0
Saturday 18 Jan 2020 09:23

واٹس ایپ کی ایک مسڈ کال سارا ڈیٹا اور تصاویر ہیک کر سکتی ہے، چشم کشا انکشاف

واٹس ایپ کی ایک مسڈ کال سارا ڈیٹا اور تصاویر ہیک کر سکتی ہے، چشم کشا انکشاف
اسلام ٹائمز۔ واٹس ایپ کی ایک مسڈ کال سارا ڈیٹا اور تصاویر ہیک کر سکتی ہے۔ اسرائیلی کمپنی نے واٹس ایپ ہیکنگ سسٹم متعارف کرا دیا۔ حیرت انگیز انکشاف نے سائبر کرائم کی دنیا میں تہلکہ مچا دیا۔ ذرائع کے مطابق یوں تو سائبر ورلڈ پر روز بروز حملوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے لیکن ایک ایسا حملہ جس نے پاکستان سمیت دنیا بھرمیں تہلکہ مچا دیا ہے۔ دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے اور محفوظ سمجھی جانیوالی سوشل میڈیا ایپ ’’واٹس ایپ‘‘ بھی غیرمحفوظ ثابت ہوئی۔ سوشل میڈیا ایکسپرٹ اور سابق ڈائریکٹر ایف ائی اے ڈاکٹرعثمان نے انکشاف کیا کہ واٹس ایپ کی ایک مس کال آپ کا سارا ڈیٹا اور تصاویر ہیک کر سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسرائیلی کمپنی کی جانب سے اس ہیک کی مدد سے پاکستان کی کچھ اہم شخصیات کا بھی ڈیٹا چوری کیا گیا۔
 
سائبر سکیورٹی ایکسپرٹ کا یہ بھی کہنا تھا کہ گروپس چیٹ کے شوقین بھی ہیکرز کے جال میں پھنس جاتے ہیں۔ اکتوبر2019 میں آنیوالے نئے ہیک سافٹ ویئر کی مدد سے کرپٹ گف فائل سے بھی موبائل فون ہیک کیا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹرعثمان نے بتایا کہ گف فائل بھی بچوں کا کھیل نہیں، ڈیٹا لے جا سکتی ہے۔ دوسری جانب مختلف غیر متعلقہ لنکس پر کلک کرنے سے بھی موبائل فون ہیک ہو سکتا ہے۔ پاکستان میں پانچ کروڑ سے زائد موبائل یوزر ہیں اور پاکستان میں سستے انٹرنیٹ کنکشنز سے ہر تیسرا شہری سوشل میڈیا کا کسی نہ کسی طرح استعمال کر رہا ہے، جس کو محفوظ بنانے کیلئے اگر تھوڑی سی احتیاط برتی جائے تو ان تمام حملوں سے تقریباً بچا جا سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق اسرائیلی ہیکرز نے مخصوص صارفین کے واٹس ایپ ہیک کرنے کیلئے ان کی ڈیوائسز پر نگرانی کا سافٹ وئیر انسٹال کیا اور اس کیلئے واٹس ایپ وائس کالنگ فیچر کو استعمال کیا گیا۔ ہیکرز کسی بھی صارف کو کال کرتے تو اس کا اکاؤنٹ ہیک ہو جاتا۔ اہم بات یہ ہے کہ کال کے جواب نہ دینے کی صورت میں بھی سافٹ وئیر ڈیوائسز پر انسٹال ہو سکتا تھا اور ہیکرز کی جانب سے آنیوالی وائس کال واٹس ایپ کی کال ہسٹری سے بھی غائب ہو جاتی تھی۔ ذرائع کے مطابق یہ ہیکنگ اسرائیلی کمپنی این ایس او نے کی۔ ہیکنگ میں ملوث کمپنی این ایس او کا سافٹ وئیر ’’پیگاسز‘‘ کسی بھی ڈیوائس سے ڈیٹا لے سکتا ہے، جس میں مائیکرو فون، کیمرہ کا استعمال اور لوکیشن بھی شامل ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ سافٹ وئیر صرف حکومتی ادارے جرائم اور دہشتگردی کیخلاف استعمال کرتے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 839127
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش