0
Saturday 25 Jan 2020 01:13

مسلم لیگ (ن) کی ڈیل فائنل ہونے کو ہے، انگریزی اخبار کا تہلکہ خیز دعویٰ

مسلم لیگ (ن) کی ڈیل فائنل ہونے کو ہے، انگریزی اخبار کا تہلکہ خیز دعویٰ
اسلام ٹائمز۔ نجی انگریزی اخبار ایکسپریس ٹریبیون نے آرٹیکل شائع کیا ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ نون لیگ ڈیل فائنل کرنے کے کافی قریب پہنچ چکی ہے، حکومت میں موجود پی ٹی آئی کو چھوڑ کر ایک قومی حکومت تشکیل دی جائے گی، جو کہ معیشت کو استحکام بخشنے اور انتخابی اصلاحات کرنے کے بعد تحلیل ہو جائے گی، تاکہ نئے انتخابات کی جانب بڑھا جا سکے۔ تفصیلات کے مطابق نجی اخبار نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر نون لیگ کے رہنماء نے بتایا کہ مریم نواز شریف کی مین سٹریم سیاست میں واپسی کے علاوہ باقی تمام مسائل پر نون لیگ اور اسٹبلشمنٹ ایک ڈیل کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پارٹی اسٹبلشمنٹ کے ساتھ ڈیل فائنل کرنے کے کافی قریب پہنچ چکی ہے، ایک مرتبہ سب کچھ طے ہو جائے، پھر نون لیگ کے صدر شہباز شریف ان ہاﺅس تبدیلی کے عمل کو شروع کرنے کیلئے ممکنہ طور پر پاکستان واپس آئیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت میں موجود پی ٹی آئی کو چھوڑ کر ایک قومی حکومت تشکیل دی جائے گی، جو کہ معیشت کو استحکام بخشنے اور انتخابی اصلاحات کرنے کے بعد تحلیل ہو جائے گی، تاکہ نئے انتخابات کی جانب بڑھا جاسکے، شہباز شریف اپنے بھائی نواز شریف کے ہمراہ نومبر میں لندن گئے تھے اور اس وقت سے وہیں موجود ہیں۔

رپورٹ کے مطابق نون لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ صرف ایک چیز ہے، جس کا ابھی فیصلہ ہونا باقی ہے اور وہ مریم نواز کی مین سٹریم سیاست میں واپسی سے متعلق ہے۔ اسٹبلشمنٹ فی الحال نہیں چاہتی کہ باپ اور بیٹی دونوں سیاست میں واپس آئیں، جیسا کہ ماضی کے سالوں میں دونوں نے اسٹبلشمنٹ کے بارے میں سخت رویہ اختیار کیا تھا، بہرحال شریف فیملی یہ چاہتی ہے کہ مریم نواز سیاست میں واپس آئے۔ پارٹی نواز شریف اور مریم نواز کی واپسی کو فلیش پوائنٹ نہیں بننے دے گی، اگر اس پر اتفاق نہیں ہوتا تو پھر مریم کو پارٹی کے مستقبل کے مفاد میں لمحہ بھر کیلئے کڑوا گھونٹ پینے کیلئے کہا جا سکتا ہے۔ اخبار کی رپورٹ میں کہا گیا کہ مریم نواز شریف نومبر 2019ء میں ضمانت ملنے کے بعد سے مسلسل خاموش ہیں اور ان کی خاموشی کو ڈیل کا حصہ سمجھا جا رہا ہے، تاکہ مزید رعایت حاصل کی جا سکے۔ نون لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ نون بقیہ مدت کیلئے حکومت بنانے کا انتخاب نہیں کرے گی، جیسا کہ ایک ہنگ پارلیمنٹ ان ہاﺅس تبدیلی کے دہانے پر کھڑی رہتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اگر چیزیں منصوبے کے مطابق ہوتی ہیں تو پھر ہم مولانا فضل الرحمان سے راستے باقاعدہ الگ کر لیں گے، جیسا کہ وہ محاذ آرائی کا راستہ اختیار کرنا چاہتے ہیں، لیکن اگر معاملات پلان کے مطابق نہیں چلتے تو پھر پارٹی فضل الرحمان کی تحریک کو سپورٹ کرنے کے بارے میں غور کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں بتایا گیا ہے کہ کنگ میکرز وزیراعظم عمران خان کے ساتھ تجربات کرکے اب تھک چکے ہیں، آنے والے مارچ کا مہینہ حکومت کو اس کے اختتام کے قریب لے جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے رہنماﺅں کے خلاف بننے والے کیسز اور مرکز اور پنجاب میں پڑنے والی دراڑوں کو سامنے رکھتے ہوئے حکومت کے مستقبل کی پیش گوئی کرنا مشکل نہیں ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آئندہ انتخابات میں نون لیگ کی ٹکٹ ملنے پر پی ٹی آئی کے بہت سے رہنما اور آزاد اراکین اسمبلی پنجاب اور مرکز میں اپنی سپورٹ کی یقین دہانی کروا رہے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 840398
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش