0
Wednesday 29 Jan 2020 21:42

صدی کی ڈیل، مسلمانوں کو اب بیدار ہو جانا چاہیئے, امریکہ نہ کبھی صادق تھا اور نہ ہی ہوسکتا ہے، جواد ظریف

صدی کی ڈیل، مسلمانوں کو اب بیدار ہو جانا چاہیئے, امریکہ نہ کبھی صادق تھا اور نہ ہی ہوسکتا ہے، جواد ظریف
اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے اپنے ایک پیغام میں اسرائیلی امریکی سازش "صدی کی ڈیل" کے بارے میں کہا ہے کہ کیا (نیلسن) منڈیلا یہ تصور کرسکتے تھے کہ جنوبی افریقہ کی آزادی کے ایک عرصے کے بعد "بینٹیسٹین" (جنوبی افریقہ کا وہ حصہ جو سیاہ فام شہریوں کیلئے مخصوص کر دیا گیا تھا) کو دوبارہ سے زندہ کر دیا جائے گا؟ انہوں نے لکھا کہ امریکی و اسرائیلی "صلح کا منصوبہ" ایک جہنمی ہائی وے کے مانند ہے، لہذا ہم مسلمانوں کو اب بیدار ہو جانا چاہیئے، کیونکہ امریکہ نہ کبھی صادق تھا اور نہ ہی کبھی ہوسکتا ہے۔ انہوں نے اپنے پیغام کے آخر میں "فلسطین کیلئے اتحاد" کے نام سے ہیش ٹیگ بھی استعمال کیا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے پیغام میں لکھا کہ ڈیموکریسی کے خود ساختہ حامیوں کو چاہیئے کہ وہ بدنام زمانہ اور ناکام "صدی کی ڈیل" کا منصوبہ پیش کرنے کے بجائے ایران کیطرف سے پیش کردہ جمہوری راہ حل کو، جو رہبر انقلاب آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے پیش کیا ہے، قبول کر لیں۔ انہوں نے لکھا کہ فلسطین کے اندر وہاں کے تمام مسلمان، یہودی و عیسائی باشندوں پر مشتمل ایک ریفرنڈم کروایا جانا چاہیئے، تاکہ وہ اپنے مستقبل کے بارے میں خود فیصلہ کرسکیں۔

دیگر ذرائع کے مطابق اسرائیل اور فلسطین سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نئے منصوبے کو ایران نے ایک ڈراؤنا خواب قرار دے دیا۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے فلسطین اور اسرائیل سے متعلق امریکی منصوبے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ خطے اور دنیا کے لیے ایک ڈراؤنا خواب ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ منصوبے سے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تنازعہ بڑھے گا، امریکی منصوبہ نام نہاد اور خیال پر مبنی ہے، جس کے منفی اثرات ہی مرتب ہوں گے، یہی وقت ہے دنیا کے مسلمان جاگ جائیں۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ کے لیے امن منصوبے کا اعلان کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ مقبوضہ یروشلم اسرائیل کا غیر منقسم دارالحکومت جبکہ مشرقی علاقہ فلسطین کا دارالحکومت رہے گا۔ ردعمل میں اس منصوبے کو فلسطینی اتھارٹی نے مسترد کرتے ہوئے ناقابل برداشت قرار دیا۔ خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ بیت المقدس اسرائیل کا غیر منقسم دارالحکومت رہے گا جبکہ فلسطینیوں کو مقبوضہ مشرقی یروشلم میں دارالحکومت بھی فراہم کیا جائے گا۔ اس منصوبے کے اعلان کے بعد دنیا بھر میں مسلمانوں نے مخالفت کی، جبکہ فلسطینی اتھارٹی نے بھی مذکورہ منصوبہ مسترد کرتے ہوئے ناقابل قبول قرار دیا ہے۔
خبر کا کوڈ : 841446
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش