0
Sunday 8 Dec 2019 21:07

آئین کی حکمرانی کیلئے ہم نے جو قدم اُٹھایا تھا وہ اپنی منزل پر پہنچ رہا ہے، مولانا فضل الرحمٰن

آئین کی حکمرانی کیلئے ہم نے جو قدم اُٹھایا تھا وہ اپنی منزل پر پہنچ رہا ہے، مولانا فضل الرحمٰن
اسلام ٹائمز۔ جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت نے ایک سال میں سب سے زیادہ قرضے لئے اور پہلے بار ایشیائی ترقیاتی بینک سے ایمرجنسی قرضہ لیا جا رہا ہے۔ جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے پشاور میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئین کی حکمرانی کیلئے ہم نے جو قدم اٹھایا تھا، وہ اپنی منزل پر پہنچ رہا ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ پورے پاکستان کو بی آر ٹی بنا دیا گیا ہے، یہاں پورے پشاور کو کھنڈر بنا کر بھی جیت گئے، اس کو کہتے ہیں دھاندلی، اگر کسی اور شہر میں بی آر ٹی کھنڈر ہوتا تو عوام ووٹ ہی نہ دیتے۔ انہوں ںے کہا کہ یہ ملک اور قوم کا پیسہ ضائع کر رہے ہیں، بی آر ٹی منصوبے میں ایک کلومیٹر کی لاگت اڑھائی ارب روپے آئی ہے، اس حکومت نے ایک سال میں سب سے زیادہ قرضے لئے اور پہلی بار اسٹیٹ بینک ایک ارب روپے سے زائد کے خسارے میں جا رہا ہے۔ سربراہ جے یو آئی (ف) نے کہا کہ پہلی بار ایشیائی ترقیاتی بینک سے ایمرجنسی کرائسسز قرضہ لیا جا رہا ہے، تاہم ان بحرانی قرضوں کا نتیجہ کیا نکلے گا؟ ملک کی خارجہ پالیسی بھی بری طرح سے ناکام ہوچکی ہے، اب انہیں پاکستان پر حکومت کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

انہوں ںے کہا کہ تحریک انصاف کی اپنی حکومت احتساب کمیشن کے شکنجے میں آگئی، لیکن وفاق میں آکر انہوں نے پورا احتساب کمیشن ختم کر دیا، قوم تحقیقات کا کہتی ہے تو یہ عدالتوں کے پیچھے چھپنے کی کوشش کرتے ہیں، حکومت کے اپنے کمیشن کے مطابق گذشتہ 10 سال میں لئے گئے، قرضے صحیح اکاؤنٹس میں آئے ہیں۔ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ حکومت کہہ رہی ہے کہ پورے ملک میں درخت لگائیں گے، لیکن پہلے بتایا جائے ایک ارب درخت کہاں لگائے گئے ہیں؟ 80 کروڑ درختوں کا پیسہ کہاں گیا؟ اس کا حساب لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اپنی حکومت کے بارے میں کیا جواب دیں گے، جو اب ہو رہا ہے؟ اس دور میں مائیں اپنے بچوں کو بیچنے پر مجبور ہوگئی ہیں، نوکریوں کی نوید دے کر نوجوانوں کو بے روزگار کر دیا گیا ہے، تاہم اب ہم میدان میں ہیں اور اس تحریک کو مزید آگے بڑھانا ہے، ہم اس قلعے کو فتح کرنے کیلئے نکلے ہیں، پیچھے ہٹنے کیلئے نہیں۔
خبر کا کوڈ : 831540
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش