0
Tuesday 21 Jan 2020 11:29

متاثرین کو رقم کی دہلیز پر واپسی اور قانون پر عملدرآمد کی پالیسی جاری رکھی جائے گی، جسٹس (ر) جاوید اقبال

متاثرین کو رقم کی دہلیز پر واپسی اور قانون پر عملدرآمد کی پالیسی جاری رکھی جائے گی، جسٹس (ر) جاوید اقبال
اسلام ٹائمز۔ چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب اقوام متحدہ کے انسداد بدعنوانی کنونشن (یو این سی اے سی) کے تحت بدعنوانی کی روک تھام کے لئے فوکل ادارہ ہے، نیب بدعنوانی کی روک تھام کے لئے اسکے منفی اثرات سے آگاہی سمیت تمام اقدامات پر 2020ء میں بھی عملدرآمد جاری رکھے گا، نیب کرپشن فری پاکستان پر یقین رکھتا ہے، متاثرین کو رقم کی دہلیز پر واپسی کیلئے آگاہی، تدارک اور قانون پر عملدرآمد کی پالیسی جاری رکھی جائے گی، نیب 2020ء میں 335 تحقیقات پر کارروائی کر یگا۔ اپنے بیان میں جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا نیب نے 2019ء میں بدعنوان عناصر سے بلواسطہ اور بلا واسطہ طو ر پر 150 ارب روپے برآمد کرکے قومی خزانے میں جمع کرائے ہیں اور بدعنوان عناصر کے بلا امتیاز احتساب کیلئے بھرپور محنت کر رہا ہے۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چئیرمین نیب کا کہنا تھا کہ نیب کو 2018ء کے مقابلے میں 2019ء میں مجموعی طور پر 463845 شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 450546 شکایات کو قانون کے مطابق نمٹا دیا گیا، جبکہ اس وقت 13299 شکایات پر کارروائی کی ہے، جن پر 2020ء میں قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ چیئرمین نیب نے کہا انسداد بدعنوانی کا یہ ادارہ نہ صرف اندرون ملک بلکہ سارک ممالک کے لئے بھی رول ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے بھارت سمیت سارک ممالک میں ان وجوہات کی بنا پر نیب کی کارکردگی کی تعریف کی گئی ہے، پاکستان اور چین نے بدعنوانی کے خاتمے کے لئے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے ہیں اور دونوں ملک سی پیک منصوبوں میں شفافیت یقینی بنانے کیلئے مل کرکام کر رہے ہیں۔ انہوں نے نیب کے تمام ڈائریکٹر جنرلز کو ہدایت کی کہ وہ قوانین، میرٹ اور ٹھوس شواہد کی بنیاد پر شکایات کی جانچ پڑتال، انکوائریوں اور انویسٹی گیشنز کو منطقی انجام تک پہنچائیں۔
خبر کا کوڈ : 839733
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش