0
Saturday 18 Jan 2020 02:00
تہران میں نماز جمعہ کے عظیم اجتماع سے خطاب

امریکی دہشتگردوں کی اصلی سزا انہیں خطے سے نکال باہر کرنا ہے، آیت اللہ سید علی خامنہ ای

خطے کا روشن مستقبل امریکی و صیہونی قبضے سے نجات ہے جو عنقریب حاصل ہو جائیگا
امریکی دہشتگردوں کی اصلی سزا انہیں خطے سے نکال باہر کرنا ہے، آیت اللہ سید علی خامنہ ای
اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے ایرانی دارالحکومت تہران میں جمعے کی نماز کے پرشکوہ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے شہید جنرل قاسم سلیمانی، ابومھدی المھندس اور انکے ساتھی شہداء کے تشیعِ جنازہ کے دن جس میں لوگوں نے معجزہ آسا انداز میں شرکت کی اور سپاہ پاسداران ایران کیطرف سے امریکی فوجی اڈے پر جوابی کارروائی کے دن کو دو "ایام اللہ" قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی قوم نے میدان میں اپنی اس حاضری کے ذریعے اپنے روشن ضمیر یعنی شیاطین کے مقابلے میں مزاحمت اختیار کرنے کا بھرپور مظاہرہ کیا ہے جبکہ اس عزت آفرین رَستے کے جاری رکھے جانے کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ خود کو طاقتور بنانا ہے۔

آیت اللہ خامنہ ای نے اپنے خطبے کا آغاز اللہ تعالی کیطرف سے حضرت موسی علیہ السلام کو "ایام اللہ" کی یاددہانی پر مبنی سورۂ ابراہیمؑ کی آیات سے کیا اور کہا کہ صابر لوگ وہ ہیں جو صبرواستقامت کے پیکر ہیں اور کسی طور بھی میدان سے خارج نہیں ہوتے جبکہ شاکر وہ ہیں جو اللہ تعالی کی کھلی اور پوشیدہ نعمتوں کی قدر کرتے اور ان کے جواب میں اپنی ذمہ داری کا پورا احساس کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "ایام اللہ" یعنی جس واقعے میں الہی قدرت کی جھلک ہو، لہذا سپاہِ پاسداران کے کمانڈر کا خون طلب کرنیکی خاطر ایران میں ملین ھا جبکہ عراق اور دوسرے ممالک میں لاکھوں لوگوں کا سڑکوں پر آ جانا اور شہداء کے اجساد کو دنیا کے سب سے بڑے اور بیمثال وداعی اجتماع میں رخصت کرنا ایام اللہ کی مثالوں میں سے ہے کیونکہ اس عظمت کیلئے الہی قدرت کے سوا کوئی اور محرک موجود نہیں تھا۔ انہوں نے امریکی فوجی اڈے پر سپاہ پاسداران کیطرف سے میزائلوں کی بارش کو بھی ایام اللہ کی ایک مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی قوم کا ایسی جرأت اور روحانی طاقت کیساتھ ایک عالمی متکبر اور بدمعاش قوت کے منہ پر زوردار طمانچہ رسید کرنا الہی دستِ قدرت کو ظاہر کرتا ہے لہذا وہ دن بھی ایام اللہ میں سے ایک ہے۔

ایران کے سپریم لیڈر اور مسلح افواج کے چیف کمانڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے نمازِ جمعہ کے اپنے خطبے میں کہا کہ ان مجاہدین کے تشیع جنازہ کے علاوہ خود انکی شہادت بھی الہی آیات میں سے ایک ہے کیونکہ شہید قاسم سلیمانی کی شہادت  پورے خطے میں دہشتگردی کیخلاف جنگ کے مشہور اور طاقتور ترین کمانڈر کی شہادت ہے جو کہ اس بےآبرو امریکی حکومت کی مزید رسوائی کا سبب بنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی اس بہادر مجاہد کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنانے کیلئے اسکے سامنے میدان میں نہیں آئے بلکہ انہوں نے چوری چھپے اور بزدلانہ طریقے سے یہ جرم انجام دیا ہے جو انکی کہیں زیادہ رُسوائی کا سبب بنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے قبل عراق اور افغانستان میں بھی امریکیوں نے بیشمار جرائم انجام دیئے ہیں اور بےانتہاء قتل و غارت کی ہے لیکن اس دفعہ خود امریکی صدر نے اپنی زبان سے کہہ دیا کہ "ہم دہشتگرد ہیں" جس سے بڑھ کر کوئی اور بدنامی ممکن نہیں۔

آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے امریکی اور برطانوی حکام کیطرف سے ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور اس کے نتیجے میں چند روز قبل ہونے والے ہنگاموں کیطرف اشارہ کیا جس میں برطانوی سفیر کے ہمراہ چند لوگوں نے تہران کی ایک یونیورسٹی کے سامنے شہید قاسم سلیمانی کی تصاویر نذر آتش کی تھیں، اور کہا کہ کیا وہ چند لوگ جنہوں نے ہمارے اس باافتخار اور عظیم سپہ سالار کی تصاویر کی بےحرمتی کی تھی، ایران کی عوام ہیں اور یہ عظیم جمعیت ایران کے عوام نہیں جو شہید قاسم سلیمانی کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے سڑکوں پر نکلے ہوئے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ امریکی کبھی ایرانی قوم کیساتھ کھڑے نہیں ہوئے مگر صرف اور صرف ایرانیوں کے سینے میں زہرآلود خنجر گھونپنے کیلئے تاہم تاحال وہ اس کام میں کامیاب نہیں ہو پائے اور نہ ہی وہ اس کے بعد کوئی اور غلطی کر پائیں گے! انہوں نے کہا کہ انتقام کی فریاد ایران کے گوش و کنار سے اٹھی تھی اور دراصل وہی اُن میزائلوں کا ایندھن تھی جنہوں نے امریکی فوجی اڈے کو تہس نہس کر دیا۔ انہوں نے یورپی حکمرانوں کے بے اعتماد ہونے اور انکے ساتھ مذاکرات کے بےفائدہ ہونے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ جنٹلمین جو مذاکرات کی میز پر بیٹھتے ہیں، دراصل بغداد کی ایئرپورٹ کے دہشتگرد ہیں جنہوں نے اپنا حلیہ بدل رکھا ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے سپاہِ پاسداران کیطرف سے امریکیوں کو ابتدائی جواب کے دیئے جانے کو ظالم اور متکبر امریکی حکومت کے رُعب و دَبدبے کو مٹی میں ملا دینے کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا کہ دراصل اُنکی اصلی سزا خطے سے اُنہیں نکال باہر کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دشمن نے اندھے پیسے، غیرذمہ دار لوگوں اور شیطانی پراپیگنڈے کے ذریعے ایران اور عراق کی عظیم قوموں کو ایکدوسرے سے بدگمان کرنے کی پوری کوشش کی تھی لیکن اس عظیم شہادت نے انکی تمامتر شیطانی سازشوں اور وسوسوں کو ناکام بنا دیا۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی ان شیطانی قوتوں کو عوامی تحریکوں کے وجہ سے مجبور ہو کر کسی ملک سے نکلنا پڑا تو انہوں نے اپنی پوری طاقت اس ملک کیخلاف سازشوں، جاسوسی اور سیاسی و اقتصادی قبضے میں صَرف کر دی جبکہ یہی وہ قوتیں ہیں جنہوں نے مغربی ایشیائی ممالک کے درمیان اس خطے کے قلب میں ایک ایسا صیہونی ناسور بھی بنایا ہے جو تمامتر ممالک کیلئے ایک مستقل خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ دشمن کا میڈیا ایران پر پراکسی وار کا الزام عائد کرتا ہے درحالیکہ یہ ایک سفید جھوٹ ہے اور خطے کی قومیں اب بیدار ہو چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خطے کا روشن مستقبل، امریکی قبضے سے اسکی آزادی اور صیہونی حکمرانی سے فلسطین کی آزادی میں مضمر ہے جو انہی قوموں کی ہمت سے عنقریب حاصل ہو جائیگا۔

آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے عالم اسلام سے تفرقہ اور اختلاف کے اسباب کو ختم کرنے پر زور دیتے ہوئے "جدید اسلامی طرز زندگی میں مسائل کے حل کیلئے علمائے دین کے اتحاد"، "علم و ٹیکنالوجی کی پیشرفت اور جدید اسلامی تمدن کی بنیادیں ڈالنے کیلئے اسلامی یونیورسٹیز کے باہمی تعاون"، "عوامی تمدن کی اصلاح کیلئے اسلامی میڈیا کی باہمی ہم آہنگی"، "خطے سے جنگ اور جارحیت کو دور کرنے کیلئے خطے کی اسلامی مسلح افواج کے درمیان نزدیکی رابطے"، "خطے کے اسلامی ممالک کی معیشت کو غارتگر اور لٹیری کمپنیوں کے قبضے سے باہر نکالنے کیلئے اسلامی منڈیوں کے آپسی رابطے" اور "خطے کی مسلمان عوام کی آپسی آمد و رفت، ایکدوسرے کی زبان سمجھنے، ہمدردی، اتحاد اور دوستی میں اضافے" کو مسلمانوں کے درمیان سے تفرقہ ختم کرنے اور انکے درمیان اتحاد و اتفاق کو رائج کرنے کے اسباب قرار دیا اور انکے حصول پر زور دیا۔

رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے حشد الشعبی کے ڈپٹی کمانڈر ابومھدی المھندس اور سپاہ پاسداران کے عظیم سپہ سالار جنرل قاسم سلیمانی کی علی الاعلان ٹارگٹ کلنگ کو عراقی سرزمین پر امریکہ کا عظیم ترین فتنہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ عراق کے اندر اپنے پلید مقاصد کے حصول کیلئے وہاں فتنہ، خانہ جنگی اور بالآخر عراق کو تقسیم کر کے وہاں موجود مومن، جانثار، مجاہد اور وطن دوست افواج کو ختم کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے امریکی انخلاء کے بارے میں عراقی پارلیمنٹ کے حکم کے سامنے امریکیوں کے گستاخانہ اظہارات کو امریکی فتنہ انگیزیوں کی ایک اور مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ جو خود کو جمہوریت کا حامی ظاہر کرتے تھے، آج اپنی تمامتر مکاریوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے کھلم کھلا کہتے ہیں کہ وہ عراق سے نکلنے کو تیار نہیں۔ انہوں نے تمامتر مسلمان اقوام کو مخاطب کر کے زور دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی دنیا کو اب تاریخ کا نیا صفحہ پلٹنا ہے اور تمامتر اقوام کے اندر زندہ ضمیر، مومن قلب اور خوداعتمادی کو جگانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سب کو یہ جان لینا چاہئے کہ اقوام کی نجات کا واحد راستہ تدبیر، مزاحمت اور دشمن سے نہ ڈرنا ہے۔
خبر کا کوڈ : 839113
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش