0
Tuesday 10 Dec 2019 08:36

آصف زرداری کو وہ سہولتیں ملنی چاہئیں جو ہر شہری کا حق ہے، بلاول بھٹو زرادری

آصف زرداری کو وہ سہولتیں ملنی چاہئیں جو ہر شہری کا حق ہے، بلاول بھٹو زرادری
اسلام ٹائمز۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ حکومت جو مرضی حربے استعمال کرلے، ہم  خاموش ہوں گے اور نہ ہی پیچھے ہٹیں گے۔ بلاول نے کہا کہ آج ہمارے وزیراعظم کرپٹ لوگوں کو ڈھونڈنے کی ایپ لانچ کر رہے تھے، نوازشریف کو سزا کے باوجود باہر بھیجنے کے بعد کس منہ سے کہہ رہے ہیں کہ نہیں چھوڑوں گا۔ بلاول بھٹو زرداری نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں زیر علاج والد آصف علی زرداری کی عیادت کی۔ والد سے ملاقات کے بعد پمز کے باہر میڈیا سے گفتگو میں بلاول کا کہنا تھا کہ امید ہے 11 دسمبر کو آصف زرداری اور فریال تالپور کی طبی بنیاد پر ضمانت کی درخواست پر انصاف ملے گا اور اپنی مرضی کے ڈاکٹر سے علاج کراسکیں گے، آصف زرداری کو وہ سہولتیں ملنی چاہئیں جو ہر شہری کا حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے آصف زرداری کے میڈیکل بورڈ کے لیے  دل کے ماہر ڈاکٹر ندیم قمر کا انتخاب کیا ہے، میڈیکل بورڈ نے ان کا معائنہ کیا ہے لیکن ابھی رپورٹ نہیں دی، وہ رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے گی، عدالت کے فیصلے کے مطابق ان کو کراچی کے اسپتال میں منتقل کیا جائے گا۔

بلاول بھٹو کا وزیر اعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہنا تھا کہ  آج ہمارے وزیراعظم کرپٹ لوگوں کو ڈھونڈنے کی ایپ لانچ کر رہے تھے، میں حیران ہوا کہ یہ ایپ ان کی کابینہ میں کرپشن نہیں دیکھ سکی، آپ کے نااہل ڈپٹی وزیراعظم کی انویسٹی گیشن کا کیا ہوگا؟ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو سزا کے بعد باہر بھیج دیا پھر کس منہ سے کہتے ہوکہ نہیں چھوڑوں گا؟ عوام آپ کو جان چکی ہے آپ ویسی ہی سلیکٹڈ ہیں جیسے ماضی کے سلیکٹڈ آتے رہتے تھے۔ پی پی چیئرمین کا کہنا ہے کہ مخالفین کو دباؤ میں رکھنے کے لیے حکومت حربے استعمال کررہی ہے لہٰذا حکومت جو مرضی حربے استعمال کر لے، ہماری جدوجہد جاری رہے گی، نہ ہم خاموش ہوں گے اور نہ ہی ہم پیچھے ہٹیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں بلاول کا کہناتھا کہ نواز شریف اور آصف زرداری کا کیس الگ ہے، نواز شریف سزا کاٹ رہے تھے لیکن آصف زرداری کو سزا نہیں ہوئی۔ مسلم لیگ (ن)  کے حکومت سے آئینی معاملات پر بات نہ کرنے کے اعلان پر پی پی چیئرمین کا کہنا ہے کہ ن لیگ نے الیکشن کمیشن اور قانون سازی پر حکومت سے تعاون نہ کرنے کے فیصلے پر اعتماد میں نہیں لیا، حکومت کی پوری کوشش ہے کہ الیکشن کمیشن اور دیگر معاملات پر پارلیمنٹ میں اتفاق نہ ہو لیکن اپوزیشن کوشاں ہے کہ پارلیمنٹ میں ہی تمام معاملات حل ہوں۔
خبر کا کوڈ : 831806
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش