پاکستان کے مرکزی صدر اور نائب صدر متحدہ مجلس عمل پیر اعجاز احمد ہاشمی نے الیکشن کمشن کے نئے ممبران اور چیف الیکشن کمشنر پر اتفاق رائے نہ ہونے کا ذمہ دار وزیراعظم عمران خان کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حکومت خود پسندی کے مرض کا شکار ہے جسے اپنے سوا کوئی بھی اچھا نظر نہیں آتا اور اپوزیشن جماعتوں کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پی ٹی آئی مقتدر قوتوں کے اکٹھے کئے گئے سیاستدانوں کا ٹولہ ہے، جن میں سے زیادہ تر آمریت کے حمایتی، جمہوریت اور جمہوری اقدار سے بھی ناواقف ہے۔ انہوں نے کہا کہ اناڑی حکومت کو اپوزیشن سے مذاکرات کرنے کا بھی ڈھنگ نہیں۔ ہر بات زبردستی منوانا چاہتی ہے، جو ممکن نہیں، جمہوریت میں مخالفین کی سخت بات سننے کا حوصلہ بھی ہونا چاہیے، جس سے موجودہ حکومت افسوسناک حد تک عاری ہے۔

لاہور میں صحافیوں سے گفتگو میں پیر اعجاز ہاشمی نے سبکدوش ہونیوالے چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ سردار رضا خان کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے غیر جانبداری اور دلیری سے آئین اور قانون کے مطابق الیکشن کمشن کی سربراہی کی اور بغیر کسی دباو کے آئینی ادارے کا وقار بلند رکھا۔ انہوں نے بلوچستان اور سندھ سے غیر آئینی طریقے سے نامزد حکومتی ارکان الیکشن کمشن کو مسترد کرتے ہوئے ان سے حلف لینے سے انکار کر دیا، جس پر حکومت نے انہیں ہٹانے کی کوشش بھی کی مگر منہ کی کھانی پڑی اور چیف الیکشن کمشنر اپنی مدت عہدہ پوری کرکے سبکدوش ہوئے، جوکہ خوش آئند بات ہے۔ پیر اعجاز ہاشمی نے کہا کہ جسٹس سردار رضا خان نے غیر جانبدارانہ طریقے سے الیکشن کمشن کو چلایا، خامیوں کو نہ صرف تسلیم کیا، بلکہ انہیں دور کرنے کی کوشش بھی کی اور ثابت کیا کہ الیکشن کمشن کو غیر جانبدار ہونا چاہیے۔

جے یو پی کے مرکزی صدر نے اس امید کا اظہار کیا کہ پارلیمانی کمیٹی 11 دسمبر کو چیف الیکشن کمشنر کے نام پر متفق ہو جائے گی تاکہ اس غیر جانبدار ادارے کی ساکھ کو خراب نہ کیا جا سکے۔
خبر کا کوڈ : 831527
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش