1
Saturday 15 Feb 2020 06:59

ڈونلڈ ٹرمپ کیطرف سے ایران کیخلاف غلط سیاست اپنانے پر انہیں تنبیہ کیجانی چاہئے، جواد ظریف

بحران سے نکلنے کا واحد راستہ ڈونلڈ ٹرمپ کیطرف سے غلطی کا اعتراف اور اصلاح احوال ہے
ڈونلڈ ٹرمپ کیطرف سے ایران کیخلاف غلط سیاست اپنانے پر انہیں تنبیہ کیجانی چاہئے، جواد ظریف
اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے جرمنی کے شہر میونخ میں عالمی سیکیورٹی کانفرنس میں شرکت کے دوران امریکی نیوز چینل این بی سی نیوز (NBC News) کو دیئے گئے اپنے انٹرویو میں امریکی صدر کیطرف سے امریکہ اور ایران کو جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کئے جانے کیطرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ عراقی سرزمین پر ایرانی سپاہ قدس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کو انکے رفقاء کے ہمراہ شہید کئے جانے کی امریکی دہشتگردانہ کارروائی سے تاحال امریکہ اور ایران کے درمیان تناؤ کی فضا موجود ہے جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ترمپ کیطرف سے ایران کیخلاف غلط سیاست اختیار کر کے عالمی امن کو خطرہ لاحق کئے جانے پر انہیں تنبیہ کی جانی چاہئے۔

ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے امریکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ یہ بات انتہائی افسوسناک ہے کہ امریکہ نے غلط اطلاعات، اپنی جہالت اور غرور کی بناء پر غلط رستہ اختیار کر کے پورے خطے کو جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کر دیا ہے۔ محمد جواد ظریف نے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپیو نے جاری سال کے ماہ جنوری میں جنرل قاسم سلیمانی کی ٹارگٹ کلنگ کے نتیجے میں پیدا ہونیوالے شدید بحرانی حالات کے دوران "سفارتی آداب سے عاری انتہائی نامناسب خط" ایران کیطرف ارسال کیا جس میں تہران کو دھمکایا گیا تھا لہذا تہران نے بھی اسکے جواب میں ایک سخت خط واشنگٹن کو بھیجا۔ انہوں نے امریکی وزیرخارجہ کیطرف سے ایران کو لکھے گئے خط کے متن کیطرف اشارہ نہیں کیا اور کہا کہ خود مائیک پمپیو کیطرف سے اس خط کے بارے میں میڈیا کو آگاہ کیا جانا چاہئے کیونکہ میں اس نامناسب خط کو دوبارہ دہرانا نہیں چاہتا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے امریکی پارلیمنٹ کیطرف سے جنگ شروع کرنیکے صدارتی اختیار کو سلب کر لئے جانے کیطرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ اس بات کی علامت ہے کہ خود امریکی عوام بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگی جنون سے تنگ آ چکے ہیں۔ انہوں نے ایران کے حوالے سے عالمی بحران پیدا کرنے پر امریکی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور اس بحران سے نکلنے کا واحد رستہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کیطرف سے غلطی کا اعتراف اور اصلاح احوال قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی حکومت نے غلط مقام اور غلط وقت پر اپنا دہشتگردانہ اقدام انجام دیا ہے جس کے عوامی ردعمل کو ہم کنٹرول نہیں کر سکتے جیسا کہ خود امریکہ بھی کنٹرول نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ غلط اقدامات اٹھانے والا فریق ہی اسکے ردعمل کا بھی ذمہ دار ہوتا ہے لہذا کیا اس عوامی ردعمل کا ذمہ دار "ڈونلڈ ٹرمپ" کے علاوہ کوئی اور ہو سکتا ہے؟ ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ جنرل قاسم سلیمانی خطے میں بھڑکتے جنگ کے شعلوں کو بجھانے میں مصروف تھے جبکہ انہیں ایک امن مشن کے دوران امریکہ کیطرف سے نشانہ بنایا گیا۔
خبر کا کوڈ : 844623
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش