1
0
Friday 7 Feb 2020 15:44

سرعام پھانسی جیسی سزائیں قبائلی معاشروں میں ہوتی ہیں جہاں انسان اور جانور برابر ہیں، فواد چوہدری

سرعام پھانسی جیسی سزائیں قبائلی معاشروں میں ہوتی ہیں جہاں انسان اور جانور برابر ہیں، فواد چوہدری
اسلام ٹائمز۔ وفاقی وزیر فواد چودھری نے سرعام پھانسی کی قرارداد کی مخالفت کر دی۔ انہوں نے قرار داد منظوری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جرم کا جواب بربریت سے نہیں دینا چاہیے۔ وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ مہذب معاشروں کا ردعمل متوازن ہوتا ہے، یہ بھی شدت پسندی کی ایک علامت ہے، اس طرح کی سزائیں قبائلی معاشروں میں ہوتی ہیں جہاں انسان اور جانور برابر ہیں، مہذب معاشرے مجرموں کو سزا سے پہلے جرم روکنے کی تدبیر کرتے ہیں۔ فواد چودھری کا کہنا تھا اس طرح کی سزاؤں سے معاشرے بے حس ہو جاتے ہیں اور سزا اپنا اثر کھو دیتی ہے، ایسی سزاؤں سے جرم نہیں رکتے لیکن معاشروں میں شدت پسندی بڑھتی ہے۔ خیال رہے قومی اسمبلی میں بچوں سے زیادتی کے مجرموں کو سب کے سامنے پھانسی دینے کی قرار داد منظور کی گئی، پیپلزپارٹی نے قرار داد کی مخالفت کی۔ پیپلزپارٹی کے رہنما راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ سزائیں بڑھانے سے جرائم کم نہیں ہوتے، اقوامِ متحدہ کے قوانین کے مطابق سرعام پھانسی نہیں دی جاسکتی، پاکستان اقوام متحدہ کا سگنیٹری ہے، ایک اور کیس میں بھی سرعام پھانسی کا فیصلہ آیا تھا اس کا کیا ہوا۔
 
خبر کا کوڈ : 843190
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

سیدہ زہرا
Pakistan
اس نے خود جو مبشر لقمان کے منہ پر تھپڑ رسید کیا تھا کیا وہ ایک متوازن ردعمل تھا، حالانکہ مبشر کی بات جھوٹ نہیں تھی، کیا کوئی اس کے بچوں سے زیادتی کرکے ان کے ٹکڑے کرکے دفن کر دے، تب بھی یہ یہی بات کہے گا، تب بھی متوازن اور مہذب رہے گا، آئے دن اس کا کسی نہ کسی سے جھگڑا ہوتا ہے، آج تک اس کے منہ سے ڈیسنٹ بیان نہیں سنا۔ یہ کونسے منہ سے تہذیب کی بات کر رہا ہے؟؟؟؟ اسمبلی میں بیٹھ کے بیان بازی آسان ہے، جن کے جگر کے ٹکڑوں کیساتھ یہ حادثات ہوئے ہیں، ان سے کوئی جا کر پوچھے۔ وہ یقیناً کہیں گے کہ ان درندوں کو ایک بار نہیں بلکہ سو سو بار سرعام پھانسی دو، تاکہ دوسروں کو عبرت ہو۔
منتخب
ہماری پیشکش