0
Friday 17 Jan 2020 22:48

سندھ کے بعد گلگت بلتستان میں آئی جی کی تبدیلی کا تنازعہ، حفیظ الرحمن کا وفاق سے شدید احتجاج

سندھ کے بعد گلگت بلتستان میں آئی جی کی تبدیلی کا تنازعہ، حفیظ الرحمن کا وفاق سے شدید احتجاج
اسلام ٹائمز۔ سندھ کے بعد گلگت بلتستان میں بھی آئی جی کی تبدیلی کا تنازعہ پیدا ہو گیا۔ وزیراعلیٰ حافظ حفیظ الرحمن نے جی بی کے آئی جی کی تبدیلی کو مسترد کرتے ہوئے کہا شدید احتجاج کیا اور کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے آئی جی پی کی تبدیلی کے حوالے سے وفاقی حکومت نے صوبائی حکومت سے کوئی مشاورت نہیں کی اور میرے علم میں لائے بغیر آئی جی پی کو تبدیل کر کے نیا آئی جی پی تعینات کیا گیا ہے، میں نے وفاق سے شدید احتجاج کر کے انہیں بتایا ہے کہ اگر جی بی میں امن و امان کی صورتحال خراب ہوئی تو اس کی ذمہ دار وفاقی حکومت ہوگی۔ جمعہ کے روز گلگت میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حفیظ الرحمن کا کہنا تھا کہ ہم تسلیم کرتے ہیں کہ چیف سیکرٹری اور آئی جی پی وفاق نے ہی تعینات کرنا ہے لیکن میرے دور اقتدار میں اب تک جتنے آئی جی پی اور چیف سیکرٹری تعینات ہوئے ہیں ان سب کے بارے میں وزیر اعظم سیکرٹریٹ نے باقاعدہ مشاورت کی ہے، یہ پہلی دفعہ ہوا ہے کہ آئی جی پی کی تعیناتی کے وقت مجھ سے کوئی مشورہ نہیں لیا گیا،

انہوں نے کہا کہ اس پر میں نے وزیر اعظم سیکرٹریٹ فون کر کے ارباب شہزاد سے شدید احتجاج کیا اور کہا کہ جس صوبے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے اس صوبے میں آپ نے ضرور مسائل پیدا کرنا ہے۔ یہ بزدار کی حکومت نہیں ہے کہ آپ ہر ہفتے ایک نیا آئی جی تعینات کریں، آئی جی پی کا صوبے میں امن و امان کے حوالے سے اہم کردار ہوتا ہے اور ہمیں علم ہی نہیں ہے کہ نئے آئی جی پی کون ہے، اس کا شجرہ نسب کیا ہے؟ کل وہ یہاں آکے چیزوں کو سمجھ نہیں پاتا یا ہماری ٹیم سے ہم آہنگی نہیں ہوتی ہے اور امان وامان کی صورتحال خراب ہوئی تو اس کی ذمہ دار وفاقی حکومت ہوگی اور ارباب شہزد نے اعتراف کیا کہ اس حوالے سے ہم سے غلطی ہوئی ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ جب تک وفاقی حکومت اس حوالے سے ہم سے باقاعدہ مشاورت نہیں کرتی تب تک ہم اس آئی جی کو قبول نہیں کریں گے۔ گلگت بلتستان میں ایک منتخب حکومت ہے یہ کالونیل نظام ہمیں قبول نہیں ہے۔
خبر کا کوڈ : 839068
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش